پاکستان: ترقی کی رفتارعارضی یادیرپا؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
موسم بہارکے آتے ہی پنسلوینیا ایوینیو کے اردگرد چیری کے پھول ایسے کھلتے ہیں کہ سارا علاقہ رنگ و بو کی بارش میں بھیگ جاتا ہے۔ یہ وائٹ ہاؤس کا علاقہ بھی ہے اور ورلڈ بینک و آئی ایم ایف بھی اسی گردو نواح میں واقع ہیں۔ جاپانیوں نے چیری کے یہ درخت تحفے میں پتہ نہیں کس لیئے دیئے تھے لیکن امریکیوں کا باوا آدم مختلف ہے کہ موسم کی یہ رنگینی شاعروں اور دل جلوں کومتوجہ کرنےکی بجائے دنیا کے معاشی منشیوں اور قومی بہی کھاتوں کے محافظ وزیروں کو اس علاقے میں کھینچ لاتی ہے۔ پاکستان کے مشیر مالیات ڈاکٹر سلیمان شاہ اور سٹیٹ بینک کے گورنر ڈاکٹر عشرت حسین واشنگٹن میں موجود تھے اور وہ جو دعوے کر رہے تھے وہ پاکستانی سامعین تو کیا امریکی دانشوروں کو بھی پریوں کی کہانیاں لگ رہے تھے۔ پاکستانی امریکی سامعین کی سمجھ میں یہ نہیں آرہا تھا کہ وہ ان ماہرین کو سچا کیسے مانیں یاجھوٹا کیسے ثابت کریں؟ ان ماہرین کے دیئے ہوئے اعداد وشمار سے لگتا ہے کہ پاکستان روئے ارض پر ایک نئی جنت بن رہا ہے لیکن تارکین وطن کا اپنا مشاہدہ ہے کہ پاکستان میں غربت اور افلاس ویسے ہی ہے جیسا کہ بینظیر کے یا نواز شریف کے زمانے میں تھی۔ موقع پر موجود تمام امریکی دانشور بھی مشکوک تھے۔ اسی لیے جناب ہاورڈ شیفر نے (جن کے بارے میں مشہور ہے کہ انہوں نے بھٹو کے بارے میں کہا تھا کہ ٹریسا شیفر نے بھی اسی انداز میں سوال کیا کہ اگر پاکستان اتنا خوشحال ہو گیا ہے تو وہ اپنے لوگوں کی حالت بہتر بنانے کے لیے سرمایہ کاری کیوں نہیں کرتا؟ پاکستان کے معیشت دانوں کے طویل بیانوں اور وضاحتوں سے پاکستان کا خوشحال ہونا ثابت تو نہیں ہوا لیکن پنجابی کے عظم شاعر شاہ حسین کی یہ کافی یاد آگئی کہ ’سب ویس شیشے دا مندر وچ شاہ حسین نمانا‘ یعنی دنیا کا سارا بہروپ شیشے کے مندر کی مانند ہے جس میں ایک بیچارہ شاہ حسین گھرا ہوا ہے۔ جنرل مشرف کا پاکستان بھی شیشے کا مندر نہیں تو شیشے کا محل بنتا جا رہا ہے جس میں بیچارہ پاکستانی ویسے ہی بھوکا پیاسا ہے جیسے پہلے تھا۔ اس شیشے کے مندر کا بنیادی مسئلہ یہ بھی ہے کہ یہ کلی طور پر امریکی ڈیزائن اور امداد سے بنا ہے اور امریکی جب بھی چاہیں اسے ایک ہی پتھر مار کر چکنا چور کر سکتے ہیں۔ اس نقطے کو واضح کرنے کے لیے وڈرو ولسن سنٹر کے باب ہاتھ وے نے پوچھا کہ کیا امریکی اعتراضات کی موجودگی میں پاکستان ایران سے گیس پائپ لائن بچھانے کے فیصلے پر قائم رہے گا؟ جناب سلیمان شاہ نے کئی مرتبہ لفظوں کے چولے بدل بدل کر حقیقت حال کو چھپانے کی کوشش کی لیکن آخر میں یہی نتیجہ نکلا کہ اگر امریکہ نے جوہری افژودگی کی بناء پر ایران پر معاشی پابندیاں جاری رکھیں تو پاکستان اس پائپ لائن سے در گذر کر کے قطر یا وسط ایشیا سے گیس پائپ لائن لانے پر توجہ مرکوز کرے گا۔ جب کونڈا لیزا رائس نے ہندوستان کو اس منصوبے کوتر ک کرنے پر کھلم کھلا زور دیا تھا تو یہ واضح تھا کہ اگر ہندوستان نہ مانا تو پاکستان کی گردن تو دبوچی ہی جا سکتی ہے۔ کونڈا لیزا رائس جانتی ہیں کہ پاکستان کا معاشی محل 11/9 کے بعد امریکی امداد اور حمایت سے کھڑا کیا گیا ہے اس لیے مشرف اور ان کے فخر سے تنے ہوئے ماہرین کبھی بھی ایرانی پائپ لائن کے لیے اپنا محل چکنا چور نہیں کریں گے۔ ڈاکٹر سلیمان اور ڈاکٹر عشرت نے پاکستان کے شیشے کے معاشی محل کا نقشہ کھینچتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی معیشت 7.5 فیصد سالانہ سے بھی بہتر انداز میں ترقی کر رہی ہے ۔ اس کے زرمبادلہ کے زخائر پہلی مرتبہ 13 ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں ، اس کی برآمدات 14 ارب ڈالر کی حدیں پھلانگ رہی ہیں جو کہ 1999 میں 7 ارب ڈالر تھیں۔ بیرونی سرمایہ کاری ایک بلین ڈالر سالانہ ہو چکی ہے اور تیس لاکھ لوگوں کو نئی نوکریاں ملی ہیں۔ ان ماہرین کی توجیہات سے یہ بات کھل کر سامنے آئی کہ ترقی ملک میں قرض کی سہولتوں کو بڑھا کر کی گئی ہے۔ اب ہر مہینے کئی ارب کا قرضہ کاریں، گھر اور دوسری اشیائے صرف خریدنے کے لیے دیا جاتا ہے۔ ظاہر بات ہے کہ کھلے ادھار پر ملنے والی اشیاء کی طلب بہت بڑھ گئی ہے اور اس کو پورا کرنے کے لیے درآمدات میں بھی اضافہ ہوا ہے اور ملک میں پیداوار بھی بڑھی ہے۔اس پر اعتراض کیا جا سکتا ہے کہ ادھار سے پیدا کی جانے والی خوشحالی کب تک چلے گی اور کیا ایک ہی دھچکے میں یہ سب کچھ بکھر نہیں جائے گا؟ حکومت کے مخالفین کہیں گے کہ مانگی ہوئی خوشحالی دیر پا نہیں ہے لیکن معیشت دان کہیں گے کہ سرمایہ دارانہ نظام میں خوشحالی بینکوں کے ادھار پر ہی چلتی ہے وگرنہ تو کوئی امریکی نہ کار خرید سکے اور نہ ہی گھر۔ سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان کا بینکاری نظام امریکہ اور مغرب کی طرح مضبوط ہے؟ کیا پاکستان کا معاشی نظام پٹرول کی قیمت کے شدید جھٹکے برداشت کر سکتا؟ اور پاکستان کے سلسلے میں تو اہم ترین بات یہ ہے کہ کیا یہ امریکہ کی ناراضگی برداشت کر سکتا ہے؟ اگر نہیں تو پھر یہ ترقی کے باوجود شیشے کا محل ہے جس کی مسماری چند پتھروں کی مار ہے! |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||