موہالی کا میدان اور کرکٹ کا تناؤ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
موہالی میچ کا پہلا دن اپنے اختتام کو پہنچ چکا ہے۔ پاکستان کی ٹیم 312 رنز بنا کر پویلین میں واپس جا چکی ہے۔ وہ تمام ٹینشن جو ہم اب تک چھپائے ہوئے تھے، یوں لگتا ہے کہ ہمارے پوروں سے باہر آچکی ہے۔ اس میں کوئی مبالغہ نہیں، پاکستان اور انڈیا آمنے سامنے ہوں تو یوں ہی لگتا ہے۔ اس بحث کا آغاز بھی ہو چکا ہے، جس میں شرکت کے لیے کسی اجازت نامے یا اجازت کی ضرورت نہیں، کہ ’ایک تو پاکستان نے ٹیم ہی غلط کھلائی، نہ شاہد آفریدی کو شامل کیا اور نہ شعیب ملک کو، پھر سلمان بٹ سیدھی گیند پر آؤٹ ہو گئے، یونس خان ایمپائر روڈی کرزن کے ایک غلط فیصلے کا شکار اور پھر انضمام الحق بھی۔ کہیں یہ ایمپائر بھارت سے ملا ہوا تو نہیں ہے‘۔ ایک زمانہ تھا کہ کھیل سے وابستگی کی شدت اس سے بھی زیادہ تھی۔ اس شدت میں تو کمی آئی ہے مگر کمزور دل لوگوں کا اب بھی یہ حال ہے کہ نہ دیکھے بنتی ہے نہ چھوڑے۔ ہمارے کچھ سابق کھلاڑیوں کا، جن میں سرِ فہرست جاوید میانداد ہیں، خیال ہے کہ پاک بھارت میچوں میں اب وہ پہلے جیسا تناؤ نہیں ہے۔ شاید ماہرین کے لیے یہ ایک اچھا سائن ہوں۔ شاید ہم اب سیاست سے بالا کھیل سے محظوظ ہو سکتے ہیں۔ پاکستان اور ہندوستان کے درمیان امن کے داعی ’سرگرم‘ کارکن کے لیے بھی یہ امر یقیناً خوش کن ہے اور عام آدمی کو بھی ظاہر ہے کئی دہائیوں سے موجود جارح رویوں پر دوستی کے ٹھنڈے چھینٹے سے تھوڑا اطمینان تو ہے۔ مگر آپ کا مطمعۂ نظر کرکٹ کے میدان میں کامیابی ہے تو یہ کہنا ہی ہو گا کہ تناؤ میں اس کمی کا، اس دوستی کا پاکستان کرکٹ کو بہرحال نقصان ہی ہوا ہے۔
پاکستان کرککٹ ٹیم کسی اعتبار سے ایک پیشہ وارانہ یونٹ نہیں ہے۔ پاکستان کی ہندوستان یا پھر کسی دوسری ٹیم کے خلاف کامیابی کا دارومدار بڑی حد تک اس جذبہ پر ہے جو مختلف اوقات میں میں پاکستانی ٹیم میں پایا گیا ہے۔ یہ نہیں کہ پاکستان کے پاس اچھے کھلاڑیوں کی کمی رہی ہے۔ مگر جب تک مقابلے میں خاص قسم کا تناؤ نہ ہو محض پیشہ وارانہ تقاضے پاکستانی کھلاڑیوں کو ’موٹیویٹ‘ کرنے کے لیے ہمیشہ ناکافی ثابت ہوئے ہیں۔ یہ بیشتر مرتبہ ہوا ہے کہ پاکستانی کھلاڑی مقابلے کی شدت کی تاب نہیں لا پائے اور دھڑام سے فرش پر آگرے۔ مگر پاک بھارت کرکٹ کے اعتبار سے گرنے کا یہ عمل ہندوستان کے حصے میں زیادہ آیا ہے۔ پچھلے برس پاکستان میں ہونے والی سیریز موازنے سے مستثنیٰ ہے مگر وہ تو دوستانہ ماحول میں منعقد ہوئی تھی۔ اس کے مقابلے میں 1987 کی سیریز یاد کیجیئے جب ایسا محسوس ہوتا تھا کہ عمران خان کسی ’گوریلا فورس‘ کی قیادت کر رہے تھے جس کا مقصد موقع دیکھ کر دشمن پر ایک فیصلہ کن وار کرنا تھا۔ یہ موقع کمانڈر عمران کو بنگلور میں ملا۔ دورے میں کل چھ ٹیسٹ میچ تھے۔ پاکستان سیریز 0۔1 سے جیتا اور عمران فاتح بھارت قرار پائے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستان بنگلور ٹیسٹ عبدالقادر کے بغیر جیتا۔ اقبال قاسم اور توصیف احمد کو قادر پر فوقیت دی گئی۔ وسیم اکرم نے ہندوستان کی دوسری اننگز میں محض چند اوور کیے اور عمران نے بعد میں بتایا کہ وکٹ فاسٹ بولنگ کا سامنا کرتے ہوئے فاسٹ بولروں کے لیے بہت خطرناک تھی۔ اب اٹھارہ برس پرانے اس ٹیسٹ کا موازنہ موجودہ دورے سے کیجیئے۔ اب دانش کنیریا کو کھلائے بغیر پاکستان کا گزارہ ہی نہیں۔ پاکستان بلکہ ہندوستان کے ماہرین بھی انہیں ورلڈ کلاس لیگ سپنر قرار دے رہے ہیں۔ یقیناً کنیریا میں ٹیلنٹ ہے باقی میدان میں پتہ چلے گا۔ ویسے کنیریا کہہ رہے ہیں کہ ان کے پاس بھارتی ٹیم کو زیر کرنے کے نئے ہتھیار ہیں۔ 1987 سے لیکر اب تک پاکستان ٹیم کے کھیلنے کے انداز اور اس کے کھلاڑیوں کے معیار میں بہت فرق آیا ہے۔ اگر کسی چیز میں فرق نہیں آیا ہے تو وہ ہے پاکستان کے حکمرانوں کے ہندوستان میں کھیل دیکھنے جانے کے شوق میں۔ 1987 میں ضیاالحق تقریباً زبردستی ہندوستان میں میچ دیکھنے تشریف لے گئے ہیں۔ پرویز مشرف کہتے ہیں کہ وہ میچ دیکھنے ہندوستان جانا چاہتے ہیں مگر وہ بن بلائے کہیں آتے جاتے نہیں۔ سوائے اس وقت جب معاملہ حکمرانی کا ہو۔ شاید ان کی سنی گئی ہے اور ہندوستان سے دعوت نامہ بس آیا ہی چاہتا ہے۔ یقیناً ٹیم کو ان کے ’پاکستان فرسٹ‘ کے نعرے کی شدید ضرورت ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||