شعیب ہمارا اثاثہ ہیں: انضمام الحق | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے کپتان انضمام الحق نے کہا ہے کہ شعیب اختر کو صرف فِٹ نہ ہونے کے سبب ٹیم میں شامل نہیں کیا گیا اور ان کی غیر موجودگی کی نہ ہی کوئی اور وجہ ہے نہ ہی اس کے پیچھے کوئی سیاست کارفرما ہے۔ انضمام الحق بی بی سی اردو اور ہندی سروس کے ایک مشترکہ پروگرام ’ٹاکنگ پوائنٹ‘ میں دنیا بھر سے بی بی سی کے سامعین اور قارئین کے براہ راست سوالوں کے جواب دے رہے تھے۔ انضمام نے کہا کہ شعیب کے نہ ہونے کی وجہ سے ٹیم کی کارکردگی پر فرق تو پڑے گا لیکن کسی کھلاڑی کے ان فٹ ہونے کے سلسلے میں ٹیم انتظامیہ بالکل بے بس ہوتی ہے۔
ایک سوال کے جواب میں انضمام الحق نے کہا کہ ’شعیب اختر ٹیم کا قیمتی اثاثہ ہیں اور اسی لیے انہیں سنبھال سنبھال کر استعمال کیا جا رہا ہے۔‘ پاکستان کی اوپننگ کی مسلسل ناکامیوں کے بارے میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے عظیم اوپننگ کھلاڑی سعید انور کی خدمات حاصل کی ہیں جو کرکٹ اکیڈمی میں نئے کھلاڑیوں کی تربیت پر توجہ دیں گے۔ انضمام الحق نے کہا کہ دو تین ماہ بعد نہ صرف نئے اوپننگ بیٹسمین سامنے آئیں گے بلکہ موجودہ کھلاڑیوں کی کارکردگی میں بھی واضح بہتری آئے گی۔ آسٹریلیا کے دورے میں پاکستانی ٹیم کی کارکردگی اور کپتان کی حیثیت سے ان کے ٹیم پر کنٹرول کے بارے میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انضمام نے کہا کہ آسٹریلیا سے ٹیم میں ڈسپلن کے فقدان کے بارے میں آنے والی خبریں بے بنیاد ہیں اور ان میں کوئی حقیقت نہیں ہے۔ انضمام نے کہا کہ انہیں ایک نرم خو کپتان سمجھنے والے یہ بھول جاتے ہیں کہ ’مجھے دیگر کپتانوں کی طرح میدان میں کھڑے ہو کر کھلاڑیوں کو گالیاں دینا اچھا نہیں لگتا۔‘ پاکستان کے احمد آباد میں ٹیسٹ میچ نہ کھیلنے کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں پاکستانی کپتان انضمام الحق نے کہا کہ اس معاملے کو ایک تنازعہ کی شکل دینا درست نہیں۔ ’یہ بورڈ کا فیصلہ تھا اور اس کے پیچھے ایک سوچ کارفرما تھی اور اگر بورڈ کی جگہ احمد آباد میں کھیلنے کے بارے میں مجھے فیصلہ کرنا پڑتا تو میں بھی ایسا ہی کرتا۔‘ اس معاملے میں پاکستان پر تنقید کرنے والے یہ کیوں فراموش کر دیتے ہیں کہ گزشتہ سیریز کے دوران انڈیا نے بھی کراچی میں ٹیسٹ کھیلنے سے انکار کر دیا تھا اور ہم جن مقامات پر ٹیسٹ میچ کھیل رہے ہیں وہ بھی تو بھارت ہی کے شہر ہیں۔‘ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ان کا آبائی خاندان کا تعلق دلی کے قریبی علاقے ہسار میں ’ہاسی‘ قصبے سے ہے اور ان کی کوشش ہو گی کہ وہ ہاسی کا دورہ کر سکیں۔ انضمام الحق نے کہا کہ وقار یونس کو بولنگ کوچ رکھنا ٹیم کے لیے نہایت مفید ہو گا کیونکہ انیس سو نوے کی دہائی میں پاکستانی کو تاریخ میں سب سے زیادہ فتوحات حاصل ہوئیں جن کے پیچھے وسیم اور وقار جیسے بولروں کی کوششیں شامل تھیں۔ اس تاثر کو غلط قرار دیتے ہوئے کہ ابھی تک ان کے رن آؤٹ ہونے کی عادت نہیں گئی، انضمام نے کہا کہ ’میرے مجموعی سکور گیارہ ہزار میں سے صرف تین ہزار باؤنڈریز کی مدد سے بنے ہیں جبکہ باقی دوڑ کر ہی مکمل کیے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||