وکٹ سے چِپکے رہنا: ظہیر عباس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
نامور پاکستانی بیٹسمین ظہیر عباس نے بھارت جانے والے پاکستانی بیٹسمینوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ کریز پر جمے رہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ بھارت میں ٹیسٹ سیریز کے لیے بیٹسمینوں کو زیادہ توجہ اس بات پر دینی چاہیے کہ وہ کریز پر کھڑے رہیں۔ ان کے بقول’خود کو اس طرح کریز سے چپکا لینا کہ بھارتی کھلاڑیوں کو تمہیں ہٹانے کے لیے پولیس بلانی پڑ جائے‘ ظہیر عباس پاکستان کے وہ بیٹسمین ہیں جنہوں نے بھارت کے خلاف دو بار ڈبل سنچریاں بنائی ہیں۔ ظہیر کا کہنا ہے کہ ان کا مشورہ یہ ہو گا پاکستانی کھلاڑی پوری کوشش اس بات کی کریں کہ ان کے وکٹ نہ لی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ سچن ٹنڈولکر اس سیریز بھی بنیادی اہمیت حاصل ہے اور وہ ایک ایسے بیٹسمین ہیں جو بھارتی بیٹنگ کو جوڑنے کا کام کریں گے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ کہنی میں مسلسل رہنے والی تکلیف کے باوجود سچن اس سیریز میں کھیلیں گے اور اس سے بھارت کو ایک اضافی نفسیاتی مدد حاصل ہو گی۔ ان کا کہنا ہے کہ سچن کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جانا چاہیے کہ گزشتہ سال سچن ٹنڈولکر نہیں کھیل پائے تو بھارتی کھلاڑی کس طرح غیر منظم رہے۔ ظہیر عباس نے 1985- 1969 کے دوران 78 ٹیسٹ میچوں میں 8ء44 کے اوسط سے پانچ ہزار باسٹھ رنز بنائے۔ انہوں نے کہا ہے کہ پاکستانی بھارت کے کھلاڑیوں پر اندرونی حمایت کے دباؤ کو اپنے حق میں استعمال کر سکتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’پاکستانی قدرے کمزور ہیں لیکن اگر انہوں نے بھارتی کھلاڑیوں پر اپنے ہی ملک کے شائقین کی توقعات کے دباؤ کو صحیح طرح سے استعمال کیا تو وہ بھارتی کھلاڑیوں کو حیران کر سکتے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||