BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بھارتی کھلاڑی اور پاکستان کی تعریفیں

موہالی کا گراؤنڈ
لگتا ہے ہر پاکستانی موہالی جانا چاہتا ہے
پاکستان کرکٹ ٹیم بھارت پہنچ گئی۔ جی ہاں یہ اپنے آپ میں ایک خبر ہے۔ ایک تو ویسے ہی پاکستان کے پچھلے اور موجودہ دورے میں کئی برس کا وقفہ ہے اور پھر یہ کہ موجودہ دورہ شروع ہونے سے ذرا پہلے چند ایسے واقعات ہوئے جن کی وجہ سے شائقین کرکٹ کئی بار تذبذب کا شکار ہوئے، احمد آباد میں کھیلنے کا مسئلہ تھا۔ بالآخر پاکستان کرکٹ بورڈ، جو احمد آباد میں پانچ روزہ ٹیسٹ کھیلنے سے معذوری کا اظہار کر چکا تھا، اسی فساد زدہ شہر میں ایک بین الاقوامی ون ڈے کھیلنے کا رسک لینے پر آمادہ ہو گیا۔

اور پھر بھارت کی انتہا پسند جماعت شیو سینا ایک بار پھر پاکستان سے کھیل میں بھنگ ڈالنے کو اٹھ کھڑی ہوئی۔ کئی ایک ایسے گراؤنڈز میں جہاں میچ ہونے ہیں پچ اکھاڑنے کے واقعات ہوئے۔ زبانی کلامی بھی خاصے غصے کا اظہار کیا گیا۔ اس کا ایک ردعمل پاکستان میں یہ تھا کہ ہندوستان کے انتہا پسند پاکستانی شدت پسندوں کے مقابلے میں زیادہ خطرناک ہیں۔ کم از کم کرکٹ کی حد تک ۔ اس مفروضے کے ثبوت کے طور پر پچھلے برس کراچی، پشاور اور دیگر پاکستانی شہروں میں منعقد کردہ پاک بھارت میچوں کو پیش کیا گیا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ان تمام میچوں میں انتظامیہ اور خصوصاً شائقین کا رویہ مثالی رہا تھا۔

کچھ پاکستانی جو کھیل کو سمجھنے کا دعویٰ کرتے ہیں شیو سینا کی بھارت دوستی پر شک کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ شاید ہندوستان کو پاکستان پہ اپنی دھاک بٹھانے کا اس سے بہتر موقع کبھی ہاتھ نہ آئے۔ تو کیا ایسے وقت میں ہندوستان میں کسی بھی انتہا پسند گروپ کا ’پنگا‘ ضروری ہے۔

انضمام الحق کی زیرِقیادت پاکستانی ٹیم انتہائی کمزور قرار دی جا رہی ہے۔ انضمام اور یوسف یوحنا کے علاوہ کوئی بلے باز شائقین کو نہیں بھا رہا۔ رہا بولنگ کا شعبہ تو اس میں تو کوئی ایک بھی بڑا نام یا سٹار نہیں ہے۔ بقول سابق کپتان مشتاق محمد یہ پاکستان کی تاریخ کی سب سے کمزور ٹیم ہے۔

پاکستان ٹیم
موجودہ ٹیم کو سب سے زیادہ کمزور پاکستانی ٹیم کہا جا رہا ہے

کھیل کا نتیجہ تو بہرحال میدان میں ہی نکلتا ہے، کم از کم اس وقت ایسا لگتا ہے کہ بھارتی ٹیم کے کھلاڑی بھی پاکستان کا بھاؤ بڑھانے میں لگے ہوئے ہیں۔ کوئی دن ایسا نہیں جاتا جب کوئی نہ کوئی بھارتی کھلاڑی پاکستانی کھلاڑیوں کے بارے میں تعریفی و توصیفی کلمات ادا کرتا نہ دکھائی دیتا ہو۔ یہ شاید مارکیٹ کی ضرورت ہے یا پھر شاید خود بھارتی کھلاڑیوں پر سے دباؤ کم کرنے کی کوشش۔

ماہرین کی رائے اپنی جگہ مگر شائقین یقیناً پاکستان کے بھارت میں کھیلنے اور اچھا کھیلنے کے شدت سے منتظر ہیں۔ اس کا اندازہ موہالی ٹیسٹ (مارچ 8۔12) کے لیے ویزے جاری کرنے کے لیے لاہور میں قائم کیے گئے ویزہ آفس پر بھاری رش سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔

ہندوستان بہت سے پاکستانیوں کی نظر میں ’خانوں‘ کا کامیابی کا ملک ہے۔ یوسف خان، شاہ رخ خان، عامر خان، سلمان خان، ظہیر خان اور عرفان پٹھان۔ دورہ شروع ہونے سے پہلے ہی یہ پاکستان کی نمائندگی کرنے والے دو ’خوانین‘ ارشد خان اور یونس خان کے لیے بہت اچھا ثابت ہو چکا ہے۔ ارشد خان کئی برس بعد ٹیم میں جگہ بنانے میں کامیاب ہوئے جبکہ یونس خان یوسف یوحنا کی جگہ نائب کپتان نامزد ہوئے۔ یونس خان کی نائب کپتانی اس سوچ کا تسلسل نظر آتی ہے جس کے تحت بہت سے لوگ انہیں کپتان بنانے کا مطالبہ کرتے آ رہے ہیں۔

انضمام اور گنگولی
پاکستان کو میچ جیتے کے لیے بہت کوشش کرنا پڑے گی

انضمام اس فیصلے سے شاید اتنے خوش نہیں اور یہ امید کرتے ہوں گے کہ آسٹریلیا کے دورہ کے برعکس جہاں تین میں سے دو ٹیسٹ میچوں میں ان کی علالت کے باعث یوحنا کو کپتانی کے فرائض ادا کرنے پڑے تھے۔ اس بار وہ تمام میچوں میں کھیلنے اور کپتانی کرنے کے لائق رہیں گے۔

جہاں ’خوانین‘ کے لیے یہ دورہ ابھی سے اچھا ہے، ’شعیبین‘ کے لیے یہ کوئی اتنا اچھا ثابت نہیں ہو رہا ہے۔ شعیب اختر باؤلنگ نہیں کر سکتے اور دورہ پر ٹیم کے ساتھ نہیں جا سکے۔ شعیب ملک گئے تو ہیں مگر بولنگ نہیں کر سکتے۔

شعیب اختر بہرحال پاکستان کے سب سے اچھے فاسٹ بولر ہیں اور انکی کمی دورہ میں محسوس کی جائے گی۔ مجموعی طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان کی ٹیم کے لیے دورہ میں کوئی ٹیسٹ بذاتِ خود ڈرا کرنا انتہائی مشکل ہو گا۔ اس کے لیے بھارتی ٹیم کے بلے بازوں کو کافی وقت ضائع کرنا ہو گا کیونکہ وکٹ پر ٹھہرنے کا فن پاکستانی بلے بازوں کے پاس ذرا کم ہے۔ ہارنا یا جیتنا پاکستان کے لیے نسبتاً زیادہ آسان ہے۔ یہ نتیجہ کرکٹ کے لیے تو ہر صورت بہتر ہی ہے مگر ہارنا کون چاہتا ہے۔

younis khanموسم نہ جیت جائے
وارم اپ میچ پر موسم کی گرفت مضبوط
کرکٹ بالعمران کے مشورے
بھارت جانے والی ٹیم کو عمران خان کے مشورے
ظہیر ظہیر کے مشورے
وکٹ سے ایسے چپکنا کہ پولیس بلانی پڑ جائے
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد