BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 23 March, 2005, 20:27 GMT 01:27 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عورت کو سمجھنا ناممکن

News image
سائنسی تحقیق کے مطابق عورتوں کو سمجھنا ممکن نہیں ہے۔
ایک نئی تحقیق نے ثابت کر دیا ہے کہ مردوں کے اس دعوے میں سچائی ہے کہ کسی بھی عورت کو سمجھنا ناممکن ہے اور اسی طرح عورتوں کا یہ دعوے بھی بر حق ہے کہ مردوں کا مختصر ذہن ایک ہی طرح سوچتا ہے اور وہ صرف مخصوص چیزوں کے بارے میں ہی سوچتا ہے۔

نیچر نامی جرنل میں چھپنے والی تحقیق میں پہلی مرتبہ انکشاف ہوا ہے کہ جینز کے اعتبار سے مردوں کی شخصیت اکہری اور سادہ ہوتی ہے جبکہ عورتیں زیادہ پیچیدہ اور متنوع ہوتی ہیں۔ دوسرے یہ بھی کہ مردوں کی شخصیت ایک دوسرے سے مماثلت رکھتی ہے جبکہ عورتوں کی شخصیتیں ایک دوسری سے بہت مختلف ہوتی ہیں۔ اس تحقیق کے ایک مصنف، ڈیوک یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر ہٹنگٹن ولرڈ کا کہنا ہے کہ ’افسوس ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اگر آپ نے ایک مرد کو مل لیے تو سب مردوں سے مل لیے۔۔۔۔یہ عورتوں کے بارے میں نہیں کہا جا سکتا۔ مردوں اور عورتوں کے بعد کو ہم اتنا کبھی بھی نہیں جانتے تھے جتنا اب معلوم ہواہے‘۔

محقیقین کا کہنا ہے کہ مردوں کے 46 کرموزوں میں چھیالیسویں کروموزوم میں بہت کم جینز ہیں اور مختصر جین بھی کمر سے نیچے اور گھٹنوں کے اوپر کام کرتا ہے۔ اس کے الٹ عورتوں کے چھیالیسیویں کروموزوم میں بہت مستعد جین ہیں اور ان کی شخصیتوں میں تنوع اور سرگرمی پیدا کرتے ہیں۔

ڈاکٹر ولرڈ اور ان کی ساتھی محقق ڈاکٹر لارا کیرل کا کہنا ہے کہ مرد اور عورت اس لئے ایک دوسرے سے اتنے مختلف ہیں کہ دونوں کے دماغوں میں پرزے ہی مختلف طرح کے فٹ کئے گئے ہیں۔

لگتا ہے کہ یہ تو کاتب تقدیر کا لکھا ہے اسے اب کون بدل سکتا ہے اور اگر ہزاروں ملاقاتوں کے بعد بھی اجنبی رہتے ہیں تو ذمہ داری مختلف پرزے فٹ کرنے والے کی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد