BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اب پابندیاں کب لگیں گی؟

پاکستان کا جوہری میزائل
اگر بش پارٹی کا راج ختم ہو گیا تو امریکہ پاکستان کے ساتھ کیا سلوک کرے گا؟
ایٹمی مواد کی خرید و فروخت کے بارے میں جو کہانیاں سامنے آرہی ہیں وہ پاکستان کے لئے کوئی اچھا شگون نہیں ہیں ۔ اگر تاریخ نے اپنے آپ دہرایا تو وہ وقت شاید دور نہیں جب پاکستان پر ویسی ہی معاشی پابندیاں لگیں گی جیسی کہ نوے کی دہائی میں بش سینئر نے لگائی تھیں۔ بعض مبصرین تو یہاں تک کہتے ہیں کہ سوال یہ نہیں کہ پابندیاں لگیں گی یا نہیں بلکہ سوال یہ ہے کہ کب لگیں گی۔

بنیادی اور اہم سوال یہ ہے کہ اگر بش پارٹی کا راج ختم ہو گیا اور ان کے مخالف حکومت میں آگئے یا دہشت گردی کی جنگ اہم نہ رہی تو امریکہ پاکستان کے ساتھ کیا سلوک کرے گا؟ اس وقت جتنی کہانیاں نظر انداز کی جا رہی ہیں ان کو فائلوں سے نکال کر واشنگٹن پوسٹ اور نیویارک ٹائمز کے حوالے کیا جائے گا اور پھر اللہ دے اور بندہ لے۔

لیکن ابھی وہ وقت نہیں آیا کیونکہ واشنگٹن پوسٹ کی اطلاع کے مطابق بش انتظامیہ نے پاکستان کو بچانے کے لیے مییڈیا کو یہ بتاتے ہوئے جھوٹ بولا تھا کہ شمالی کوریا نے لیبیا کو جوہری مواد کی فروخت کی ہے۔ اب جو حقیقت سامنے آئی ہے وہ یہ ہے کہ شمالی کوریا نے پاکستان کو جوہری مواد فروخت کیا تھا اور پھر پاکستان نے یہ مواد لیبیا کو فروخت کر دیا تھا۔ علاوہ دیگر باتوں کے بش انتظامیہ کے جھوٹ بولنے کی پالیسی میں تسلسل بےمثال ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ بش انتظامیہ نے یہ گمراہ کن جھوٹ اس لئے بولا تھا کہ وہ شمالی کوریا پر چھ فریقی مذاکرات سے پہلے زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالنا چاہتا تھا اور اپنے اتحادی یورپی اور ایشیائی ملکوں کو بتانا چاہتا تھا کہ دیکھئیے شمالی کوریا کتنا خطرناک ملک ہے کہ وہ لیبیا کو بھی ایٹمی طاقت بنانا چاہتا ہے ۔ اگر امریکہ یہ کہتا کہ شمالی کوریا نے پاکستان کو جوہری مواد فراہم کیا تو کوئی نوٹس بھی نہ لیتا کیونکہ کہانی پرانی ہو چکی ہے۔اس جھوٹ کی ایک وجہ پاکستان کو تنقید سے بچانا بھی تھا کیونکہ وہ دہشت گردی کے خلاف امریکہ کا اتحادی ہے۔

بش انتظامیہ کا جھوٹ بولنے کا ریکارڈ تو بے مثال ہے لیکن سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ کب تک پاکستان کے بارے میں جھوٹ بولے گی یا وہ خود کب تک حکومت میں رہے گی۔ اسی کی دہائی میں بالکل ایسا ہی ہوا تھا کہ ریگن اور سینئر بش انتظامیہ پاکستان کو روس کے خلاف استعمال کرنے کے لئے اس کے جوہری پروگرام کو نظر انداز کرتی رہی اور جونہی روس افغانستان سے نکلا امریکہ نے پاکستان پر ہر قسم کی پابندیاں لگادیں۔ بلکہ ایک زمانے میں تو پاکستان دنیا کا سب سے زیادہ عتاب زدہ ملک تھا۔

امریکی بار بار کہتے ہیں کہ اب وہ پاکستان کو کبھی تنہا نہیں چھوڑیں گے لیکن یہ تو وہ اسی کی دہائی میں بھی کہتے تھے جب پاکستان کے سیکرٹری دفاع تک کو امریکہ گھومنے کے لئے پینٹاگون سپیشل جہاز فراہم کرتا تھا۔ پھر وہ وقت بھی آیا جب اس سیکرٹری صاحب کو ائیرپورٹ پر لینے کے لئے امریکہ کا چپڑاسی بھی نہیں پہنچتا تھا اوران کو سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ میں جھڑکیاں دینے کے لئے مدعو کیا جاتا تھا۔ تب ان کو غالب کا یہ مصرع بڑا یاد آیا ہوگا:
تیرے وعدے پر جیے تو یہ جان جھوٹ جانا

پاکستان کے ساتھ تو وعدہ نبھایا جائے گا یا نہیں لیکن بش انتظامیہ امریکہ کے قدامت پرست عیسائیوں کے ساتھ ایفا کر تے ہوئے ایک نیم مردہ خاتون کو اس کی اور اس کے خاوند کی مرضی کے خلاف زندہ رکھنے کی کوشش کر رہی ہے۔ وائٹ ہاؤس، کانگرس، سینیٹ اور عدلیہ، غرضیکہ امریکی حکومت کا ہر شعبہ مسز ٹیری شیاؤ کو مرنے سے روکنے کے لئے بحرانی کیفیت میں مبتلا ہے۔

امریکہ میں موت و حیات کی منطق بھی نرالی ہے۔ عراق میں لاکھوں بے گناہ مارے جائیں، افریقہ میں نسل کشی ہو جائے یا سونامی موت بن کر ایشیا پر چھا جائے امریکہ میں کبھی اس طرح کے ہنگامی حالات دکھائی نہیں دیتے کہ کانگرس مینوں کو چھٹیوں سے واپس بلا لیا جائے اور امریکہ کا صدر ہاتھ میں پن پکڑ کر انتظار کرے کہ کب کانگرس قانون منظور کرے اور کب وہ اس پر دستخط کر کے ملک کا قانون بنا دیں۔ لیکن پچھلے کچھ دنوں سے ایسا ہی ہو رہا ہے۔اور یہ سارا کچھ سیاسی چال کے طور پر ہو رہا ہے۔

اس سیاسی کھیل میں گیند فلوریڈا ریاست کی ٹیری شیاؤ نام کی ایک خاتون ہیں جن کو پچھلے پندرہ سال سے ٹیوب کے ذریعے کھانا کھلایا جا رہا ہے اور وہ اتنے سالوں سے نیم مردہ حالت میں پڑی ہوئی ہیں۔ ان کے خاوند کا کہنا ہے کہ مسز ٹیری نے اس حالت میں جانے سے پہلے ان سے درخواست کی تھی کہ اگر حالات اس طرح کے پیدا ہو جائیں تو ان کو زندہ رکھنے کی بیجا کوششیں نہ کی جائیں۔ لیکن بش پارٹی کے حامی بنیاد پرست عیسائیوں کا مطالبہ ہے کہ ان کو زندہ رکھا جائے کیونکہ اس طرح ان کا اسقاط حمل کے بارے میں نقطہ نظر مضبوط ہوتا ہے: یعنی ہر شکل اور صورت میں زندگی کا تقدس قائم رکھا جائے۔

News image

بنیاد پرستوں کا یہ مطالبہ بظاہر کتنا اعلی و ارفع ہے لیکن یہ وہی قدامت پرستنوں کا ٹولہ ہے جو عراق میں جنگ کی حمایت کرتا ہے اور فلسطینی علاقوں سے غیر یہودیوں (یعنی عربوں) کی صفائی کو بھی اتنا ہی مقدس مانتا ہے۔ ان کے مذہبی مقاصد کے حصول کے لئے عراقیوں اور فلسطینیوں کا جانی ضیاء اہم نہیں ہے، کیونکہ امریکہ میں یہ بنیاد پرست عیسائی ہے ہیں جو شیرون اور بش کے لئے سر دھڑ کی بازی لگانے کے لئے تیار ہیں۔ ان کے لئے ایک نیم مردہ امریکی کو (اس کی خواہش کے خلاف) زندہ رکھناضروری ہے لیکن عراق کے بے گناہ بچوں کی زندگی اہم نہیں ہے۔

بش پارٹی اس لئے بھاگ بھاگ کراس متضاد امریکی نرگسیت کے نظریے کی حمایت کر رہی ہے کہ اسے اگلے سال کانگرس کے الیکشنوں میں ان کے ووٹ چاہئیں۔ اور اس طرح مخالف ڈیموکریٹک پارٹی کو بھی شرمندہ کیا جا سکتا ہے جو نہ مسز ٹیری کو بچانے کی حمایت کر سکتی ہے اور نہ ہی مخالفت ۔ کچھ بھی ہو امریکہ کی سیاست سے یہ تو صاف پتہ چل جاتا ہے کہ ’جیہدی کوٹھی وچ دانے اوہدے کملے وی سیانے‘۔

 شوکت عزیزواشنگٹن ڈائری
شوکت عزیز ہیں توفکرکیسی:منظور اعجاز
شناخت کا بحران
خاتون پولیس اہلکار اور نقاب: منظور اعجاز کا کالم
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد