منظور اعجاز لاہور، پاکستان |  |
جناب اس نے ایس پی ملتان کو موٹروے پر روک کر اور سپیڈنگ کا ٹکٹ پکڑا دیا۔ جب ایس پی نے پوچھا کہ تمہیں معلوم ہے کہ تم کس کو ٹکٹ دے رہی ہو تو اس نے کہا کہ سر مجھے اچھی طرح علم ہے کہ میں ایک ایس پی کو ٹکٹ دے رہی ہوں اور آپ کو یہ بھی بتاتی چلوں کہ خدا قسم اگر مشرف بھی میرے علاقے میں اور سپیڈنگ کریں گے تو ان کو بھی آپ کی طرح جرمانہ کروں گی۔ گاؤں میں بہت سے لوگوں نے موٹروے کی خاتون پولیس پیٹرولر کو میرے سامنے ایسے پیش کیا جیسا کہ وہ خاندان غلاماں کی جنگجو ملکہ رضیہ سلطانہ کا قصہ سنا رہے ہوں۔ لیکن اس کے الٹ پنجاب یونیورسٹی کی ایک خاتون پروفیسر نے اپنا رونا روتے ہوئے بتایا کہ یہ پہلی مرتبہ دیکھنے میں آیا ہے کہ ان کی پچاس فیصد سے زیادہ طالبات خوفناک قسم کے برقعے اور حجاب پہن کر کلاسوں میں آرہی ہیں۔ پاکستان مثالی قسم کا شیزیوفرینک مریض ہے جس میں ایک طرف توخواتین پولیس میں بھرتی ہو کر مردوں کے لئے بھی مثالی کردار بن رہی ہیں اور دوسری طرف خواتین ملک کے اعلی ترین اداروں میں حجابوں کے پیچھے چھپ رہی ہیں۔ کچھ اسی طرح کی صورت حال پاکستان کے دو سال پہلے کے دورے میں دیکھنے میں آئی تھی جب گاؤں کی ایک ہی گلی میں سائیکل سوار لڑکی بھی دیکھنے کو ملی تھی اور داڑھی پوش جہادی نوجوان بھی جو قربانی کا گوشت کھانے سے اس لئے منکر تھا کہ اس پر ختم درود پڑھا گیا تھا۔ایک دوست نے شیزیوفرینک کا ترجمہ کھسکا ہوا کیا۔ مجھے ایک دم سے ان کی بات دل کو لگی کہ نئے اور پرانے کی کشمکش میں پاکستان کھسک گیا ہے اور کھسکے ہوئے انسان کی طرح اس کی حرکات و سکنات بھی بے ترتیب ہیں۔ کہیں وہ دنیا کا جدید ترین ملک بن جاتا ہے تو دوسرے معاملات میں وہ پتھر کے زمانے میں چلا جاتا ہے۔ . پاکستان کا یہ کھسکاپن صرف ذاتی رویوں تک محدود نہیں ہے بلکہ معاشی میدان میں بھی متضاد محرکات عمل پیرا ہیں۔ایک طرف تو دیہات شہروں کے گیٹو یا کچی آبادیاں بن رہے ہیں اور دوسری طرف شہروں کے خوشحال علاقوں کی سڑکیں بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں۔ ایک طرف تو موٹروے کی چکنی سڑکیں پھیل رہی ہیں اور دوسری طرف لاہور کے ماڈل ٹاؤن کے اندر بھی جا بجا گڑھے کھدے ہوئے ہیں۔ سب سے زیادہ تبدیلی دیہاتوں میں آرہی ہے۔ ہر سال اتنا کچھ بدل جاتا ہے کہ اس کو ہضم کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ چودہ مہینے کے بعد جب میں اپنے گاؤن پہنچا تو دیکھا کہ ایک سال کے اندر گاؤں میں پانچ حمام اور تین ریسٹورینٹ کھل گئے ہیں۔ اب گاؤں میں نئی نسل کے لوگ نہ تو گھروں میں نہاتے ہیں اور نہ ہی گھر کا کھانا کھاتے ہیں۔وہ لوگ جو پاکستان کی دیہی زندگی سے واقف ہیں جانتے ہیں کہ یہ تبدیلی عجوبہ روزگار کی جیتی جاگتی مثال ہے۔ اس طرح کی تیز رفتار ترقی کا ہی نتیجہ ہے کہ ملک کی اپنی شناخت ایک گہرا اور سنجیدہ بحران بن چکا ہے جس میں ایک طرف تو خواتین ان پیشوں کا رخ کر رہی ہیں جو مردوں تک محدود تھے اور دوسری طرف رنگ برنگے حجابوں کی انارکلی بازار میں بکری بڑھ رہی ہے۔ اب ملبوسات کی دکانوں پر حجابوں کی فراہمی عام ہے۔ شناخت کا مسئلہ صرف خواتین تک محدود نہیں ہے بلکہ ہر کس و ناکس کسی نہ کسی طرح سے اس کی زد میں ہے۔پاکستان کے کھسکے پن کا کبھی مذہبی پارٹیوں کو اور کبھی امریکہ کو ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس کی اصل وجہ وہ سماجی اتھل پتھل ہے جو معیشت کی برق رفتار تبدیلیوں کی وجہ سے آرہی ہے۔ اور ہاں اس طرح کا کھسکا پن ہر اس معاشرے کا خاصہ ہے جو اس عمل سے گزر رہا ہے۔ ہندوستانی پنجاب میں گرین انقلاب کے ساتھ ساتھ خالصتانی تحریک اس کی ایک واضح مثال ہے۔ اس صورت حال پر بجا طور پر کہا جا سکتا ہے کہ: رو میں ہے رکش عمر کہاں دیکھئے تھمے نہ باگ ہاتھ میں ہے نہ پا ہے رکاب میں |