BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 07 January, 2005, 12:37 GMT 17:37 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
انضمام الحق کی کپتانی مسترد

کپتان انضمام اور کوچ باب وولمر دونوں تنقید کی زد میں ہیں
کپتان انضمام اور کوچ باب وولمر دونوں تنقید کی زد میں ہیں
آسٹریلیا میں پاکستانی کرکٹ ٹیم کی شکست پر شدید ردعمل کا سامنے آیا ہے اور کراچی میں کپتان ، نائب کپتان اور کوچ کے پتلے جلائے گئے ہیں۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین شہریارخان نے ٹیم کی شکست پر افسوس کا اظہار کیا ہے لیکن انہوں نے ٹیم میں کسی تبدیلی کو رد کر دیا ہے۔

پاکستان کے سابق ٹیسٹ کرکٹرز نے آسٹریلیا میں مایوس کن کارکردگی کا براہ راست ذمہ دار کوچ باب وولمر اور کپتان انضمام الحق کو ٹہرایا ہے۔ اور وہ ٹیم کے کپتان اور کوچ کی تبدیلی چاہتے ہیں۔

سب سے حیران کن بیان عمران خان کی جانب سے سامنے آیا ہے جو انضمام الحق کے زبردست حامی سمجھے جاتے ہیں لیکن انہوں نے ایک آسٹریلوی اخبار کو انٹرویو میں کہا ہے کہ انضمام الحق کو کپتانی سے ہٹاکر یونس خان کو یہ ذمہ داری سونپ دی جائے جو ان کے خیال میں اس کے لئے موزوں ہیں۔

عمران خان قیادت کے لئے یوسف یوحنا کو بھی مسترد کر دیا کیونکہ ان کے خیال میں ان کا کہنا ہے کہ کپتان وہ ہونا چاہیے جس میں فائٹنگ اسپرٹ ہو۔

عمران خان کا کہنا ہے کہ انضمام الحق کو تیسرا ٹیسٹ کھیلنا چاہئے تھا وہ اپنی مثال دیتے ہیں کہ درد کم کرنے کے انجکشن لگوا کر وہ 1992 کا ورلڈ کپ کھیلے تھے۔

عمران خان کے مطابق بیٹسمین بولر کے برعکس مکمل فٹ نہ ہونے کے باوجود کھیل سکتا ہےخاص کر ایسے وقت میں جب ٹیم ناتجربہ کار ہو اور اسے آپ کی ضرورت ہو۔

آسٹریلیا میں کمنٹری کے لئے موجود سابق فاسٹ بولر وقار یونس کا کہنا ہے کہ انضمام الحق کو کپتان بنایا جانا بورڈ کی مجبوری تھی کیونکہ کوئی دوسرا نام اس کے پاس نہیں تھا لیکن اس کا ذمہ دار بھی کرکٹ بورڈ ہے جس نے کسی کپتان کو گروم نہیں کیا۔

سابق چیف سلیکٹر عامر سہیل کے خیال میں انضمام الحق اور باب وولمر کو کپتان اور کوچ بنانے کا فیصلہ غلط تھا۔ کھلاڑیوں کی اکثریت انگریزی سے واقفیت نہیں رکھتی ان حالات میں وہ کوچ کی بات کیسے سمجھ سکتے ہیں جبکہ ان کے مطابق انضمام الحق میدان میں اور میدان سے باہر خود کو ذہین کپتان ثابت کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکے ہیں۔

عامر سہیل کا کہنا ہے کہ سلیکشن میں غیرمستقل مزاجی کے نتیجے میں ٹیم کا صحیح کامبینیشن ہی تیار نہیں ہوسکا ہے۔ ایک سال کے عرصے میں کتنے ہی کھلاڑیوں کو آزمایا گیا۔

آسٹریلیا میں پہلے سے سلمان بٹ، یاسرحمید اور شاہدآفریدی کی موجودگی کے بعد اب مزید دو اوپنرز توفیق عمر اور محمد حفیظ بھی آسٹریلیا بھیج دیئے گئے ہیں جبکہ آسٹریلیا میں پاکستانی ٹیم کا اصل مسئلہ اوپننگ نہیں مڈل آرڈر بیٹنگ ہے۔

سابق چیف سلیکٹر صلاح الدین صلو کا کہنا ہے کہ باب وولمر کو کوچ بنے آٹھ ماہ ہوچکے ہیں لیکن وہ ٹیم کی کارکردگی بہتر کرنے کے بجائے لفظوں کی بازی گری میں مصروف ہیں۔

پرتھ ٹیسٹ میں انضمام الحق کی کپتانی پر تنقید کرتے ہوئے صلاح الدین صلو نے کہا کہ 78 رنز پر پانچ وکٹیں گرنے کے بعد شعیب اختر کو بولنگ سے ہٹانا درست فیصلہ نہ تھا۔ عبدالرزاق کو اس مرحلے پر بولنگ دے دینا ایسے ہی تھا جیسے کسی نے مچھلی کو کانٹے سے نکال دیا ہو۔

سابق ٹیسٹ کرکٹر شفقت رانا کا کہنا ہے کہ محمد آصف اور محمد خلیل اوسط درجے کے بولرز ہیں جو پاکستان میں گرین ٹاپ وکٹوں پر وکٹیں حاصل کررہے ہیں لیکن ملک سے باہر جاکر ایکسپوز ہوگئے ہم ڈومیسٹک کرکٹ میں سیمنگ وکٹیں تیار کرکے اوسط درجے کے بولرز تیار کررہے ہیں جبکہ وسیم اکرم، وقاریونس اور عمران خان نے سیدھی وکٹوں پر اپنی دھاک بٹھائی تھی۔

سابق ٹیسٹ کرکٹرز کے اعتراضات کے جواب میں کرکٹ بورڈ کے چیئرمین شہریارخان کہتے ہیں کہ باب وولمر اور انضمام الحق کی تبدیلی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

چیف سلیکٹر وسیم باری کا کہنا ہے کہ انہوں نے بہترین دستیاب کھلاڑیوں میں سے ٹیم منتخب کی ہے اگر وہ میدان میں پرفارمنس نہیں دے رہی تو اس بارے میں کپتان اور کوچ سے سوال پوچھا جائے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد