BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 30 March, 2005, 12:33 GMT 17:33 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
امریکہ: بڑھتے ہوئے مذہبی رجحانات

News image
آخر امریکہ میں ہو کیا رہا ہے؟ امریکہ پاکستان کو ایف سولہ اور ہندوستان کو ایف اٹھارہ جنگی طیارے فراہم کر رہا ہے۔ عراق میں واشنگٹن مارکہ اسمبلی سے قوانین بنوا کر مشرق وسطی میں جموریت پھیلانے کی چارہ جوئی کر رہا ہے وغیرہ وغیرہ۔

امریکہ کے بارے میں غالباً یہی وہ موضوعات ہیں جو پاکستانیوں سمیت غیر امریکیوں کے لئے دلچسپی کا باعث ہیں۔ لیکن امریکہ کے اندر جو تبدیلیاں آ رہی ہیں ان کا دنیا پر اثر ایف سولہ و اٹھارہ کیا ایٹم بم سے بھی زیادہ ہو سکتا ہے اور اسی کو نیویارک ٹائمز کے پال کروگمین نے اپنے کالم کا موضوع بنایا ہے۔

پال کروگمین نے کوئی ایسی نئی بات بھی نہیں لکھی ہو لیکن ان کے کالم سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ اب امریکہ میں بھی یہ احساس پیدا ہو رہا ہے کہ امریکی معاشرہ تیزی سے مذہبی انتہا پسندی کی طرف بڑھ رہا ہے۔

اگر ہمارا اور کروگمین کا انداذہ درست ثابت ہوا تو وہ دن دور نہیں جب امریکہ میں آزاد خیال سیاست دانوں کو اپنی جان کا ویسے ہی خطرہ پیدا ہو جائے گا جیسے مشہور امریکہ دماغی موت کی مریضہ ٹیری شیاؤ کیس کے جج جارج گریر کو اس لئے ہے کہ اس نے مذہبی شدت پسندوں کی خواہش کے خلاف فیصلہ دیا۔

ٹیری شیاؤ کیس کو اچھالتے ہوئے ریپبلکن پارٹی کے مشہور سیاست دان ٹام ڈیلے نے کہا کہ خدا نے ٹیری شیاؤ کو اس لئے ہمارے پاس بھیجا کہ ہم دیکھ سکیں کہ امریکہ میں ہو کیارہا ہے۔ مذہبی انتہا پسند اس کیس کو امریکہ میں مذہبی حکومت قائم کرنے کے لئے استعمال کرنا چاہتے تھے جس کو عدالتوں نے وقتی طور پر روک دیا۔

جناب کروگمین نے نیشنل سائنس ٹیچرز ایسوسی ایشن کے سروے کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اکتیس فیصد اساتذہ مذہبی خوف کے تحت تخلیق سے متعلقہ مواد پیش کرنے پر مجبور ہیں۔جناب کروگمین نے ان فارماسسٹوں کا بھی جو زیادہ سے زیادہ تعداد میں عورتوں کو وہ دوائیں دینے سے انکار کررہے ہیں جو ان کو حاملہ ہونے سے بچا سکیں۔

یہ فارماسسٹ کہتے ہیں کہ وہ ایسا مذہبی اعتقادات کے تحت کرتے ہیں۔ وہ دن دور نہیں جب مذہبی انتہا پسندوں کے دباؤ میں یہ عورتوں کو دوسری قانونی دوائیاں دینے سے بھی انکار کر دیا کریں گے۔ کچھ ریاستوں میں پہلے ہی قانون موجود ہے کہ ڈاکٹر کوئی بھی علاج کرنےسے انکار کر سکتے ہیں۔ مستقبل میں یہ بھی دباؤ میں آکر وہ علاج نہیں کریں گے جس پر مذہبی انتہا پسندوں کو اعتراض ہو گا۔

جناب کروگمین آزاد خیال سیاستدانوں کو مورود الزام ٹھہراتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہ اس وقت کھڑے تماشہ دیکھ رہے ہیں اور شاید ابھی امریکہ اس مقام پر نہیں پہنچا جہاں اسرائیل کی طرح سیاستدانوں کا قتل ہونا شروع ہو جائے لیکن وہ دن دور بھی نہیں ہیں۔

امریکہ کی طرح اسرائیل میں بھی مذہبی انتہا پسندوں کو اس لئے برداشت کیا جاتا تھا کہ کسی کو یہ خیال نہیں تھا کہ معاملہ وہاں پہنچ جائے گا جہاں پہنچ گیا ہے۔ پال کروگمین نے مسلمان اور ہندو انتہا پسندوں کا کوئی ذکر نہیں کیا جو پارلیمنٹوں کے اندر اور باہر انتہا پسند معاشرہ قائم کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں۔

امریکہ سے باہر رہنے والے لوگوں کو امریکہ میں بڑھتی ہوئی انتہا پسندی تو شاید نظر نہ آتی ہو لیکن ان کو امریکہ کا متضاد قول و عمل ضرور دکھائی دیات ہوگا۔ ایک طرف تو واشنگٹن پوسٹ میں شہ سرخی سے خبر چھپتی ہے کہ امریکہ نے ایک جرمن شہری کو بلا کسی قصور کے گوتاناموبے میں قید کیا ہوا ہے اور دوسری طرف سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی دی ہوئی خبر ہے جس میں پاکستان اور چین پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا الزام لگا رہا ہے۔

یہ اتفاق تھا یا کسی کاریگر نے ہاتھ دکھایا کہ سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی انسانی حقوق پر رپورٹ کے اجراء کے عین موقعے پر یہ خبر چھپوائی کہ خفیہ دستاویزات کو مطالعہ عام کے لئے مہیا کرنے کے بعد پہلی رپورٹ میں ہی واضح ہو گیا ہے کہ امریکہ کے فوجی پینل نے اپنے خفیہ اداروں کی رائے کو بھی تسلیم نہیں کیا جسکےمطابق جرمن شہری بے قصور تھا اور کسی دوسرے مشکوک ذریعے کے کہنے پر بے گناہ انسان کو ابھی تک جیل میں رکھا ہوا ہے۔

حیرت کی بات یہ ہے کہ امریکہ کے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے کافی قصے امریکی اخباروں میں چھپتے ہیں لیکن امریکی عوام اور حکام اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ امریکہ میں انسانی حقوق سب سے زیادہ محفوظ ہیں۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد