’بھارتی پذیرائی نے دل جیت لیے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان سے آنے والے تماشائی موہالی کی کرکٹ گراؤنڈ سے زیادہ بھارتی پنجاب کی سڑکوں پر نظر آ رہے ہیں اور بیشتر کا یہ کہنا ہے کہ بھارت کی حکومت اور شہریوں نے جس طرح سے پذیرائی کی ہے وہ ان کے وہم وگمان میں بھی نہیں تھی۔ پاکستانی شہری ابھی تک بھارت پہنچ رہے ہیں لیکن پہلے روز یعنی چھ مارچ کو آنے والوں کا تانتا بندھا ہوا تھا۔ بھارتی عملہ پاکستان سے آنے والوں کے امیگریشن فارم خود حل کر کے دیتا رہا اور خصوصی کاؤنٹروں پر کوئی لمبی لائن نہیں لگنے دی گئی۔ واہگہ باڈر پر کھانے پینے سے تواضع کی گئی اور پھر خصوصی بسوں کے ذریعے انہیں موہالی لے جایا گیا۔ ان بسوں کو راستے میں تین مقامات پر روک کر تواضع کی گئی۔ بھارتی شہری انتظار میں بیٹھے تھے اور پاکستانیوں سے بھری جو بھی بس آ جاتی اس کے مسافروں کو پھولوں کے ہاروں سے لاد دیا جاتا۔ اپنی والدہ کے ہمراہ سفر کرنے والے ناصر گیبریئل نے بتایا کہ’یہ استقبال حیران کر دینے والا ہے اور ہمیں یوں محسوس ہوتا ہے کہ ہم شاید کوئی وزیر ہیں یا کوئی بہت ہی اہم شخصیت ہیں۔ ہندوستانی لوگ تو بچھے بچھے جا رہے ہیں۔‘ چندی گڑھ اور گرد و نواح کے ہوٹل پہلے سے بُک تھے اس لیے پنجاب کرکٹ ایسوسی ایشن کے خصوصی کاؤنٹر لگے تھے جہاں سے پاکستانیوں کو مختلف گیسٹ ہاؤسز، دھرم شالوں، گردواروں اور سکولوں کے بورڈنگ ہاؤسز میں پہنچا دیا گیا جن میں سے بعض نے کھانا تک مفت فراہم کیا۔ موہالی کے شیفالی پبلک سکول میں ٹھہرے ایک پاکستانی ملک عارف نے بتایا کہ انہیں ہر روز سکول کی بس سیر کرانے لے جاتی ہے۔ اسی سکول کی بس ایک گردوارے پہنچی تو پاکستانیوں کو سکھ پگڑیاں یعنی سروپا باندھی گئیں۔
چندی گڑھ کے کئی گھرانے پاکستانی مہمانوں کی میزبانی کے لیے بےتاب تھے وہ انہیں اپنے اپنے گھروں میں لے گئے۔ ہندوستانی میزبانوں نے آؤ بھگت کے نئے طریقےاپنائے۔ کوئی انہیں بگھیوں پر لے کر پھر رہا ہے تو کئی پاکستانی پرانی نادر کاروں پر سیر کرتے نظر آتے ہیں۔ اس آؤ بھگت سے پاکستانیوں کے چہرے خوشی سے دمکتے نظر آرہے ہیں تو بھارتیوں کی خوشی کی بھی کوئی انتہا نظر نہیں آتی۔ مارکیٹوں میں جو کوئی پاکستانی اپنی شلوار قمیض یا دوسری نشانیوں سے پہنچانے جاتے ہیں بھارتی انہیں روک بات چیت شروع کر دیتے ہیں اور پھر پاکستانی کے گرد ایک جمگٹھا لگ جاتا ہے۔ طرح طرح کے سوال کیے جاتے ہیں، پاکستان کے بارے میں پوچھا جاتا ہے اور محبت کا اظہار کیا جاتاہے۔ بازاروں میں مختلف دکانوں پر پاکستانیوں کے لیے خصوصی رعایت کے سٹال لگے ہیں اور جہاں بھی کوئی پاکستانی شاپنگ کرتا ہے اسے کسی نہ کسی طرح خصوصی ڈسکاؤنٹ دیا جاتا ہے۔ چھوٹی موٹی چیز کے عام طور پر پیسے نہیں لیے جاتے اور زیادہ شاپنگ کی صورت میں خصوصی رعایت کے علاوہ کوئی تحفہ پاکستانی کی نذر کر دیا جاتا ہے۔ چندی گڑھ کے سیکٹر سترہ کی مارکیٹ میں ہر شام پاکستانیوں کے خصوصی میوزک شو کیے جا رہے ہیں اور کل رات وزیر اعلیٰ پنجاب امریندر سنگھ کی جانب سے چندی گڑھ کلب میں میوزک شو اور ڈنر تھا جس میں پاکستانی نوجوانوں نے بھنگڑے ڈالے اور رقص کیے۔ ایک بھارتی ریسٹورنٹ کے مالک راجندر سنگھ نے کہا کہ جب وہ لاہور میں میچ دیکھنے گئے تھے تو وہاں کے لوگوں نے محبت کی انتہا کر دی تھی اب وہ چندی گڑھ آ رہے ہیں تو ہم چندی گڑھ کی ناک نیچی نہیں ہونے دیں گے۔ بھارت کے ٹی وی چینلوں پر پاکستانیوں کی بے انتہا کوریج دکھائی جا رہی ہے۔ یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ موہالی ٹیسٹ دراصل پاک بھارت عوام کی دوستی کے ایک میلے کے انعقاد کا سبب بن گیا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||