پس پردہ سیاسی چالیں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سیاسی تجزیہ نگاری / کالم نگاری میں سب سے مشکل کام ہے سطحی واقعات اور بیانات کے پس پردہ کھیلی جانے والی سیاسی چالوں کو بوجھنااور دن کی اہم ترین خبر کو صفحہ اول کی بجائے اندر کے کسی صفحے پر تلاش کرنا کیونکہ عام طور پر صفحہ اول تو سیاسی ایسٹیبلشمنٹ کا اشتہار ہوتا ہے۔ مثلاً صفحہ اول پر دو ملکوں کے سیاسی رہنماؤں کی ملاقات کی رپورٹوں سے ’اصلی‘ بات غائب کردی جاتی ہے اور عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لیے ایسے بیانات دئیے جاتے ہیں کہ عوام کی توجہ ’اصل‘ بات کی طرف نہ جائے۔ ہمارے خیال میں بش شیرون ملاقات میں بھی شاید یہی ہوا ہو۔ جب سب لوگ رپورٹوں اور کالموں میں بش شیرون ملاقات کو امن روڈ میپ کے حوالے سے زیر بحث لا چکے تو پتہ چلا کہ شیرون کا اصل مقصد تو امریکہ کو ایران کی جوہری تنصیبات کی تفصیلات فراہم کرنا اور ان کو ختم کرنے کی منصوبہ بندی کرنا تھا۔ نیویارک ٹائمز کے مطابق شیرون کی ملاقات کا ایک مقصد یہ بھی تھا کہ صدر بش کو یورپی یونین کے ممبروں پر دباؤ ڈالنے کے لیے تیار کریں۔ یہ بتانا تو مشکل ہے کہ ایران کے خلاف کیا ٹھوس منصوبہ بندی کی گئی لیکن یہ آسانی سے کہا جا سکتا ہے کہ شیرون امریکہ سے مشرق وسطی کے امن کی جو قیمت وصول کرنا چاہتے ہیں اس میں ایران کی جوہری تنصیبات کا خاتمہ بھی شامل ہے۔ یہ کام امریکی خود بھی کر سکتے ہیں اوراسرائیل سے بھی کروا سکتے ہیں جیسا کہ نائب صدر ڈک چینی پہلے ہی اشارہ کر چکے ہیں۔ جب بش اور شیرون کرافرڈ کے رینچ میں بیٹھے لنچ پر ایران کی جوہری تنصیبات تباہ کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے، باہر انتہا پسند امریکی یہودی نعرے لگا رہے تھے کہ فلسطینیوں کو کسی بھی طرح کی ریاست سے نوازنے کا مطلب ہے دہشت گردی کے لیے انعام و اکرام دینا۔ دنیا کچھ بھی سمجھے امریکہ کی طاقتور یہودی لابی فلسطینیوں کو وہ کچھ بھی نہیں دینا چاہتی جو بظاہر شیرون اور بش دینے کے لیے تیار ہیں۔ ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭ بہت سے ممبران اور امریکہ میں مقیم پاکستانی کمیونٹی اپنا کے صدر جناب حسین ملک کے ساتھ بہت خفا ہیں کہ انہوں نے اپنے دورہ ہندوستان میں ایڈوانی کو اعزازی شیلڈ دی۔ نہ صرف یہ بلکہ انہوں نے ایک اور وزیر پرناب مکرجی کو بھی شیلڈ پیش کرنا چاہی اور جب مجمع میں بیٹھے وزیر صاحب شیلڈ لینے کے لیے نہ اٹھے تو ڈاکٹر ملک نے ان کی نشست پر جا کر شیلڈ پیش کی۔ نیویارک سےشائع ہونے والے اخبار ’پاکستان پوسٹ ‘ کی رپورٹ کے مطابق بہت سے ڈاکٹروں نے چار ہزار فی کس کی بھاری فیس اس وعدے پر ادا کی تھی کہ ان کو ایشوریا رائے اور سلمان خان سے ملوایا جائے گا۔ اب ان کو گلہ ہے کہ ان کو قادر خان اور سنیل دت پر ٹرخا دیا گیا ہے۔
’اپنا‘ امریکہ میں مقیم پاکستانی ڈاکٹروں کی تنظیم ہے اور امریکہ میں ڈاکٹر عام طور پر امیر ہی ہوتے ہیں۔ پھر یہ بھی حقیقت ہے کہ جب کوئی امیر ہو جاتا ہے تو وہ معززین شہر کا حصہ ہو تے ہوئے ہر ملک کے معزز ین سے راہ و رابطہ بڑھانا چاہتا ہے۔ ویسے بھی کسی پاکستانی کا امریکہ میں امیر ہونا جنگل میں مور ناچنے کے مترادف ہے ۔ اس لیے جب تک مور اپنے وطن کے لوگوں کے سامنے نہ ناچے ناچ کا مزہ ہی کیا۔ لہذا مور نچوانے کے لیے ڈاکٹروں کی کمیونٹی پاکستان کے با اثر لوگوں کے ساتھ راہ و رابطہ بڑھاتی رہتی ہے۔ یار لوگوں نے اس کو ’وی آئی پی ہنٹرز‘ کا خطاب دے رکھا ہے۔ اب جب ہر طرح کا پاکستانی اپنا اپنا پیغام ہندوستان لے جا رہا ہے تو ڈاکٹر صاحبان پیچھے کیوں رہتے۔ وہ بھی اپنی وی آئی پی ہنٹنگ کو پورے بر صغیر تک پہنچانے پہنچ گئے۔ پیشگی انتظامات کے لیے ہندوستانی پارلیمنٹ کی ممبر ڈاکٹر نجمہ کی خدمات حاصل کی گئیں۔چونکہ ڈاکٹر صاحبہ اب بی جے پی کا حصہ بن چکی ہیں اس لیے انہوں نے باقی انتظامات کرنے کے ساتھ ساتھ ایڈوانی کو شیلڈ دلوانا ضروری سمجھا ہوگا۔ اپنا کے معترضین کا کہنا ہے کہ ڈاکٹروں کا یہ وفد حکومت پاکستان کی ایماء پر ہندوستان گیا تھا جس کا اہتمام جنرل مشرف کے ایک مشیر نے کیا تھا بہرحال ایڈوانی صاحب تو شیلڈ لے کر فارغ ہوگئے اور اب بھگت رہے ہیں تنظیم کے صدر جناب حسین ملک صاحب۔ ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭ جناب ایڈ کلین کینیڈی خاندان پر بہت سی کتابیں لکھ چکے ہیں اور ان کا دعوی ہے کہ وہ ہلری کلنٹن کی خفیہ زندگی کو بے نقاب کریں گے۔ اس کتاب میں وہ ان کی جنسی زندگی کی تفصیلات بھی سامنے لائیں گے۔ محترمہ ہلری کلنٹن کی نمائندہ این لوئس کا کہنا ہے کہ سابقہ خاتون اول اور حالیہ سینیٹر پر اس لئے گندگی اچھالی جا رہی ہے کہ ان کی صدارتی مہم کو شروع ہونے سے پہلے ہی ختم کردیا جائے۔ اسی دوران نائب صدر کے سابقہ امیدوار جان ایڈورڈ نے کہا ہے کہ یہ بلکل غلط ہے کہ ہلری کلنٹن اگلے صدارتی الیکشن میں سرکردہ امیدوار ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||