اسامہ بن لادن مزید مہنگے ہو گئے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سینکڑوں بے گھر گداگر صدر بش کی رسم تاجپوشی کے بعد واشنگٹن ڈی سی کی سڑکوں پر واپس آگئے ہیں۔ ان کو یخ بستہ پلوں کے نیچے سے اور عمارتوں کے کونوں کھدروں سے پولیس نے اس لئے نکال دیا تھا کہ کون جانے ان پھٹے پرانے کپڑوں والوں میں کتنے ڈرٹی ایٹم بم لیے ہوئے ہوں؟ بیچارے بے گھر لوگ آزادی پر خطاب کیا سنتے، وہ تو سڑکوں پر بیٹھنے کی آزادی سے بھی محروم ہو گئے تھے۔ دوسرے شہروں سے آئے ہوئے مظاہرین بھی آنکھوں میں آزادی کے خواب سجانے کی بجائے سرخ مرچیں بھر کر چلے گئے۔ صدر بش نے اپنے خطاب تاجپوشی میں 40 مرتبہ آزادی کا لفظ استعمال کیا اور متعدد مرتبہ خدا اور خالق کل کا بھی۔ٹیپ کا بند یہ تھا کہ ’ہماری آزادی کی بقا دوسرے ملکوں میں آزادی کی کامیابی پر ہے‘۔ اس سے ان کی مراد نہ ہی عراق اور نہ ہی فلسطین ہو سکتا ہے کیونکہ ان کا تو سارے فسانے میں کوئی ذکر نہیں تھا۔ بہر حال ان کے تصور آزادی میں کوئی ایسی بات تھی کہ ان کے والد ماجد، سابقہ صدر، سینئر بش کو آکر صفائی دینا پڑی کہ ’لوگ خواہ مخواہ آزادی کا الٹا سیدھا مطلب نکال رہے ہیں۔‘ دنیا اس آزادی پر اس لئے بھی مشکوک ہے کہ سارے خطاب میں انسانی حقوق کی بات نہیں ہوئی- اگر صدر بش انسانی حقوق کی بات کرتے تو شاید گونتانوموبے، ابو غریب کی بھی بات ہوتی۔
حقیقت تو یہ ہے کہ صدر بش کا مخاطب صرف ان کے وہ ووٹر تھے جن میں قدامت پرست عیسائی، عالمی کارپوریشنیں، روساء و امراء اور وہ جن کا کاروبار ساتویں بحری بیڑے کے ساتھ وابستہ ہے۔ ان سب کو اپنے خلیفہ خدا ہو نے کا یقین بھی ہے اور وہ دنیا پر حکمرانی کو اپنا حق بھی سمجھتے ہیں۔ یہ علیحدہ بات ہے کہ امریکہ خود ایسا ملک بنتا جارہا ہے کہ امریکی مسلمان تو کیا ملک کی سب سے بڑی ڈیموکریٹک پارٹی کے سفید فام لوگ بھی کہتے ہیں کہ ’چلی ہے رسم کہ کوئی نہ سر اٹھا کے چلے‘ آخر میں غلام بنانے والا خود غلام ہو جاتا ہے۔ ٭٭٭٭ پچھلے ہفتے امریکہ کی نامزد وزیر خارجہ کونڈالیزا رائس کی پیشی دلچسپ افواہوں کا موضوع بنی رہی۔ پریس ٹرسٹ آف انڈیا (یا عالمی پریس ) نے ان سے یہ بیان منسوب کیا کہ ’میں کھلے بندوں بتا نہیں سکتی لیکن امریکہ کے پاس منصوبہ ہے کہ کس طرح پاکستان میں ایٹمی اسلحہ انتہا پسندوں کے ہاتھ لگنے سے روکا جائے گا‘ یہ بیان کافی اچھالا گیا لیکن خبر یہ ہے کہ یہ انہوں نے کہا ہی نہیں تھا۔ ان کی پیشی میں کوئی چٹپٹی خبر تھی نہیں لہذا گھڑ لی گئی۔
ویسے اس پیشی میں زیر بحث تو کیلیفورنیا کی خاتون سینیٹر باربرا باکسر کا وہ بیان ہونا چاہئے تھا جو انہوں نے دانت پیس پیس کر ادا کیا جس سے ڈاکٹر رائس کا رنگ پیلا پڑگیا۔ انہوں نے اپنا بیان شروع ہی اس فقرے سے کیا کہ فی الحال مجھے کچھ پوچھنا نہیں ہے بلکہ صرف یہ بتانا ہے کہ تم کتنی جھوٹی ہو۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’تم کس طرح کی انسان ہو جو سونامی کے المیے کو امریکہ کے لئے سنہری موقع قرار دی رہی ہو۔‘ ڈاکٹر رائس کو عراق جنگ میں امریکی عوام کو ورغلانے پر کافی لتاڑا گیا۔ عراق کی بارے میں ہی واشنگٹن پوسٹ میں لکھتے ہوئے امریکہ کے سب سے بڑےسفارتکار اور دنشوران، ڈاکٹر ہنری کسنجر اور جارج شلز نے کہاہے کہ اگر امریکہ عراق میں جنگ ہار گیا یا وہاں معاملات سدھارنے سے پہلے ہے نکل آیا تو امریکہ بطورسپر پاور کے ختم ہو جائے گا۔ ٭٭٭٭ ہندوستان کے چونتیس کے مقابلے میں پاکستان کےتیرہ نوجوان مقابلے کے لئے پہنچ گئے ہیں۔ بات نہ تو پاک ہند سرحدوں کی ہورہی ہی اور نہ ہی کھیل کے میدان کی۔ یہ ذکر ہو رہا ہے امریکہ کی کانگریس اور سینٹ کا جہاں دونوں ملک ویسے ہے بر سر پیکار رہتے ہیں جیسے کشمیر کے بارڈر پر۔ شاید اس میں تھوڑی بہت مبالغہ آرائی ہو لیکن ہندوستان اور پاکستان کی ہر مقابلہ بازی جنگ ہی ہوتی ہے۔ وہ پاکستانی اور ہندوستانی خواتین و حضرات جو امریکی کانگریس مینوں اور سینیٹروں کے نائیبین کا کام کرتے ہیں سفارت کاری کی جنگ میں اہم سپاہی مانے جاتے ہیں کیونکہ خارجہ پالیسی میں ان کے مشورے بھی سنے جاتے ہیں۔اس لئے دونوں ملکوں کے تارکین وطن کی کوشش ہوتی ہے کہ ان کے زیادہ سے زیادہ لوگ کانگریس مینوں اور سینیٹروں کے ساتھ بطور اسسٹنٹ لگ جائیں۔ واشنگٹن میں پاکستان کے نائب سفیر جناب محمد صادق کہتے ہیں کہ چند سال پیشتر صرف ہندوستانی ہی کیپیٹل ہل پر پائے جاتے تھے لیکن پاکستانیوں نے بصد کوشش نوجوانوں کی خاصی تعداد وہاں پہنچا دی ہے۔ اب بھی ہندوستانی کافی زیادہ ہیں لیکن ان آبادی کے تناسب سے ہماری موجودگی معقول ہے۔ اس مقصد کے لیے پاکستانی سفارت خانے نے انٹرن شپ کا پروگرام شروع کیا ہوا ہے جس میں زیر تعلیم یا تازہ تازہ تعلیم یافتہ پاکستانی امریکی تربیت کے لیے آسکتے ہیں۔ ٭٭٭٭ امریکہ کی فلمی انڈسٹری کے اعلی ترین ایوارڈوں کی نامزدگی ہو گئی ہے لیکن تمام قدامت پرستوں کو خوشی یہ نہیں کہ ان کی کسی پسندیدہ فلم کو نامزد کیا گیا ہی نہیں بلکہ ان کی مسرت یہ ہے کہ مائیکل مور کی فلم 11/9 کو کسی ایوارڈ کے لئے نامزد نہیں کیا گیا۔ظاہر بات ہے کہ مائیکل مور کو یورپ میں ہی انعام مل سکتا تھا امریکہ میں تو امریکہ دوست فلموں کو ہی اعزاز دیا جاتا ہے۔ ویسے جن کو بہت بڑا نقد انعام لینا ہے ان کے لئے بش انتظامیہ نے اعلان کیا ہے کہ اسامہ بن لادن اور ملا عمر کو پکڑوائیں اور 50 ملین ڈالر لے لیں۔ اس سے پہلے ان کو پکڑوانے کا انعام 25 ملین رکھا گیا تھا۔ لگتا ہے کہ امریکہ کو شک ہے کہ یہ دونوں حضرات ایسے لوگوں کے علم میں ہیں جن کے لئے 25 ملین ڈالر کافی نہیں ہیں۔ کیونکہ اگر کسی عام انسان کو ان کا علم ہے اور اس کو امیر ہونے کے لئے پکڑوانا ہے تو چند لاکھ ڈالر ہی کافی تھے۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اسامہ بن لادن اور ملا عمر کو پکڑوانے والوں نے کہا ہو کہ وہ 25 ملین میں نہیں 50 ملین میں یہ کام کریں گے۔دیکھتے ہیں خوش قسمتی یا بے وفائی کس کا دروازہ کھٹکھٹاتی ہے؟ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||