BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 22 January, 2005, 09:49 GMT 14:49 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
شہری آزادی کا نیا امریکی ’خواب‘

بش
امید ہے کہ جب صدر بش کی تاجپوشی کے موقع پر پیش کیے جانے والے ’تصورِ آزادی‘ کے ثمرات کراچی پہنچیں گے تو وہاں کھالیں جمع کرنے پر لگی پابندیاں اٹھ جائیں گی اور شاید عید پر بھی دفعہ 144 نہ لگے۔ یہ بھی ایک دلچسپ امر ہے کہ صدر بش کی رسم تاجپوشی اور سعودی عرب کے علاوہ بہت سے مسلمان ملکوں میں عید قربان ایک ہی دن پر پڑی۔

صدر بش کے خطاب سے یہ بھی واضح ہوگیا کہ سال میں ایک دفعہ اجتماعی کھالیں جمع کرنے والے ملکوں میں سے کچھ کو تو آزادی کی اتنی ہی ضرورت ہے جتنی کیوبا یا شمالی کوریا کو ہے یا دیوار برلن گرنے سے پہلے مشرقی یورپ کے ملکوں کو تھی۔ کھالوں کا مسئلہ اتنا اہم نہ ہوتا تو بڑے بڑے لیڈر اور حکومت پاکستان کے ذمہ دار وزیر اس کے لئے اتنے لمبے چوڑے ضابطے نہ بناتے۔ صدر بش بھی یہی کہہ رہے ہیں کہ دنیا میں جو کھالیں اتار سکتا ہے یا جمع کرسکتا ہے اس کو اس کی پوری آزادی ہونی چاہئے۔

صدر بش کی رسم حلف اور آزادی پر خطبے کے لیے واشنگٹن ایک ایسا قلعہ بن گیا تھا جس پر دشمن کسی وقت بھی حملہ کر سکتا ہے۔ ہر سڑک اور عمارت پر سنسر لگے ہوئے، پولیس اور فوج کے پہرے میں جکڑی ہوئی یخ بستہ سڑکیں، چاروں اور دشمن کے جہاز گرانے کے لئے میزائل چوکس ، فضا کو مزید ہیبت ناک بنانے کے لئے فضا میں گردش کرتے ہیلی کاپٹر اور جنگی طیارے۔ قطار اندر قطار فوجی بینڈ باجوں کے دستے!

صدر بش
اہل واشنگٹن نے اپنے شہر کو کبھی اندر سے اتنا کمزور اور ذرا ہوا نہیں دیکھا ہوگا۔ اس جنگی قلعے میں بیٹھ کر سہمے ہوئے لوگوں کے آزادی کے خواب کیا اور سراب کیا! سہمے ہوؤں کو اپنے خوف پر قابو پانے کے لئے چلانا پڑتا ہے، اپنی بے یقینی کو دور کرنے کے لئے ایک ہی بات کو بار بار دہرانا پڑتا ہے جیسے صدر بش کی تقریر میں آزادی پھیلانے کا عزم۔

صدر بش کی دنیائے عالم میں آزادی پھیلانے اور جبرواسبتداد ختم کرنے کے روح ہلا دینے والے خطاب سے پہلے نائب صدر ڈک چینی ٹریلر چلا چکے تھے۔ انہوں نے ایم ایس این بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ ایران کا نیوکلیر پروگرام بہت سرگرم ہے اور ایران وہ ملک ہے جو دنیا میں سب سے زیادہ دہشت گردی پھیلانے والا ملک ہے۔ اس کے بعد صدر بش کے خطاب کے اصل معانی سمجھنا کچھ مشکل نہیں ہونا چاہیے تھا۔

صدر بش کی تقریر کا واضح پیغام یہ تھا کہ امریکہ پری ایمپٹِو وار یا حفظ ماتقدم کی جنگ کی پالیسی جاری رکھتے ہوئے دوسرے ملکوں پر حملے کا حق استعمال کرتا رہے گا۔ لہذا امریکی عوام کو مستقبل کی جنگوں کے لئے تیار رہنا چاہیے۔ ان کی تقریر میں آزادی کے لفظ کا بکثرت استعمال تو اور بھی خوفناک تھا کیونکہ اس کی تکرار سے اندازہ ہوتا تھا کہ وہ کتنی شد و مد سے امریکی عوام کو مستقبل قریب کی جنگ کے لئےتیار کر رہےہیں۔

ایران
ان کی تقریر کا مخاطب ان کے وہ قدامت پرست ووٹر بھی تھے جو اپنے آپ کو اعلی وارفع سمجھتے ہوئے دنیا کو فتح کرنے کے خواب دیکھتے ہیں۔ اور وہ اسرائیل کے حامیوں سے بھی کہ رہے تھے کہ فکر کی کوئی ضرورت نہیں ہے میں ہوں نا اور سب نیو کانز یا نئے قدامت بھی نہ صرف میری حکومت میں ہیں بلکہ ترقی کرکے وزیر خارجہ جیسی گدیوں تک پہنچ چکے ہیں۔

امریکی عالمی پالیسی کے طالب علموں کے لیے صدر بش کی تقریر کوئی معمہ نہیں ہونا چاہئیے۔ جب امریکہ کا مقابلہ کمیونسٹ ملکوں کے ساتھ تھا تو اس وقت بھی امریکی رہنما اس طرح کے بڑے بڑے دعوے کیا کرتے تھے لیکن ان سب کی نظر میں آزادی کےحق دار سرخ ملکوں کے شہری ہی ہوا کرتے تھے۔ ساری تقریریں انہی کو ترغیب دینے کے لئے ہوتی تھیں کہ وہ کسی بھی طرح بھاگ کر امریکہ آجائیں جہاں ان کو گرین کارڈ اور دوسری سہولتیں فورا فراہم کی جاتی تھیں۔

اسی زمانے میں دنیا میں بد ترین فوجی آمریتیں قائم تھیں جن میں اکثریت امریکہ کی اتحادی تھیں اور کچھ تو قائم ہی ڈالر اور امریکی فوج کی مدد سے ہوئی تھیں۔ جنوبی اور لاطینی امریکہ کا تقریبا سارا براعظم سی آئی اے کی معاونت سے فوجیوں کے قبضے میں تھا، یہی حال افریقہ اور ایشیا کا تھا۔ جنوبی کوریا سے لے کر پاکستان اور ایران تک بوٹوں والی سرکاریں یا پھر بادشاہ اور شیوخ تھے اور یہ سب امریکہ کے چہیتے تھے۔ ان میں ایران جیسے ملکوں میں تو سی آئی اے نے پروان چڑھتی جمہوریت کا گلہ گھونٹ کر بادشاہت قائم کی تھی۔

دیوار برلن گرنے کے بعد امریکہ کے دشمن اور دوست بدل گئے۔ آزادی اور جمہوریت کے حق دار ان ملکوں کے شہری ہوگئے جو بوجہ امریکہ کے دشمنوں کی نئی لسٹ پر ہیں۔ ان میں سر فہرست عراق اور ایران تھے۔ عراق میں تو جو ہورہا ہے وہ سامنے ہے لیکن ایران ابھی تک چوہے بلی کا کھیل کھیل رہا ہے۔ لیکن بکرے کی ماں کب تک خیر منائے گی؟ بروز عید قربان ڈک چینی نے جنگ کا طبل بجا دیا ہے اور بش نے عراق جنگ سے پہلے کی لکھی تقریریں جھاڑ پونچھ کر دوسری مدت کی لئے تیار کر لی ہیں۔

اب ایک مرتبہ پھر جھوٹی تقریریں ہوں گی، ایران کے کونے کونے میں ایٹمی بموں کی موجودگی کے دعوے ہوں گے، ایران ہر دہشت گرد حملے کا معاون ثابت کیا جائے گا، کونڈالیزا رائس بنا معذرت کے اقوام متحدہ میں ایران کے خیالی اسلحے کے من گھڑت ثبوت پیش کریں گی، اسرائیل کی فضائیہ حملے کرے گی یا امریکہ کا بحری بیڑا اس کام کی لئے استعمال ہوگا وغیرہ وغیرہ سعودی عرب، اردن، مصر اور امارات میں پہلے کی طرح جموریت کی کوئی خاص ضرورت محسوس نہیں ہوگی، پاکستان میں فوجی مارکہ جموریت امریکہ کو من پسند رہے گی۔ بس جموریت اور آزادی ایران کو چاہیے ہوگی جہاں پہلے ہی منتخب حکومت قائم ہے۔

سوچنے کی بات یہ ہے کہ ایران کا قصور کیا ہے؟ اسرائیل کے پڑوس میں وہ واحد اسلامی ملک ہے جس کی کافی آبادی ہے، لوگ پڑھے لکھے ہیں اور ملک کے پاس تیل کے ذخائر ہیں۔ وہ اسرائیل کے لئے مستقبل میں خطرہ بن سکتا ہے۔

گولڈن گلوبواشنگٹن ڈائری
لوتھر کنگ، بگلیہارڈیم اور گولڈن گلوب ایوارڈ
واشنگٹنامریکہ کے نئے پردھان
قانون اور سلامتی کے نئے سربراہ کون؟ منظور اعجاز
ڈالرڈالر کی ناقدری
قیمت چین اور جاپان بھریں گے: منظور اعجاز
جاپانگڑیوں کے دیس میں
’جاپانی ایک دن کے لیے عیسائی ہو جاتے ہیں‘
پرانی کاریںجاپان میں پاکستانی
جناح، جینااور پرانی کاریں: منظور اعجاز کا کالم
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد