انضمام پر کڑا وقت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان انضمام الحق اس وقت دباؤ میں ہیں۔ پاکستان ٹیم کی غیر تسلی بخش کارکردگی نے انضمام کے بطور کپتان مستقبل پر متعدد سوال اٹھائے ہیں۔ بطور بلے باز انضمام نے اپنے کیرئیر میں بیس سینچریوں کی مدد سے سات ہزار سے زائد رنز بنائے ہیں اور چند برس قبل مذاق کا نشانہ بننے والی انضمام کی فیلڈنگ اور وکٹوں کے درمیان تیزی سے دوڑنے کی صلاحیت میں بھی بہت بہتری آئی ہے۔ لیکن بطور کپتان دس ٹیسٹ میچوں میں تین فتوحات اور پانچ شکستوں کا ریکارڈ متاثر کن نہیں ہے۔ گزشتہ برس پاکستان میں بھارت کے ہاتھوں شکست انضمام کی کپتانی کے لیے ایک دھچکا تھی اور اب موجودہ سیریز میں شکست ان کے کپتانی کے لیے مہلک ثابت ہو سکتی ہے۔ پاکستان کے سابق کوچ رچرڈ پائی بس نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ یہ سیریز نہ صرف انضمام کے لیے بلکہ پاکستان ٹیم کی سمت متعین کرنے کے لیے نہایت اہم ہوگی۔ لوگ انضمام کو ایک قائد کے طور پر دیکھنا چاہتے ہیں اور یہ سیریز انضمام کو ایک کامیاب کپتان ثابت کر سکتی ہے۔‘ انضمام الحق کے ناقدین کا کہنا ہے کہ انہیں میدان میں کھلاڑیوں سے مزید بات چیت کرنے کی ضرورت ہے تاہم ایسا ہوتا نظر نہیں آتا۔ پاکستان کے سابق کھلاڑی وسیم راجہ کا کہنا ہے کہ’ میں انضمام کو طویل عرصے سے جانتا ہوں۔ میں ہی اسے آسٹریلیا کے انڈر 19 دورے پر لے کر گیا تھا اور وہ اس وقت سے اب تک بالکل نہیں بدلا ہے۔ وہ ایک خاموش طبع شخص ہے اور معاملات کو دیکھنے اور حل کرنے کا اسکا اپنا ہی طریقہ ہے‘۔ وسیم راجہ اور پائی بس دونوں کا ماننا ہے کہ صرف انضمام پر ہی پاکستان کی حالیہ شکستوں کا بوجھ نہیں ڈالا جا سکتا۔ وسیم راجہ کا کہنا تھا کہ ’ اگر انضمام اور یوحنا جلد آؤٹ ہو جائیں تو پاکستان ٹیم کی بیٹنگ کو سہارا دینے والا اور کوئی نہیں۔‘ پائی بس کا کہنا تھا کہ ’ آپ بہترین حکمتِ عملی بنا سکتے ہیں اور ٹیم کی رہنمائی کر سکتے ہیں لیکن ٹیم کو بھی ان ہدایات پر عمل کرتے ہوئے ذمہ داری رچرڈ پائی بس نے کہا کہ ’ ٹیلنٹ پاکستان کے لیے کبھی مسئلہ نہیں رہا۔ تاہم انہیں قائدین کی ضرورت ہے۔ انضمام الحق کی کپتانی کے لیے ایک فائدہ مند چیز یہ ہے کہ حالیہ دور میں ان کا کوئی متبادل نظر نہیں آ رہا ہے۔‘ پائی بس کے خیال میں بھارت کے خلاف سیریز میں کامیابی انضمام کو پاکستان کا قومی ہیرو بنا سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ اگر ایسا ہوتا ہے تو سب آسٹیریلیا کو بھول جائیں گے اور باب وولمربھی پاکستان کرکٹ کا بہترین اثاثہ سمجھے جانے لگیں گے۔‘ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||