دیس پردیس ہو گیا۔۔۔ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اس کو اپنے صحن میں لگے نیم کے پیڑ پر بہت فخر ہے۔ اور ہو بھی کیوں نہ؟ کیونکہ اس کا کہنا ہے کہ لاہور شہر میں نیم کے پیڑوں کو شاید ایک ہاتھ کی انگلیوں پرگنا جا سکتا ہے۔ لاہور شہر میں تو پھر بھی اس طرح کے روایتی پیڑ مل جائیں گے لیکن میرے جانے پہچانے دیہی علاقوں میں نیم تو کیا دھریک کا پیڑ ڈھونڈنا بھی کارے دارد ہے۔ صرف یہی نہیں کیکر، شیشم، شہتوت اور پیپل کے درخت بھی شاید ہمیشہ ہمیشہ کے لئے غائب ہو چکے ہیں۔ اگر معدوم ہونے والے پیڑوں کی فہرست بنانا شروع کر دیں تو پورا دفتر کھل جائے گا۔ آدھی عمر واشنگٹن میں گزار کر بھی یہ احساس ہمیشہ غالب رہا کہ یہ ملک میرے لئے اس لئے بیگانہ ہے کہ میری اس کے فطری منظر کے ساتھ شناسائی نہیں ہے۔ نہ مجھے اس ملک کے پودوں، جھاڑیوں اور درختوں کے ناموں کے ساتھ آشنائی ہوئی اور نہ ہی اس ملک کے اکثر پرندوں کی جانکاری نصیب ہوئی۔ اس کے الٹ ہمیشہ فخر محسوس ہوتا رہا کہ مجھے اپنے دیس کے ہر درخت اور ہر جنگلی جڑی بوٹی کی وضع قطع تو کیا اس کی خوشبو سے ایسے ہی آشنائی ہے جیسا کہ اپنے سانسوں سے۔ اور ملک سے باہر رہتے ہوئے یہی لگتا رہا کہ کسی ملک کا قدرتی منظرنامہ ہی شناسائی اور بیگانگی کا ٹیسٹ ہیں۔ اب جب اپنے دیس کو اس پہلو سے دیکھا تو پتہ چلا کہ اس کے فطری منظر میں اتنی تبدیلی آ چکی ہے کہ وہ بھی ناآشنا ہو چکا ہے۔ اپنے دیس کے پیڑوں، پودوں، جھاڑیوں اور بیلوں کو بڑھتی ہوئی آبادی چٹ کرگئی یا نقد فصلوں کی طمع تباہ کر گئی۔ اس کی جگہ جہاں ضرورت محسوس ہوئی وہاں پاپلر اور سفیدے کے درختوں کی بھر مار کر دی گئی۔
نئی نسل کے حاکموں نے شہروں کی سجاوٹ کے لئے کھجور کے مہنگے داموں منگوائے ہوئے درخت لگوائے یا پھر مغربی ملکوں سے ایسے پودے درآمد کئے گئے جن کا اس ملک کی مٹی کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔ عرب ملکوں سے منگوائے گئے کھجور کے درخت اور مغرب سے درآمد کئے گئے پودے ملک کی ذہنی پیچیدگی اور بیگانگیت کے بہترین یا بدترین مظاہر ہیں۔ اس بیگانگیت کا قصوروار بیرونی طاقتوں کو بھی نہیں ٹھہرایا جا سکتا کیونکہ انگریزوں کا قائم کیا ہوا باغ جناح ہی ایسا پارک ہے جس میں ہر دیسی درخت اور پودے کی نمائندگی موجود ہے۔ جناح پارک میں دیسی کیکر بھی مل جاتا ہے اور پیپل اور برگد بھی۔ اس کے برعکس ہمارے دیسی حکمرانوں کے بنائے ہوئے نئے پارکوں میں ایک بھی دیسی پیڑ یا جھاڑی کا وجود نہیں ہے۔ جب دیس میں ہر جگہ درخت ہی بیگانہ ہوگئے تو اس دیس کے پرندے بھی کہیں ہجرت کر گئے۔ اب کووں کے علاوہ کوئی پرندہ دکھائی دینا کافی مشکل ہے۔ ہمارے دیس کے پرندوں کو ان اجنبی پیڑوں میں گھونسلے بنانے نہیں آتے اس لئے وہ منہ چھپا کر کہیں اور چلے گئے ہیں۔ سونامی طوفان کے دوران یہ حقیقت کھل کر سامنے آئی تھی کہ جنگلی جانوروں اور پرندوں کو آنے والی مصیبت کا پہلے سے ہی علم ہو چکا تھا لہذا وہ پہلے سے ہی نقل مکانی کر گئے تھے۔ شاید پاکستان کے پرندوں کی گروہی ہجرت بھی بدلتے ہوئے سیاسی اور سماجی موسموں کا اشارہ تھا۔ پاکستان میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی اور اجنبی نظریات کی سونامی یلغار کی پیش گوئی یکسر بدلتے ہوئے فطری منظر کے حوالے سے بہت پہلے کی جا سکتی تھی۔ پاکستان میں ہونے والی معاشی ترقی سے کسی بھی طرح انکار نہیں کیا جا سکتا لیکن یہ ترقی پرانے قدرتی نظام کی مکمل تباہی کی بنیاد پر وجود میں آئی ہے۔ یورپ اور امریکہ میں پرانے فطری نظام کو بچانے کی مقدور بھر کوشش کی گئی ہے۔ یہاں تک کہ بھیڑیوں اور چیلوں تک کو تباہی سے بچانے کے لئے پارک بنائے گئے۔ لیکن پاکستان جیسے ملک میں اپنے پرند و چرند کی حفاظت تو ایک طرف ان کو ختم کر دینے والی کھادوں اور کیڑے مار دواؤں سے بھی گریز نہیں کیا گیا۔ پاکستان جیسے ممالک میں فطری نظام کی مکمل تباہی اور اجنبی درختوں اور پودوں کی بھرمار کسی بڑے طوفان کا پیش خیمہ ہیں۔ کب کیا ہوگا یہ بتانا مشکل ہے لیکن یہ حقیقت ہے کہ اب پاکستان بھی ویسا ہی بیگانہ ملک ہے جیسا کہ امریکہ۔ اور ہاں اب شاید خواجہ غلام فرید اپنی پیاری روہی کو پہچان بھی نہ سکیں۔۔۔! |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||