پنجاب میں گھوڑا سیاست | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی پنجاب کے وزیر اعلی چوہدری پرویز الہی کے بارے میں لگتا ہے انہوں نے کنیہا لال ہندی کی تاریخ پنجاب کے کچھ صفحے ضرور پڑھے ہیں جو انہوں نے مشرقی پنجاب کے وزیر اعلی امریندر سنگھ کو تحفے کے طور پر گھوڑا دیا۔ یہ الگ بات ہے کہ سلطان نامی یہ گھوڑا بھارت کی سر زمین پر قدم رکھنے سے پہلے ہی لنگڑا ہو گیا اور اس کی جگہ پر متبادل گھوڑا پیش کیا جانے والا ہے لیکن اگر امریندر سنگھ کی بجائے راجہ رنجیت سنگھ ہوتے تو وہ چوہدری برادران کو مالا مال کردیتے کیونکہ موصوف کو خوبصورت گھوڑوں کا اس قدر جنون تھا کہ بہت سے علاقوں پر صرف گھوڑے چھیننے کے لیے حملے کیے۔ اس لیے یہ کہنا غلط نہیں ہو گا کہ پنجاب کے معاملات میں گھوڑا سیاست کا کافی ہاتھ رہا ہے۔ رنجیت سنگھ کی پشاورسیاست میں لیلی نامی گھوڑے نے بہت اہم کردار ادا کیا۔ لیلی پشاور کےحاکم یار محمد خان کی ملکیت میں تھا جس کو وہ جان سے زیادہ عزیز مانتا تھا۔ فتح علی خان قاچاری شاہ ایران نے اس گھوڑے کو لینے کے لیے پچاس ہزار روپیہ نقد (جو آج کے اعتبار سے کئی کروڑ روپیہ ہوگا)اور پچاس ہزار روپے سالانہ کی جاگیر کی پیشکش کی تھی۔ شہنشاہ روم نے بھی اس گھوڑے کے حصول کے لیے شہنشاہ ایران کو لکھا لیکن یار محمد نے اپنی زندگی میں یہ گھوڑا کسی کو نہ دیا۔ جب رنجیت سنگھ کو اس گھوڑے کے بارے میں پتہ چلا تو بقول کنہیا لال وہ ’مجنون ہوگیا‘ اور فوجی جرنیلوں سے کہا کہ یار محمد خان سے گھوڑا لیا جائے یا پشاور پر قبضہ کر لیا جائے۔ یار محمد خان نے بہت بہانے کیےاور جب کوئی بن نہ پڑی تو حکومت چھوڑ گھوڑا لے کر کابل بھاگ گیا۔ بعد میں اس نے رنجیت سنگھ کو یقین دلا دیا کہ گھوڑا مر گیا ہے۔رنجیت سنگھ نے اسے معاف کرکے پشاور واپس دیدیا۔ کچھ عرصہ بعد رنجیت سنگھ کو کسی جاسوس نے بتایا کہ لیلی گھوڑا اس کے پاس ہی ہے۔ رنجیت سنگھ نے اپنے بیٹے شہزادہ کھڑک سنگھ کو فوج دے کر بھیجا کہ یار محمد سے گھوڑا لے یا علاقہ چھین کر اسے ختم کردے۔ یار محمد خان نے گھوڑا دینا منظور نہ کیا اور شاہ احمد بریلوی شہید سے جا ملا۔ اس کے جواب میں رنجیت سنگھ نے یورپی جنرل ونتورہ کو ان کی سرکوبی اور لیلی گھوڑا لانے کے لیے بھیجا۔یار محمد خان اور شاہ احمد میں ناچاقی ہوگئی اور ایک لڑائی میں یار محمد مارا گیا۔ جنرل ونتورہ نے لیلی گھوڑے کو رنجیت شنگھ کے حضور بھیج دیا اور پشاور سلطان محمد خان کے سپرد کر دیا۔ رنجیت سنگھ لیلی کے ملنے سے پھولے نہ سمایا اور جنرل ونتورہ کی جاگیر دوگنا کردی۔ اسی زمانےمیں رنجیت سنگھ کو یہ خبر ملی کہ مذکورہ سلطان محمد خان کے بھائی شیر محمد خان کے پاس ’شیریں‘ نامی گھوڑا ہے۔ اس کو چھیننے کے لیے بھی شہزادہ کھڑک سنگھ کو فوج دے کر بھیجا گیا۔ کچھ رد و کد کے بعد شیر خان نے دس ہزار روپے سالانہ کی جاگیر کے بدلے شیریں گھوڑا رنجیت سنگھ کو دینا منظور کیا۔ اسی طرح نواب منکیرہ کے پاس بھی ایک پری نام کا گھوڑا تھا جس کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ وہ اس قدر سفید ہے کہ اس کے بدن پر کوئی اور داغ نہیں ہےاور دن میں ستر کوس (تقریبا سو میل) کا فاصلہ طے کر لیتا ہے۔ رنجیت سنگھ نے اپنے مشہور جرنیل مصر چند دیوان کو لکھا کہ وہ نواب سے گھوڑا طلب کرے اور اگر نواب دینے سے انکار کرے تو اس کی جائداد چھین لی جائے۔ دیوان مصر چند کچھ دن پہلے ہی اس سے زر نذرانہ یا خراج وصول کر کے آیا تھا لیکن راجہ کا حکم ملتے ہی واپس ہوا اور نواب سے گھوڑا چھین کر رنجیت سنگھ کی طرف روانہ کیا۔ انگریزوں کو بھی رنجیت سنگھ کی اس کمزوری کا بخوبی علم تھا لہذا انہوں نے بھی رنجیت سنگھ کے ملکہ کے لیے بھیجے تحفوں کے عوض چار گھوڑیاں اور ایک بینظیر گھوڑا بھیجا لیکن اس سلسلے میں سیاست یہ کی کہ رنجیت سنگھ سے کہا کہ یہ گھوڑیاں اور گھوڑے براستہ سندھ بھیجے جا سکتے ہیں۔ انگریز گھوڑے بھیجنے کے بہانے مستقبل کی فوجی مہموں کے لیے سندھ کا راستہ معلوم کرنا چاہتے تھے اور دریائے سندھ سے تجارت کے امکانات کا اندازہ لگانا چاہتے تھے۔ رنجیت سنگھ نئےگھوڑے ملنے کے نشے میں دھت تھا اور اس نے بلا تامل اس کی اجازت دے دی۔ انگریزوں نے بھی گھوڑا سیاست سے مقدور بھر فائدہ اٹھایا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ چوہدریوں کا گھوڑا کس راستے سے امریندر سنگھ تک پہنچتا ہے اور کیا رنگ دکھاتا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||