عورت کا ماں ہونا کب تک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کہتے ہیں بچوں کی پیدائش قدرت کا تحفہ ہے اور ایک زمانہ تھا کہ لوگوں کو بچے کی ولادت تک یہ معلوم نہیں ہوتا تھا کہ آنے والا مہمان لڑکا ہے یا پھر لڑکی۔ سائنسی ترقی کی مدد سے اب یہ مشکل نہیں رہی۔ اب سکاٹ لینڈ کی سینٹ اینڈریوز یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے یہ انکشاف کیا ہے کہ عورتیں ٹیسٹ کے ذریعے یہ معلوم کر سکیں گی کہ ان میں ماں بننے کی صلاحیت کب تک رہے گی۔ ماہرین طب کا کہنا ہے کہ خواتین کی کوکھ کا معائنہ کرنے کے بعد یہ پتہ لگایا جا سکتا ہے کہ خواتین میں مینوپاز یعنی خواتین میں ’ایام‘ کے اختتام کا مرحلہ کب آئے گا۔ واضع رہے کہ خواتین میں چالیس سال کے بعد ایک ایسا مرحلہ آتا ہے جب انہیں ماہواری نہیں ہوتی اور اس کے بعد وہ بچے پیدا کرنے کی صلاحیت سے محروم ہو جاتی ہیں۔ Human Reproduction نام کے ایک جریدے میں اس سلسلہ میں پوری تفصیل بیان کی گئی ہے۔ سینٹ اینڈریوز یونیورسٹی کے ڈاکٹر تھامس کیلسی کہتے ہیں کہ اس طریقے سے یہ معلوم ہو سکتا ہے کہ کسی عورت میں بچے پیدا کرنے کی صلاحیت کب تک رہے گی۔ ان کا کہنا ہے کہ نئے طریقے سے خواتیں کی رحم مادر کا حجم معلوم کیا جاتا ہے اور اگر عورت کی عمر کے مقابلے میں بڑا ہو تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اس پر’ایام‘ کے اختتام کا مرحلہ پچاس برس کے بعد آئے گا۔ اگر اس کی کوکھ کا سائز چھوٹا ہوگا تو پھر یہ مرحلہ پہلے بھی آسکتا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||