BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 13 April, 2005, 00:33 GMT 05:33 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اسرائیل: صدر بش کی بدلتی پالیسی

صدر بش اور ایریئل شیرون
صدر بش نے پہلی مرتبہ اعلانیہ اسرائیلی نقطہ نظر سے اختلاف کیا ہے
حالیہ ملاقات میں صدر بش نے اسرائیلی وزیر اعظم ایرئیل شیرون کو یاد دہانی کروائی ہے کہ اسرائیل کو عالمی نقشہ راہ کی ذمہ داریوں کو قبول کرتے ہوئے نئی یہودی بستیاں آباد کرنے سے اجتناب کرنا چاہئیے۔ صدر بش کی اعلانیہ یاد دہانی اسرائیل کی غیر مشروط حمایت کے خاتمے کا اعلان بھی ہے اور مشرق وسطیٰ میں نئی عالمی صورت حال کا اشارہ بھی۔

اسرائیل کے ساتھ اس طرح کے اعلانیہ اختلاف سے یورپی ملکوں کو بھی رام کرنا مقصود ہے اور ٹونی بلیئر کے ووٹروں کے دل نرم کرنا بھی۔ لیکن دیکھنا یہ ہے کہ اس بیان بازی کا کوئی نتیجہ بھی نکلے گا یا نہیں۔

حسب توقع ایرئیل شیرون نے صدر بش کی درخواست کو رد کرتے ہوئے صاف صاف کہہ دیا کہ وہ عالمی نقشے کی راہ پر نہیں بلکہ اپنی لیکود پارٹی کے مقرر کردہ راستے پر چلیں گے اور یہ بھی کہ پچھلے مہینے کے اعلان کے مطابق یروشلم میں 3650 گھروں کی نئی یہودی آبادی بنا کر رہیں گے۔ یہ نئی آبادی عربوں کے یروشلم محلوں کو مغربی کنارے سے ہمیشہ کے لیے کاٹ دے گی۔

اسرائیلی وزیر اعظم نے اپنے انکار کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ نہ تو امریکی مطالبہ نیا ہے اور نہ ہی اسرائیل کا انکار نیا۔ اسرائیل کو حق ہے کہ وہ اپنی سلامتی کے لئے 1967 کی جنگ میں مفتوحہ مغربی کنارے اور غزہ پر یہودی آبادیاں قائم کرے۔

انہوں نے یہ ضرور کہا کہ اسرائیل ان آبادیوں کو ختم کر دے گا جو حکومت کی مرضی کے خلاف ناجائز طور پر بنائی گئی ہیں۔ واضح رہے کہ یہ ناجائز آبادیاں فلسطینیوں کے ساتھ رعایت کے طور پر نہیں بلکہ محض اس لئے ختم کی جا رہی ہیں کہ اسرائیلی فوج کے لئے ان کا دفاع بہت مشکل ہے ۔ لیکن اسرائیل اس مفید عمل کے لئے بھی امریکہ سے قیمت وصول کرنا چاہتا ہے۔

امریکی اور اسرائیلی تعلقات میں نیا عنصر بس اتنا سا ہے کہ صدر بش نے پہلی مرتبہ اعلانیہ اسرائیلی نقطہ نظر سے اختلاف کیا ہے۔ ایرئیل شیرون تو وہی بات کہہ رہے ہیں جو دس سال پہلے کہتے تھے۔ بش کے صدر بننے سے پہلے امریکہ ہمیشہ نئی آبادیوں کے قیام کی مخالفت کرتا رہا ہے ۔

صدر کارٹر نے واشنگٹن پوسٹ کے ایک کالم میں اس پہلو سے بش انتظامیہ کی روگردانی کو ناقابل معافی قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ وہ اصول ہے جس پر امریکہ کا ہر ریپبلکن اور ڈیموکریٹک صدر کار بند رہا ہے۔ صدر بش کا حالیہ بیان امریکہ کی پرانی حکمت عملی کا احیائے نو ہے۔

صدر بش کی ایرئیل شیرون کی غیر مشروط حمایت ترک کرنے کی ذاتی وجوہات بھی ہیں اور عالمی بھی۔ ذاتی سطح پر اب ان کو کوئی الیکشن نہیں لڑنا کہ ان کو فلوریڈا اور اوہائیو جیسی ریاستوں کے یہودی ووٹروں کی ضرورت ہو۔ اس بیان بازی سے یہ بھی واضح ہوگیا کہ ان کے برادر خورد فلوریڈا ریاست کے گورنر جیب بش بھی 2008 میں صدارتی الیکشن نہیں لڑ رہے وگرنہ برادر کلاں اس طرح کھلے بندوں اختلاف رائے سے احتراز کرتے۔ لہذا اب صدر بش ہر امریکی صدر کی طرح اپنی دوسری باری میں کوئی عظیم کام سر انجام دینا چاہتے ہوں گے جیسا کہ اسرائیلی۔فلسطینی معاملات کو سلجھانا۔

عالمی سطح پر اب امریکہ خود عراق میں لمبے عرصے کے لئے ڈیرے ڈال کر بیٹھ گیا ہے اور اسے علاقے میں کنٹرول کے لئے اسرائیل جیسی ریاست کی اتنی ضرورت نہیں جتنی سرد جنگ میں تھی۔ پھر یورپین ممالک کو بھی عراق کی تعمیر نو میں ساتھ ملانا ہے اور برطانیہ کے الیکشن میں ٹونی بلیئر کی مدد بھی کرنا ہے۔ حکومت کرنے کے لئے اپنی عراقی کالونی کے عوام کے جذبات کا بھی کچھ نہ کچھ خیال رکھنا ہے اور اگلے مہینے فلسطینی رہنما محمود عباس کی واشنگٹن یاترا سے پہلےکچھ امید بھی بندھانا ہے تاکہ وہ حماس کے خلاف کارروائی کے لئے تیار ہو جائیں۔

مندرجہ بالا مقاصد کے حصول کے لئے نئی یہودی آبادیوں کے خلاف ایرئیل شیرون سے پبلک اختلاف کوئی بہت بڑی تبدیلی نہیں ہے ۔صدر بش کا یہ پینترہ نہ تو یہودی ریاست کی جہت بدلے گا اور نہ ہی فلسطینیوں کی قسمت۔ صدر بش اگر چاہیں بھی تو اسرائیل کی زیادہ مخالفت نہیں کر سکتے کیونکہ امریکی کانگرس اور سینٹ اسرائیل کے ساتھ ہیں اور امریکی میڈیا بھی اس کا بھر پور حامی ہے۔ اگرچہ امریکی یہودیوں کا ایک گروہ فلسطینیوں کے ساتھ مفاہمت کا حامی ہےلیکن وہ اقلیت میں ہے۔

اس لئے یہ واضح ہے کہ اسرائیل امن کے عالمی راستے کو صرف اپنی حیثیت مضبوط کرنے کے لئے استعمال کرے گا اور نئی یہودی آبادیاں قائم کرتا جائے گا۔ سوال یہ ہے کہ کیا آخر میں کوئی ایسا علاقہ بچے گا جس پر قابل ذکر فلسطینی ریاست قائم ہو سکے؟ اور کیا ایرئیل شیرون بھی اسرائیلی انتہا پسندوں کا سامنا کرتے ہوئے فلسطینیوں کو کوئی رعایت دے سکتے ہیں؟

66مرد عورتیں جدا جدا
تمام مرد ایک جیسے اور تمام عوتیں جدا جدا
66مسلم ووٹ فیصلہ کن
امریکی صدارتی الیکشن کا تجزیہ: منظور اعجاز
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد