ایف سولہ نہیں تواورئین ہی سہی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آج کل جس طرح امریکہ پاکستان کو اسلحہ فراہم کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے اس سے لگتا ہے کہ بہت جلد پاکستان اور ہندوستان میں اسلحے کے دوڑ شروع ہو سکتی ہے۔ پینٹاگون نے پاکستان کو 2ء1 بلین ڈالر کا اسلحہ دینے کا منصوبہ بنایا ہے۔ اس میں ایف سولہ طیارے شامل نہیں ہیں لیکن پاکستانی سفارت کار جناب محمد صادق کا کہنا ہے کہ اس کی جگہ اوریئن پی تھری مل رہے ہیں جس سے پاکستان کی بحریہ محفوظ ہو جائے گی اور کوئی بھی ملک آسانی سے کراچی پر بحری حملہ نہیں کر سکے گا۔ یہ نظام آنےوالی آبدوزوں کی نشاندہی کر کے ان کا مقابلہ کرنے کا راستہ ہموار کرسکتا ہے۔ سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ ہندوستان بھی یہ نظام حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ہندوستان کی ساری توجہ اس بات پر تھی کہ پاکستان کو ایف سولہ نہ ملیں لیکن اس کو اندازہ نہیں تھا کہ پاکستان اس سے بہتر نظام حاصل کر رہا ہے۔ ٭٭٭٭ امریکی اہلکار آج کے................ الیکشنوں میں باوجود............... کی الیکشن کے خلاف دہشت گردی کی دھمکیوں کے ووٹ دینے والوں کی بھاری تعداد پر حیران بھی ہیں اور ان کا حوصلہ بھی بڑھا ہے۔ اس جملے میں دو خالی جگہوں پر آپ عراق اور القاعدہ بھی لگا سکتے ہیں اور جنوبی ویت نام اور ویت کانگ بھی۔ لیکن ہم نے یہ فقرہ نیویارک ٹائمز کے 4 ستمبر 1967 کے شمارے میں پیٹرگاس کی صفحہ دو پر چھپی رپورٹ سے لیا ہے۔ رپورٹ کی شہ سرخی ہے’امریکہ کی ویت نام ووٹ سے حوصلہ افزائی‘ اور اس کی دوسری سرخی ہے کہ ’اہلکاروں کا کہنا ہے کہ باوجود ویت کانگ دہشت گردی کے 83 فیصد لوگوں نے ووٹ دیئے‘۔ خبر کے متن کے کچھ حصے ملاحظہ فرمائیے۔
’ سائیگون سے ملنے والی رپورٹوں کے مطابق58ء5 ملین ووٹروں میں سے 83 فیصد نے اپنا ووٹ دیا اور ان میں سے بہت سے لوگوں نے ویت کانگ کی دھمکیوں کے خلاف خطرہ بھی مول لیا‘۔ ’صدر جانسن کی پالیسی رہی ہے کہ جنوبی ویت نام میں انتخابات کےذریعے آئینی ارتقاء کی حوصلہ افزائی کی جائے۔ انتخاب جنوری 1966 میں کیے جانے والے آئینی عمل کا حصہ تھا۔ اس کی یقین دہانی صدر جانسن نے ذاتی طور پر کروائی تھی‘۔ ’الیکشن کا مقصد سائیگون کی حکومت کو جائز بنانے کی کوشش تھی کیونکہ اس حکومت کی بنیاد ہی کودتاؤں اور محلاتی سازشوں پر رکھی گئی تھی‘۔ غالبا عراق کے الیکشنوں پر مزید تبصرے کی ضرورت نہیں ہے لیکن یہ بتاتے چلیں کہ صدر بش جموریت کی ڈرامے کو اتنی سنجیدگی سے لے رہے ہیں کہ انہوں نے نہ صرف اس کا ذکر اپنے سٹیٹ آف دا یونین خطاب میں کیا بلکہ اس کے لیے نیشنل سیکیورٹی میں اعلیٰ درجے کی ایک نئی پوسٹ بھی بنائی جا رہی ہے جس پر جلد کسی نمایاں شخصیت کو نامزد کیا جائے گا۔ مصدقہ ذرائع کے مطابق یہ دفتر سعودی عرب کے علاوہ دوسرے ملکوں پر جمہوریت کے لیے دباؤ ڈالےگا۔ ٭٭٭٭ صرف صدر بش ہی عراق الیکشنوں کے بعد اپنے مخالفین کو جھوٹا ثابت کرنے کے لیے تقریروں پر تقریریں نہیں کر رہے، ان کے حامی بھی ان ملے جلے فلمی ستاروں کے زخموں پر نمک چھڑکنے کا سامان تیار کر رہے ہیں جنہوں نے صدر بش کو ہرانے کے لئے سر دھڑ کی بازی لگائی ہوئی تھی۔ اکیڈمی ایوارڈ کے موقع پر صدر بش کے حامی ہالی وڈ کو طنز و تشنیع کا نشانہ بنانے کے لیے ’شکریہ‘ کے سپیشل سائن بورڈ تیار کروا رہے ہیں۔
بش کے لوگوں نے دو بڑے بڑے سائن بورڈوں کے لیے جگہ کرایے پر لی ہے جن پر اکیڈمی ایوارڈ کے دن موٹے موٹے الفاظ چمکیں گے ’تھینک یو ہالی وڈ‘۔ یہ باربرا سٹرائسن، وپی گولڈبرگ، اور مائیکل مور جیسی فلمی شخصیتوں کو شرمندہ کرنے کے لیے کیا جارہا ہے جنہوں نے مقدور بھر صدر بش کی مخالفت درہمے دامے ہر سندسز میں کی تھی۔ یہ ستارے شرمندہ ہوں گے یا نہیں لیکن لگان کے بعد اشون کمار کی پندرہ منٹ کی لٹل ٹیرارسٹ (ننھا منھا دہشت گرد) دوسری فلم ہوگی جس کو ہالی وڈ کے اکیڈمی ایوارڈ کے لیے نامزد کیا گیا ہے۔ ہندوستانی میڈیا ایک دوسری فلم ’سہواس‘ کے لیے ڈھول پیٹ رہا تھا لیکن ’لٹل ٹیرارسٹ‘ کی بہترین مختصر فلموں کے زمرے میں نامزدگی نے سب کو حیران کر دیا ہے۔ اس مختصر فلم کے ڈائریکٹر اور پروڈیوسر اشون کمار مشہور فیشن ڈیزائنر ریتو کمار کے صاحبزادے ہیں۔ انہوں نے لندن سکول آف فلم میکنگ سے تعلیم حاصل کی ہے۔ یہ فلم ایک پاکستانی بچے کی کہانی ہے جو کہ بھٹک کر ہندوستانی علاقے میں چلا جاتا ہے اور اس پر دہشت گرد ہونے کا شک ہے۔ فلم کا پلاٹ اس بچے کے سفر اور واپسی پر مبنی ہے۔ یہ فلم اس سے پہلے بھی کئی عالمی انعامات جیت چکی ہے۔ پاکستانی بچے کی کہانی اور ہندوستانی ڈائریکٹر، ہالی وڈ کو توجہ دینا ہی چاہیےتھی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||