’تھوڑے عرصے کے لیے کوچ نہیں بننا‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سابق کپتان اور مشہور فاسٹ بولر وقار یونس نے کہا کہ وہ تھوڑے عرصے کے ٹیم میں بولنگ کوچ بننے میں دلچسپی نہیں رکھتے۔ بی بی سی اردو اور ہندی کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے وقار یونس نے کہا کہ انہوں نے پاکستان کرکٹ بورڈ کو لمبے عرصے کے لیے اپنے مہیا ہونے کے بارے میں مطلع کر دیا ہے لیکن ان کے خیال میں ایک دورے کے لیے بولنگ کوچ بننے سے معاملات حل نہیں ہوں گے۔ وقار یونس نے کہا اگر بورڈ انہیں صرف انڈیا کے دورے کے لیے کوچنگ کی ذمہ داری سونپنا چاہتا ہے تو ان کے خیال میں یہ وقت کا ضیاع ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ دو دن میں جب ان کو کنٹریکٹ آفر ہو گا تب وہ فیصلہ کر پائیں گے۔ باب وولمر کے ساتھ کام کرنے کے متعلق وقار یونس نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ باب وولمر کے بطور کوچ موجودگی میں وہ اپنا کام بخوبی کر پائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ باب وولمر کی طبعیت کو اچھی سمجھتے ہیں اور ان کے ساتھ کام کرنے میں انہیں کوئی پریشانی نہیں ہو گی۔ جب پوچھا گیا کہ بطور بولنگ کوچ کیا کرنا چاہتے ہیں تو وقار یونس نے کہا کہ ان کی کوشش ہو گی کہ فاضل رنز کی تعداد کو روکا جا سکے۔ان کی کوشش ہو گی کہ بولرز کو لائن اور لینتھ پر بولنگ کرانے کی تربیت دے سکیں۔ انہوں نے کہا شبیر احمد، شعیب اختر اور عمر گل کی غیر موجودگی سے ٹیم کو کافی نقصان ہے۔ ان کے خیال میں یہ بولرزانڈیا کے خلاف کافی موثر ثابت ہو سکتے تھے۔ کپتان انضمام الحق نے وقار یونس کو لمبے عرصے تک بولنگ کوچ کو مقرر کرنے کی حمایت کی۔ انہوں نے کہا اس وقت ٹیم میں کوئی سینیئر بولر کی غیر موجودگی میں وقار یونس کافی فاہدہ مند ثابت ہو سکتے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||