BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 28 April, 2005, 18:36 GMT 23:36 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ہند پاک: مفاہمت کی مجبوری؟

جنرل پرویز مشرف اور من موہن سنگھ
جنرل پرویز مشرف اور من موہن سنگھ
واشنگٹن کے سفارتی حلقوں نے ان خبروں کی تصدیق کی ہے کہ ہندوستان اور پاکستان بگلیہار ڈیم پر باہمی مصالحت کے لیے تیار ہیں۔ اگرچہ اسلام آباد، دہلی اور کشمیر سے متضاد اور مبہم بیانات جاری ہو رہے ہیں لیکن اکثر ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی حالات ایسے ہیں کہ دونوں ملک باہمی باہمی مصالحت کے بغیر اپنے اپنے سیاسی اور معاشی مقاصد حاصل نہیں کر سکتے اور بگلیہار ڈیم پر افہام و تفہیم اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔

ورلڈ بنک کے ذرائع کے مطابق بنک کے ایک ہندوستانی نژاد ماہر نے ہندوستان کو مشورہ دیا ہے کہ وہ یہ مقدمہ پاکستان سے جیت نہیں سکتا اس لیے اسے باہر ہی باہر مصالحت کر لینی چاہیے۔ اطلاعات کے مطابق ہندوستانی حکومت نے اس ہندوستانی نژاد ماہر سے غیر سرکاری سطح پر مشورہ طلب کیا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ اس مشورے کے بعد ہندوستان اس بات کے لیے تیار ہوگیا ہے کہ وہ ڈیم کا ڈیزائن سندھ طاس معاہدے کی شقوں کے مطابق بنا کر اعتراضات دور کردے۔ ورلڈ بنک کے پاکستانی نژاد ماہرین بھی کہتے ہیں کہ اگر ہندوستان بگلیہار ڈیم کا ڈیزاین تبدیل کر دے تو پاکستان کے اعتراضات ختم ہو جانے چاہیں۔

پاکستان کا اعتراض ہے کہ ہندوستان بگلیہار ڈیم پر بجلی ہی پیدا نہیں کرے گا بلکہ پانی بھی ذخیرہ کرے گا جبکہ سندھ طاس معاہدے کے تحت ہندوستان پاکستان کے حصے میں آنے والے تین دریاؤں، چناب، جہلم اور سندھ پر بجلی پیدا کرنے کے لیے ڈیم بنا سکتا ہے لیکن پانی کی ذخیرہ اندوزی نہیں کر سکتا۔دونوں ملکوں کے درمیان یہ تنازع کافی دیر سے چل رہا ہے۔

جب یہ تنازع سندھ طاس کمیشن میں طے نہ ہو سکا تو پاکستان یہ مقدمہ ورلڈ بنک میں لے گیا جو اس معاہدے کا آخری مصالحتی ادارہ ہے۔فیصلہ کرنے کے لیےورلڈ بنک نے دونوں ممالک سے فنی ماہرین کی تعیناتی کے لیےنام مانگے ہیں اور خود بھی نام تجویز کئے ہیں۔اگر دونوں ممالک کسی بھی فنی ماہر پر اتفاق نہیں کر سکیں گے تو ورلڈ بنک خود ہی فنی ماہر کا تعین کرے گا۔ اس کے بعد اگر کوئی ملک بھی فنی ماہر کا فیصلہ ماننے سے انکار کرے گا تو ورلڈبنک عدالت قائم کرے گا جس کا فیصلہ حتمی ہوگا۔

سفارتی حلقے پر امید ہیں کہ پاکستان اور ہندوستان بگلیہار کے علاوہ کشمیر کا مسئلہ حل کرنے میں پہلے سے کہیں زیادہ سنجیدگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ ان حلقوں کا کہنا ہے کہ ہندوستان کو ترقی کرکے بڑی طاقت بننے کے لیےاور سکیورٹی کونسل کی سیٹ حاصل کرنے کے لیے پاکستان سے تعلقات بہتر کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ اسی طرح پاکستان کو موجودہ معاشی بحالی کو جاری رکھنے کے لیےہندوستان کا تعاون چاہیے۔

پاکستان کا اعتراض
 پاکستان کا اعتراض ہے کہ ہندوستان بگلیہار ڈیم پر بجلی ہی پیدا نہیں کرے گا بلکہ پانی بھی ذخیرہ کرے گا جبکہ سندھ طاس معاہدے کے تحت ہندوستان پاکستان کے حصے میں آنے والے تین دریاؤں، چناب، جہلم اور سندھ پر بجلی پیدا کرنے کے لیے ڈیم بنا سکتا ہے لیکن پانی کی ذخیرہ اندوزی نہیں کر سکتا

کچھ پاکستانی پالیسی ساز تو یہاں تک تسلیم کرتے ہیں کہ اب پاکستان چند سو مجاہدین کو بھیج کر ہندوستان کی ناک میں نکیل نہیں ڈال سکتا اب اسے خود میدان جنگ میں لڑنا پڑے گا جس کا وہ متحمل نہیں ہو سکتا۔لہذا پاکستان کے پاس بھی ہندوستان کے ساتھ صلح جوئی کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے۔

سوال یہ ہے کہ کیا بگلیہار ڈیم پر پاک ہند صلح جوئی کشمیریوں کو بھی قابل قبول ہوگی جن کی زمین پر یہ ڈیم بن رہا ہے اور جو اس سے براہ راست متاثر ہوں گے۔

٭

اگر ہندوستان اور پاکستان صلح جوئی کی طرف چل پڑے ہیں تو امریکہ میں بھی کچھ مسلم تنظیمیں یہودیوں سے راہ و رسم بڑھا رہی ہیں۔ پچھلے دنوں ای میل میں ایک مسلم کونسل کی جانب سے اسرائیل کے یوم آزادی کا دعوت نامہ موصول ہوا۔ بالٹی مور، میری لینڈ میں یہ تقریب بارہ مئی کو ہوگی جس میں شہر کے میئر بھی شامل ہوں گے۔

اس سے پہلے آزاد خیال یہودیوں کے ساتھ مل کر نسلی تعصب کے خلاف مشترکہ جد و جہد کرنے کی بات تو بہت سے مسلمان دانشور کرتے رہے ہیں لیکن اسرائیل کے معتقد یہودیوں کے ساتھ اشتراک عمل کا ذکر کبھی سننے میں نہیں آیا تھا اب مسلم کونسل آف میری لینڈ نے یہ حد بھی توڑ دی ہے۔

اسرائیل و فلسطین کا چکر
 ہم مسلم کونسل کے تحت امریکہ میں مسلمانوں اور یہودیوں کے مشترکہ مسائل حل کرنے کے لیےجدوجہد کرتے ہیں اور اسرائیل فلسطین کے چکر میں نہیں پڑتے
شہاب کرنی

اس تحریک کے ایک مرکزی رہنما جناب شہاب قرنی سے جب پوچھا گیا کہ ان کا اسرائیل نواز یہودی تنظیموں کے ساتھ کن نکات پر اشتراک عمل ہے؟ انہوں نے اس کا براہ راست جواب تو نہیں دیا لیکن ان کا کہنا تھا کہ ہم مسلم کونسل کے تحت امریکہ میں مسلمانوں اور یہودیوں کے مشترکہ مسائل حل کرنے کے لیےجدوجہد کرتے ہیں اور اسرائیل فلسطین کے چکر میں نہیں پڑتے۔ انہوں نے بتایا کہ ان کو یہودی تنظیموں کے ساتھ اشتراک عمل کا یہ فائدہ ہوا ہے کہ جب یہودیوں کی عبادت گاہوں کی حفاظت کے لیےمالی امداد دی گئی تو مساجد کو بھی اس میں سے حصہ ملا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اسرائیل نواز تنظیموں کے ساتھ اشتراک عمل کرنے والی مسلمان تنظیموں اور افراد کے بارے میں کمیونٹی یا تو خاموش ہے اور یا پھر ان کا ساتھ دے رہی ہے۔ لگتا ہے کہ 11/9 کے بعد امریکی مسلمانوں میں خوف و ہراس کی فضا میں مسلمان مذہبی تنظیمیں فتوی بازی سے گریز کر رہی ہیں۔ ابھی یہ بتانا مشکل ہے کہ دوسرے مذاہب سے اشتراک عمل کرنے والے موقع پرستی سے کام لے رہے ہیں یا خلوص دل سے آزاد خیالی کا اظہار کر رہے ہیں۔ بہر حال یہ واضح ہے اکیسویں صدی نئے امکانات پیدا کر رہی ہے۔

٭٭

مسلم لیگ (ن) کے دانشور رہنما احسن اقبال کا دعوی ہے کہ یہ نواز شریف تھے جو پاکستان کو اکیسیویں صدی میں لانے کی کوشش کر رہے تھے۔

وہ ان دنوں امریکہ کے دورے پر ہیں اور واشنگٹن پالیسی انیلیسز گروپ میں صحافیوں اور دانشوروں سے تبادلہ خیالات کے دوران انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ پاکستان میں انفرا سٹریکچر کے ہر منصوبے پر نواز شریف حکومت کی چھاپ لگی ہوئی ہے جبکہ مشرف حکومت نے ایک بھی نیا منصوبہ نہیں بنایا۔

فوجی حکومتوں میں خوشحالی
 فوجی حکومتیں باہر کی طاقتوں کے ہاتھوں قومی مفادات بیچ کر وقتی خوشحالی پیدا کر دیتی ہیں جو کہ کچھ دیر بعد ٹُھس ہو جاتی ہے
احسن اقبال

ان کا کہنا تھا کہ موٹر وے ہو یا ٹیلیفون سسٹم، تعلیمی نظام ہو یا ہندوستان کے ساتھ تعلقات، مشرف حکومت نے نواز شریف دور کے مقابلے میں کہیں بھی بہتر کارکردگی نہیں دکھائی۔

ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ہر سول حکومت کی کارکردگی فوجی حکومت سے بہتر رہی ہے۔ فوجی حکومتیں باہر کی طاقتوں کے ہاتھوں قومی مفادات بیچ کر وقتی خوشحالی پیدا کر دیتی ہیں جو کہ کچھ دیر بعد ٹُھس ہو جاتی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد