پوپ یا سیکولر ریاست کا جنازہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آجکل امریکی میڈیا کو دیکھ کر پنجاب اور بالخصوص لاہور میں دیواروں پر ’موت کا منظر، مرنے کے بعد کیا ہوگا‘ کا اشتہار یاد آجاتا ہے۔ ایک زمانے میں جی ٹی روڈ کے دونوں طرف یہ اشتہار سینکڑوں میلوں تک آپ کا تعاقب کرتا تھا۔ ہم کہتے تھے دیکھو ہم کتنے جاہل ہیں کہ ’موت کے منظر‘ میں گم ہیں جبکہ دنیا کہاں سے کہاں پہنچ گئی ہے۔ بیس پچیس سال ہم اسی مغالطے میں رہے کہ ہم موت کا منظر پیچھے چھوڑ کر اس دنیا میں پہنچ گئے ہیں جو دم بدم آگے بڑھ رہی ہے لیکن حیف یہ خام خیالی تھی کیونکہ پچھلے کئی ہفتوں سے امریکی میڈیا ’موت کا منظر‘ دکھانے کے علاوہ کچھ نہیں کر پا رہا۔ ٹیری شیاؤ ’موت کے منظر کا ابتدائیہ‘ تھی جبکہ پوپ جان پال کی موت کلائمکس۔ پوپ کی تجہیز وتکفین دنیا میں ٹی وی کا سب سے بڑا واقعہ مانا جاتا ہے۔ امریکہ کے صدر بش اپنے دو پیشرووں، بش سینیئر اور بل کلنٹن سمیت شرکت کریں گے۔ صدر کارٹر اس وفد میں شامل نہیں ہوئے اور نہ تو وائٹ ہاؤس بتانے کو تیار ہے کہ وہ کیوں نہیں گئے اور نہ کارٹر کے نمائندے کچھ کہنے کو تیار ہیں۔ لگتا ہے کہ صدر کارٹر نے یہ کہہ کر منع کر دیا ہے کہ یہ پوپ جان پال کی ہی نہیں بلکہ مغرب کی سیکولر ریاست کی میت کا جلوس ہے جس میں وہ شامل نہیں ہوں گے۔ شاید یہ کہا ہو کہ بش اس جنازے میں کیوں جا رہے ہیں جبکہ پوپ جان پال ان کی عراق کی جنگ کی پالیسیوں کے مخالف تھے یا یہ کہ اس واقعے کو اتنی ہوا دینے کی ضرورت کیا ہے؟ بلا ضرورت تو واقعی کچھ نہیں ہوتا۔ پوپ جان پال دوم کی موت کو دنیا کا اتنا بڑا واقعہ بنانے والے میڈیا اور حکومتوں کے اپنے اپنے مقاصد ہیں۔ ان کی جو بھی ضرورت ہو یہ واضح ہے کہ اس کے لیے زمانہ وسطی کی پاپائیت یا اس کی کوئی نئی شکل بحال کرنا ضروری ہے۔ ویٹیکن شہر کی ننھی منھی ریاست کو دنیا کی باقی ریاستوں کا حاکم بنانا بھی شاید مستقبل کے ایجنڈے کا حصہ ہے۔ نیا پوپ منتخب کرنے والے کارڈینلوں کو جس شان و شوکت سے دنیا کے مختلف حصوں سے لایا گیا اور بیس ملین ڈالر سے پاپائے روم کے بنے ہوٹل میں ٹھہرایا گیا اس سے یہ تاثر ملا کہ جیسے بہت سارے شہزادے یا ملکوں کے فرماں روا شہنشاہ اعظم منتخب کرنے جا رہے ہیں۔ اور دنیا کے اکثر عیسائی ملکوں کے نمائندے اپنے نئے بادشاہ کی تاجپوشی کے لیے بیتاب و بیقرار ہیں۔ زمانہ وسطی کا منظر بھی یہی تھا جب پاپائے روم مغربی دنیا کی سیاست کی جہت طے کرتا تھا۔ وہ یہ بھی طے کرتا تھا کہ گلیلیو جیسا سائنس دان زندہ رہے یا نہ رہے سائنس دان دنیا کو گول سمجھیں یا چپٹا۔ نہ صرف زندگی کے ہر پہلو کو پاپائے روم کنٹرول کرتا تھا بلکہ وہ یورپ کا سب سے بڑا جاگیردار بھی تھا۔ اسی لیے اس سے نجات حاصل کرنے کے لیے مغرب کے روشن خیال لوگوں نے قربانیاں دیں اور ریاست کو سیکولر بنایا۔ لیکن لگتا ہے تاریخ کا پہیہ گھوم گیا ہے اور ہم پیچھے کی طرف تیزی سے بھاگ رہے ہیں۔ پتہ نہیں ایسا ہوا ہے یا نہیں لیکن بہت سے خوش فہم لوگ یہی کہیں گے کہ صدر کارٹر مغرب کی سیکولر ریاست کے جنازے میں شامل نہیں ہوئے۔ ان دنوں جب عالمی میڈیا پاپائے روم کی دنیا پر دھاک بٹھانے کا فریضہ سر انجام دے رہا ہے واشنگٹن میں پاکستان کے بہت سے ماہرین تعلیم اس موضوع پر غور کر رہے تھے کہ پاکستان میں تعلیم کو مذہبی رجحان سے کیسے دور کیا جائے اور تعلیمی نظام کو کیسے موثر بنایا جائے۔ سندھ کی وزیر تعلیم ڈاکٹر حمیدہ کھوڑو نے تو یہ کہ کر بھانڈا پھوڑنے کی کوشش کی کہ پاکستان کی تعلیم میں مذہبی انتہا پسندی اور جہاد امریکہ کی نیبراسکا یونیورسٹی میں تیار ہوا تھا۔ جب امریکیوں کو روس کا افغانستان میں مقابلہ کرنے کے لیے مجاہدین کی ضرورت تھی تو نیبراسکا پراجیکٹ کے تحت پاکستان کے تعلیمی سلیبس میں جہاد کی تعلیم خاص طور پر شامل کی گئی۔ اب ضرورتیں بدل گئی ہیں اور نیبراسکا یونیورسٹی کو جہاد کے خلاف سلیبس بنانا ہے۔ یہ کانفرنس اسی طرح کے کسی سلسلے کی کڑی تھی۔ اس کانفرنس میں اہم تحقیق مدرسوں کے بارے میں تھی جو کہ طاہر اندرابی اور ہارورڈ یونیورسٹی کے عاصم خواجہ کے اشتراک سے کی گئی تھی۔ اس تحقیق کے مطابق پاکستان میں ایک فیصد سے زیادہ طلباء مدرسوں میں داخل نہیں ہیں اور مدرسوں کی تعلیم عوام میں مقبول بھی نہیں ہے۔ ڈاکٹر خواجہ نے ایک ذاتی انٹرویو میں ہمیں بتایا کہ اگر پاکستان میں ایک ملین طلباء بھی مدرسوں میں زیر تعلیم ہیں توہ پاکستان کے پچاس ملین سکول کے بچوں کا بہت ہی چھوٹا حصہ ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ نہ صرف مغربی میڈیا بلکہ پاکستانی میڈیا بھی غلط فہمی پھیلانے کا ذمہ دار ہے۔ قصہ مختصر یہ کہ ان کے خیال میں پاکستان میں کوئی ایسا ہوا نہیں ہیں جیسا کہ امریکہ میں پیش کیا جا رہا ہے۔ مشہور ایکٹرس جین فاؤنڈا نے اپنی سوانح حیات ”میری اب تک کی زندگی” لکھتے ہوئے کسی بھی پہلو کو ہوا نہیں بنایا۔ انہوں نے جہاں یہ ذکر کیا ہے کہ وہ اپنے خاوند ٹیڈ ٹرنر (بانی سی این این ٹی وی) سے خفیہ خفیہ عیسائی ہو گئیں تھیں اسی طرح انہوں نے اپنے تین سابقہ خاوندوں کے ساتھ جنسی زندگی کو بھی تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ ابتدائی سالوں میں دو سال اپنا کنوارپن کھونے کی کوشش کرتی رہیں لیکن پوری طرح کامیاب نہ ہوئیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان کا خاوند ٹرنر دوسری عورتوں کے ساتھ تعلقات رکھنے سے باز نہیں آیا تھا جس کی وجہ سے انہوں نے مذہب تبدیل کرکے عیسائیت اختیار کی۔ انہوں نے دوسرے خاوند واڈم کے بارے میں انکشاف کیا کہ کہ اس کو تھری سم کا بہت شوق تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||