BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 22 February, 2005, 12:31 GMT 17:31 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جونسے تکیہ کلام ہے، انضمام

انضمام الحق ایک مذہبی آدمی ہیں
انضمام الحق ایک مذہبی آدمی ہیں
پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان انضمام الحق لاہور کی ایک نئی آبادی میں دس مرلے کے کرائِے کے گھر میں رہتے ہیں کیونکہ ان کا ذاتی مکان زیر تعمیر ہے۔

ہندی اور اردو سروس کے پروگرام کے لیے انہیں بی بی سی کے’ زیرتکمیل لاہور سٹوڈیو‘ تک لانے کے لیےمیں ان کے گھر گیا تو ساتھ ہی ان کے دوست بھی پہنچنا شروع ہوگئے، وہ ان سے گپ شپ میں مشغول ہوئے تو سب کچھ بھول گئے۔

’ٹاکنگ پوائنٹ‘ کا وقت قریب آتا جا رہا تھا، مجھے فکر تھی کہ کہیں اپنے ساتھ وہ مجھے بھی رن آؤٹ نہ کرادیں لیکن ہر بار ان کا موقف ہوتا کہ بیس منٹ کا تو راستہ ہے بالآخر جب پروگرام شروع ہونے میں صرف پچیس منٹ رہ گئے تو وہ اٹھ کھڑے ہوئے اور ہم تین چار منٹ پہلے ہی پہنچ پائے یعنی رن آوٹ ہونے سے بال بال بچے۔

اب ان کی اپنے دوستوں سےباتیں کس قسم کی تھیں اس کی ایک مثال پیش خدمت ہے۔

انضمام اپنے دوست کو کہہ رہے تھے کہ ’ پیسے کی بڑی ناقدری ہوگئی ہے بچپن میں کبھی یہ دعا مانگا کرتا تھا کہ اللہ مجھےلکھ پتی بنادے آج یہ حال ہے کہ ایک کنال کا گھر ایک کروڑ میں آتا ہے۔ اب تو کروڑ پتی کی دعا بھی ناکافی ہوگی‘۔
اس دوران ان کے کمسن بھتیجے آئے تو انہیں باتوں میں لگا کر انضمام ان کی چاکلیٹیں کھاگئے۔

دوران سفر میں ہم عمری کے علاوہ خود اور انضمام میں کوئی قدر مشترک ڈھونڈنے کی کوشش کرتا رہا چونکہ کرکٹ میرا میدان نہیں اور رپورٹنگ کا فن انضمام کو اتنا ہی آتا ہے جتنی مجھے بیٹنگ ، اس لیے کسی اور میدان میں مماثلت ڈھونڈتا رہا بالآخر ایک نکتہ میرے ہاتھ آ گیا اور میں نے کہا کہ ’ ہمارے ایڈیٹر صاحب کو شکوہ ہے کہ میں لفظ ’جونسا‘ بہت بولتا ہوں۔‘

انضمام نے برجستہ جواب دیا کہ ’یہ کسی زبان کا لفظ نہیں ہے آپ اپنی درستی کریں میرا کام تو بیٹنگ کرنا ہےاور میں اسی میں اصلاح کی فکر کروں گا تاہم انہوں نے تسلیم کیا کہ ’جونسا‘ان کا بھی تکیہ کلام ہے اور ان کے اہل خانہ بھی اس پر اعتراض کرتے ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ ’ان پر مذہب کا بڑا اثر ہے اور چونکہ کپتان بھی جماعت کا امیر ہوتا ہے اور اس لیےخدا کے متعین کردہ اصول کے مطابق وہ ٹیم ارکان پر آنے والی مشکل کو خود برداشت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ خدا کے دیگر احکامات میں کسی کی توہین نہ کرنا اور ٹیم ممبر کی حق بات ماننا شامل ہے چاہے وہ آپ کا مخالف ہی کیوں نہ ہو۔‘

میں نے پوچھاکہ آپ اپنے پیشرو کی طرح جونئیرز کوگالیاں کیوں نہیں دیتے؟
انضمام نے کہا کہ جب انہیں غصہ آتا ہے تو انہیں یاد رہتا ہے کہ جب وہ جونئیر تھے اور کوئی انہیں گالی دیتا تھا تو ان پر کیا گزرتی تھی ان کا کہنا کہ وہ درد آج بھی ان کے دل میں محفوظ ہے اور وہ نہیں چاہتے کہ ایسا دکھ کسی اور کو پہنچے۔‘

انضمام نے کہاکہ وہ اپنے بالرز کو بھی منع کرتے ہیں کہ اگر کسی سے مس فیلڈ ہوجائے تو غصہ مت دکھائیں کیونکہ اس کا کوئی نتیجہ نہیں نکلے گا۔

انہوں نے کہا کہ ’لوگ مجھ پر الزام لگاتے ہیں کہ میں نرم کپتان ہوں لیکن مجھے اس کی پرواہ نہیں ہے میں وہی کرتا ہوں جو ٹھیک سمجھتا ہوں اور جیسا کہ خدا نے کرنے کا حکم دے رکھا ہے۔‘

انضمام الحق نے کہا کہ وہ اس وقت تک کپتان ہیں جب تک اللہ انہیں کپتان رکھنا چاہتا ہے۔

پاکستان اوربھارت کرکٹ سیریز کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ سارا دباؤ بھارت پر ہے کیونکہ سیریز بھار ت کی سرزمین پر ہو رہی ہے اور ان کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ کہیں اپنے گھر میں نہ ہار جائیں۔

انہوں نے کہا کہ وہ ’ہوم گراؤنڈ‘ اور ’ہوم کراؤڈ‘ کو فائدہ مند نہیں مانتے ہیں۔
اپنےعوام کے سامنے کھیلنے کا نقصان زیادہ ہوتا ہے۔ ہر کوئی پوچھتا ہے کہ کیا ہوا کیسے ہوا، مشورے دیتا ہے یوں کرلیتے تو یہ ہوجاتا وغیرہ جبکہ غیر ملک میں ایسی باتیں کرنے والا کوئی نہیں ہوتا نہ ہی پھر ڈپریشن ہوتا ہے۔

انضمام کا کہنا تھا کہ جب کلکتہ میں میچ ہو اور ایک لاکھ تماشائی ہوں یا قذافی سٹیڈیم بھرا ہو تو بھی کھلاڑی کو اس کی کوئی پروا نہیں ہوتی۔ بلے باز کی تمام تر توجہ بالر اور بالر کی توجہ کا مرکز صرف اورصرف بلے باز ہوتا ہے اوروہ اس بات سے بے نیاز ہوکر لڑ رہے ہوتے ہیں کہ سٹیڈیم میں ایک لاکھ تماشائی ہیں یا ایک ہزار۔ پاکستانی کپتان کا کہنا ہے کہ ’میچ کے وقت یہ سب بے معنی ہوجاتا ہے ۔‘

چودہ سال سے پاکستانی ٹیم میں بیشتر اوقات شامل رہنے والے کھلاڑی کا کہنا تھا کہ ’بعض اوقات ہمیں حیرت ہوتی ہے کہ کرکٹ کے بارے میں ہماری قوم اتنی جذباتی کیوں ہے اور اگر ہم میچ جیت جائیں تو لوگوں کی دیوانگی دیکھ کر حیرت ہوتی ہے اس وقت میں اپنا بچپن بھول جاتا ہوں جب میں بھی اتنا ہی دیوانہ تھا۔‘

جس دوران انضمام بی بی سی لاہور کے’ ادھورے سٹوڈیو‘ میں موجود رہے باہر ان کا فون وقفے وقفے سے بجتا رہا پہلی کال میں نے سنی اور ان کے لندن میں مقیم بھائی کا پیغام ان تک پہنچایا باقی پہلے نصف گھنٹے کی کالیں ہمارے دیگر ساتھیوں نے سنی ان کا کہنا تھا کہ بیشتر کالیں دوستوں اور ٹیم کے کھلاڑیوں کی جانب سے تھیں اور ہر کال سے محسوس ہوتا تھا کہ انضمام ایک انتہائی مقبول اور ہر دلعزیز شخصیت ہیں۔

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے مایہ ناز بلے باز واپسی پر اپنے سگریٹ اورلائیٹر میری کار میں ہی بھول گئے جو میرے پاس اس لیے کافی عرصے بطور امانت محفوظ رہیں گے کہ میں سگریٹ نہیں پیتا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد