کلاسیکی موسیقی پھر مرحوم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں کلاسیکی موسیقی کی شہادت کے سب سے زیادہ پرسوز ذاکر ، حیات احمد خان، اس دنیائے رنگا رنگ میں زندگی 83 کے سال گزار کر رخصت ہو گئے۔ ان کی بڑی بیٹی ڈاکٹر غزالہ اس رائے سے متفق ہیں کہ انہوں نے اپنی زندگی اپنی مرضی سے گزار ی بلکہ آل پاکستان میوزک کانفرنس کے بعض شرارتی شائقین کو ڈانٹ ڈانٹ کر گزار ی۔ جن لوگوں نے حیات احمد خان کو حاضرین کو ڈانٹتے دیکھاہے ان کے چہروں پر وہ منظر دھیان میں لاتے ہی مسکراہٹ کے پھول کھل جاتے ہیں۔ ویسے تو ہم ہر مرنے والے کے بارے میں عادتا کہتے ہیں کہ مرحوم اپنی شخصیت میں انجمن تھے، یاادارہ تھے لیکن جناب حیات احمد خان کے بارے میں تو یہ بات حرف بہ حرف درست ہے کہ پاکستان میں کلاسیکی موسیقی کا سالانہ جشن منعقد کرنے والے اس ادارے کا نام حیات احمد خان تھا جسے سرکاری طور پر آل پاکستان میوزک کانفرنس کے نام سے جانا جاتا ہے۔ انہیں شہادت موسیقی کا سب سے زیادہ پر سوز ذاکر بلا وجہ ہی نہیں کہا گیا کیونکہ انہوں نے اس کانفرنس کا آغاز ہی ایک موسیقار کو ترک فن سے روکنے کے لیے ہوا تھا۔ ان سے یہ واقعہ اس طرح روایت ہے کہ جب ملکہ موسیقی روشن آراء بیگم نے سامعین کی نا موجودگی سے دل برداشتہ ہو کر گانا ترک کرنے کا اعلان کیا تو حیات احمد خان تڑپ اٹھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’جب روشن آراء گانا گاتی ہیں تو اپنے دہرے جسم اور بہت سانولے رنگ سے باہر نکل کر دنیا کی حسین ترین عورت بن جاتی ہیں‘۔ اس حسن نایاب کو بچانے کے لیے انہوں نے روف احمد انصاری اور راجہ غنضنفر علی کو ساتھ ملا کر آل پاکستان میوزک کانفرنس کا 1960 میں آغاز کیا۔ انہیں استاد بڑے غلام علی خان کا لاہور چھوڑ جانے کا صدمہ عمر بھر نہیں بھولا۔ وہ ان کے ریاض کی آواز سن کر موسیقی سے شناسا ہوئے تھے اور طبلہ بجانا سیکھا تھا۔ حیات احمد خان کہتے تھے کہ استاد بڑے غلام علی خان کے ہاں چوری ہو گئی جس کے لیے وہ تھانے رپورٹ کروانے گئے۔ تھانے کے محرر نے ان سے پوچھا: ’ کون ہو‘۔ ’جی غلام علی خان‘ انہوں نے جواب دیا۔ ’اچھا باہر جا کر بیٹھ جاؤ‘ محرر نے حکم سنایا۔ ’جی میں کچھ عرض کرنا چاہتا ہوں‘ استاد نے کہا۔ ’اوئے موٹے ۔ ۔ ۔ تینوں کہیا نا باہر جا کے بہہ‘۔ اس کے بعد استاد صاحب نے رپٹ تو کبھی نہ لکھوائی لیکن بوریا بستر باندھ کر ہندوستان سدھار گئے۔ خود حیات احمدخان کو بھی موسیقی سے عشق کے لیے بہر کچھ بھگتنا پڑا جب نواب امیر محمد خا ف کالا باغ نے سالانہ کانفرنس کے انعقاد پر پابندی لگا دی اور احتجاج کرنے پر خان صاحب کے وارنٹ جاری کر دیے۔ ان کی میوزک کانفرنس ضیاء الحق کے زمانے میں بھی زیر عتا ب رہی ۔ موسیقاروں کے ساتھ ہونے والے دلخراش واقعات اور کلاسیکی موسیقی کی ناقدری کا ماتم کرنے کی لیے وہ سارا سال تیاری کرتے تھےموسیقاروں کو رام کرنے کی کوششیں کرتے تھے ان کی الٹی سیدھی باتیں سنتے تھے، پیسہ کھا جانے کا الزام برداشت کرتے تھے لیکن اپنی دھن میں لگے رہتے تھے۔ ان کے ایک عزیز کا کہنا ہے کہ ’حیات احمد خان جیسا شخص پیسہ کیسے کھا سکتا، وہ تو کامیاب کاروبار اس لیے چھوڑ گیا ہے کہ اپنے ہاتھوں سے کسی کو رشوت نہیں دوں گا۔ اور یہ تھا بھی درست کہ جب رشوت کا نیا زمانہ چلا تو حیات احمد خان اپنے حجرے سے میوزک کانفرنس تک محدود ہو گیا ۔ مرحوم حیات احمد خان 1921 میں اندرون شہر پیدا ہوئے تھے اور انہوں نے اسلامیہ کالج سے ڈگری لی تھی۔ سابقہ وزیر اعظم جنا ب معراج خالد مرحوم ان کے کلاس فیلو بھی تھے اور ان کے ساتھ مل کر انٹر کالجیٹ مباحثوں میں بھی حصہ لیتے تھے۔ان کی دوستی ساری عمر نبھی۔ شاید انہی کے حوالے سے وہ پیپلز پارٹی کے گہرے ہمدرد بنے تھے۔ میوزک کانفرنس میں ان کے ساتھ محمد افضل، ارشاد چوہدری اور مسعود عزیز جیسے لوگ شامل رہے ہیں۔ انہیں 2000 میں حکومت پاکستان کی طرف سے موسیقی کی خدمات کے لیے ستارہ امتیاز ملا۔ کہتے تھے وہ انعام کی لیے فائلیں لے کر دفتر دفتر نہیں جائیں گے اس لیے ستارہ امتیاز بھی بڑی سست رفتاری سے چلتے ہوئے آخری عمر میں ان تک پہنچ پایا۔ چند سال قبل فروری لاہور جانے کا اتفاق ہوا۔ میں نے جیو ٹی وے اور جنگ کے سہیل وڑائچ سے کہا کہ مجھے جناح گارڈن کے اوپن ائیر تھیٹر چھوڑ دیں۔ انہوں نے پہاڑی کی طرف جاتی ہوئی ان گنت سیڑھیوں کو دیکھا اور پھر میری طرف دیکھتے ہوئے آنکھوں آنکھوں میں پوچھا کہ کیا تم واقعی بیساکھیوں پر چلتے ہوئے اس پہاڑی پر جانا چاہو گے؟ اور میں نے آنکھوں آنکھوں میں اپنی مجبوری کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں یہ گناہ کبیرہ نہیں کر سکتا کہ میں حیات احمد کی سالانہ آل پاکستان میوزک کانفرنس کے موقع پر لاہور میں ہوتے ہوئے بھی شرکت نہ کر سکوں، یہ کفران نعمت ہوگا۔ گرتے پڑتے پنڈال تک پہنچے تو دربان نے روک لیا ’ابھی گانا چل رہا ہے جونہی ختم ہوگا آپ کو اندر لے جائیں گے‘ میں تو بھول ہی گیا تھا کہ حیات احمد خان کی آل پاکستان میوزک کانفرنس ہر سال عین وقت پر شروع ہوتی ہے اور اگر کوئی فنکار موسیقی پیش کر رہا ہو تو اس کے خاتمے تک پنڈال میں نہیں جایا جا سکتا۔ گورنر ہو یا اقبال بانو، سب کو باہر کھڑے ہو کر انتظار کرنا پڑے گا‘ کانفرنس کا پنڈال ہر سال کی طرح مرد و خواتین سے بھرا ہوا تھا۔لوگ ہمیشہ کی طرح کمبل چادریں گاؤ تکیے لے کر آئے ہوئے تھے، مرد عورتیں ایک دوسرے کے پہلو بہ پہلو بیٹھے فن سے محظوظ ہو رہے تھے، نہ کوئی کسی کو چھیڑ رہا تھا اور نہ ہی کوئی غیر شائستہ حرکت ہو رہی تھی ۔صرف حیات احمد خان کے سجائے پنڈال کو دیکھ کر لگتا تھا کہ ہم بھی مہذب لوگ ہیں ۔ کچھ نوجوان نے تفنن طبع کے لیے نعرہ لگایا تو حیات احمد خان سٹیج پر آکر سب کو ںبردست ڈانٹ پلانے لگے، حاظرین اس سین سے بھی شناسا ہیں اس لیے مسکرا رہے ہیں کیونکہ سب کو علم ہے کہ اس حیات احمد خان لاہوری کے لیے آل پاکستان کانفرنس اور اس کے حاضرین اپنوں کا ایک کنبہ ہے جس کو ڈانٹنا وہ اپنا حق سمجھتے ہیں۔ اس پر تو وہ اولاد سے زیادہ حق مانتے ہیں کیونکہ جتنا وقت وہ اس کانفرنس کی تنظیم پر لگاتے ہیں اتنا وقت تو کسی بچے کو بھی نہیں دیتے۔ بلکہ چاہتے رہے ہیں کہ اپنی بیٹیوں، غزالہ، لالہ، سیمیں اور گل رخ کا سارا وقت بھی کانفرنس پر لگ جائے۔ کانفرنس کے دوسرے دن ان سے ملاقات ہوئی ۔ میں نے پوچھا خان صاحب ہم سے بھی چندہ وندہ لے لیجئیے! کہنے لگے نہیں، آپ ہماری کانفرنس پر لکھیں، یہی ہمارا چندہ ہے۔ مجھے یقین ہے کہ وہ چندے کی اس آخری قسط کو پڑھ کر تیوریاں چڑھا چڑھا کر مسکرا رہے ہوں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||