ہپناٹزم عورتوں پر کم کارگر | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہپناٹزم یعنی تنویم کے ذریعے سگریٹ نوشی چھوڑنے کا طریقہ عورتوں کی بجائے مردوں میں زیادہ کارآمد ثابت ہوتا ہے۔ ایک نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ عورتوں پر ہپناٹزم کا ترغیب مقابلتاٰ کم اثر کرتا ہے اس لیے کہ عورتیں عام طور پر سگریٹ چھوڑنے کی طرف کم مائل ہوتی ہیں۔ اوہائیو سٹیٹ یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے پانچ ہزار چھ سو افراد پر مشتعمل سروے سے یہ نتیجہ نکلا ہے کہ ہپناٹزم کے ذریعے علاج کروانے والے مردوں میں شرح کامیابی تیس فی صد تھی جب کہ عورتوں میں تئیس فی صد تھی۔ سائنسدانوں نے امریکن سائیکالوجی سوسائٹی کے ایک اجلاس میں اپنی تحقیق سے شرکاء کو آگاہ کیا۔ یونیورسٹی میں سائیکالوجی کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر جوزف گرین اور ان کے ساتھیوں نے اٹھارہ جائزے مرتب کیے ہیں تاہم ان میں کسی میں بھی یہ جائزہ نہیں لیا گیا کہ مذکورہ طریقۂ کار عورتوں کی بجائے مردوں پر کیوں زیادہ اثر کرتا ہے۔ مگر ڈاکٹر گرین کا کہنا ہے کہ مردوں اور عورتوں میں تفریق بہت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا ’میرا شک ہے کہ مردوں اور عورتوں میں تفریق صرف اسی طریقہ علاج میں انوکھا نہیں بلکہ اس کا تعلق عام طور پر عورتوں میں سگریٹ چھوڑنے کی کوشش میں پیش آنے والی مشکلات سے بھی ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ ہپناٹزم عورتوں پر اسی طرح اثر انداز ہوتا ہے جیسے مردوں پر۔ معدے کی خرابی کے علاج میں ہپناٹزم کو استعمال کرنے والے مانچسٹر کے ویتھن شاہسپتال کے ڈاکٹر پیٹر وورویل کہتے ہیں ’میرے خیال میں جنسی امتیاز کے بہت سے پہلو ہیں۔ معدے کی خرابی کے معاملے میں بھی جنسی امتیاز دیکھا جا سکتا ہے۔مردوں پر یہ طریقۂ علاج اتنا کارآمد ثابت نہیں ہوتا جتنا کہ عورتوں پر ہوتا ہے‘۔ ایکشن آن سموکنگ اینڈ ہیلتھ کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ ’ایسے بھی جائزے ہوئے ہیں جو یہ بتاتے ہیں کہ عورتوں کے لیے سگریٹ چھوڑنا مشکل ہوتا ہے۔ مگر سگریٹ نوشی سے متعلق حکومتی اعداد وشمار میں عورتوں اور مردوں میں کوئی تفریق نہیں کی گئی‘۔ ترجمان نے کہا کہ ہپناٹزم کے ذریعے طریقۂ علاج مستند طریقہ نہیں، تاہم ایسے شواہد ملے ہیں کہ اس سے لوگوں کو سیگریٹ نوشی چھوڑنے میں مدد ملی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||