BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 18 January, 2005, 12:29 GMT 17:29 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ریاضی میں زیادہ قابل کون
ہاورڈ یونیورسٹی کے صدر نے کہا وہ سائنس علوم میں عورتوں کی ترقی کے حامی ہیں
ہاورڈ یونیورسٹی کے صدر نے کہا وہ سائنس علوم میں عورتوں کی ترقی کے حامی ہیں
ہاورڈ کے صدر کے کلمات کہ مرد پیدائشی طور پر سائنس اور ریاضی کے مضامین میں عورتوں سے زیادہ قابل ہوتے ہیں، تعلیمی حلقوں میں بے چینی کا باعث بن رہے ہیں۔

امریکہ کے سابق وزیر خزانہ لارنس سمرز نے کہا کہ لوگوں ایک کاگروہ کسی دوسرے گروہ پر کسی مضمون میں سبقت تجربے کی نہیں بلکے جنیاتی بنیادوں پر لے جاتا ہے۔

ان کلمات کے ادا کیے جانے پر بہت سے لوگ اس کانفرس سے اٹھ کر باہر چلے گئے جہاں لارنس سمرز خطاب کر رہے تھے۔

ڈاکٹر سمرز نے بعد میں وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ان مضامین میں اعلی تعلیم یافتہ عورتیں بچے پالنے کی ذمہ داریاں نبھانے کی وجہ سے کم ملیں گی۔

انہوں نے کہا کہ عورتیں ان ذمہ داریوں کی وجہ سے ان مضامین میں ہر ہفتے اسی گھنٹے صرف نہیں کر سکتیں۔

ڈاکٹر سمرز نے کہا کہ یہ مضروضہ کہ مرد عورتوں کی نسبت پیدائشی طور پر سائنس اور ریاضی کے علوم میں زیادہ قابل ہوتے ہیں ایک تحقیق کی بنیاد پر قائم کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہ کے لڑکے ان مضامین میں لڑکیوں سے زیادہ نمبر حاصل کرتے ہیں جس پر یقیناً تحقیق ہونی چاہیے۔

کیمبرج میں اقتصادی تحقیق کے قومی بیورو میں ہونے والی اس کانفرنس کے منتظم رچرڈ فری مین نے کہا کہ ڈاکٹر سمرز کے کلمات واقعی اشتعال انگیز ہیں۔

ڈاکٹر سمرز نے کہا کہ انہوں نے یہ نہیں کہا تھا کہ عورتیں ریاضی اور سائنس میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے قابل نہیں ہوتیں اور نہ ہی وہ ایسی کسی بات پر یقین رکھتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وہ سائنسی علوم میں عورتوں کی ترقی کے سب سے بڑے حامی ہیں۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد