BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 14 March, 2004, 18:23 GMT 23:23 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مرد بھی خواتین کی طرح سوچتے ہیں؟
’من و تُو‘ میں فاصلے مٹتے گئے
اگر آپ مرد ہیں تو ضروری نہیں کہ آپ کا دماغ بھی مردوں جیسا ہو یا اگر آپ خاتون ہیں تو بھی یہ ضروری نہیں کہ آپ کی سوچ نسوانی ہو۔

جی ہاں برطانیہ کی کیمبرج یونیورسٹی کے محققین کے سروے میں اس بات کا انکشاف کیا گیا ہے کہ دنیا کا ہر پانچواں مرد خاتون کی طرح سوچتا ہے جبکہ ہر دسویں خاتون کا دماغ مردوں جیسا ہوتا ہے۔

ان سائنسدانوں کے مطابق مردوں میں نسوانی دماغ کی موجودگی کا ایک ثبوت یہ ہے کہ وہ فیشن کی جانب مائل ہوگا اور اپنی معشوقہ کے بارے میں اپنے پیار کا برملا اظہار کرنے سے بھی نہیں ہچکچائے گا۔

دوسری جانب اگر کوئی خاتون علم ریاضیات میں دلچسپی اور تجزیاتی ذہنیت رکھتی ہے تو یہ اس بات کی پہچان ہے کہ اس کا دماغ مردوں جیسا ہے۔

اس تحقیق میں ماہرین نے پایا کہ مردوں کا دماغ تجزیاتی رحجان کا حامل تھا جبکہ عورتوں کا دماغ تخلیقی کاموں کے وقت زیادہ متحرک ہوتا ہے۔

چونکہ انسانی دماغ اس کی شخصیت کی عکاسی کرتا ہے ماہرین کہتے ہیں کہ اس تازہ تحقیق سے یوں محسوس ہوتا ہے کہ ہماری شخصیت کا فیصلہ پیدائش سے پہلے ہو چکا ہوتا ہے۔

کیمبرج یونیورسیٹی کے پروفیسر سائمن بیرون کوہین نے کہا ان کے اس انکشاف سے سکول اساتذہ کو بے حد مدد ملے گی کیوں کہ انہیں اب یہ پتہ ہے کہ لڑکے اور لڑکیوں کو تعلیم فراہم کرتے وقت مختلف پیمانے استعمال کرنا ان بچوں کے حق میں زیادہ بہتر ہوگا۔

مختلف پیمانے اس لئے کہ ان کے دماغ اور سوچنے کا انداز نمایاں طور پر ایک دوسرے سے مختلف ہے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد