پاکستانی کرکٹ ٹیم میں ردو بدل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کرکٹ بورڈ کی سلیکشن کمیٹی نے آسٹریلیا میں ہونے والی سہ فریقی ون ڈے سیریز کے لیے پاکستانی ٹیم میں چار تبدیلیاں کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اوپنرز توفیق عمر اور محمد حفیظ، تیز بولر راؤ افتخار اور آل راؤنڈر اظہر محمود آسٹریلیا جارہے ہیں جبکہ ٹیسٹ ٹیم میں شامل دانش کنیریا ، محمد آصف، عاصم کمال، عمران فرحت اور محمد سمیع ڈراپ کردیئے گئے ہیں۔ یہ پانچوں کھلاڑی وطن واپس آجائیں گے۔ محمد سمیع فٹ نہ ہونے کے سبب ٹیم میں جگہ برقرار رکھنے میں کامیاب نہیں ہوسکے ہیں۔ کپتان انضمام الحق اور عبدالرزاق جو فٹ نہ ہونے کے سبب سڈنی ٹیسٹ نہیں کھیل سکے تھے ایک روزہ سیریز کے لیے ٹیم میں برقرار رکھے گئے ہیں۔ محمد حفیظ کو بیٹنگ کے ساتھ ساتھ آف اسپن کی اضافی خوبی کے پیش نظر ٹیم میں شامل کیا گیا ہے وہ آخری بار اکتوبر 2003 میں جنوبی افریقہ کے خلاف راولپنڈی کا ون ڈے کھیلے تھے۔ راؤ افتخار نے گزشتہ سال زمبابوے کے خلاف ملتان اور پشاور میں دو ایک روزہ میچ کھیلے تھے جن میں وہ صرف ایک وکٹ ہی حاصل کر پائے تھے۔ توفیق عمر اس سال بھارت کے خلاف اچھی کارکردگی نہ دکھائے جانے کے بعد سے ٹیم سے باہر کر دئے گئے تھے تاہم ڈومیسٹک کرکٹ میں اچھی کارکردگی کے ذریعے وہ سلیکٹرز کی توجہ اپنی جانب مبذول کرانے میں کامیاب ہوئے ہیں وہ 18 ون ڈے میچوں میں تین نصف سنچریاں بناچکے ہیں۔ بنیادی طور پر ٹیسٹ کے اوپنر سمجھے جاتے ہیں آسٹریلیا میں پہلے سے سلمان بٹ، یاسرحمید اور شاہد آفریدی کی موجودگی اور اب محمد حفیظ کی ٹیم میں شمولیت کے تناظر میں توفیق عمر کو ایک روزہ ٹیم میں شامل کیے جانے کے فیصلے کو بھی مبصرین حیرت سے دیکھ رہے ہیں۔ تاہم سب سے حیران کن فیصلہ اظہرمحمود کی ٹیم میں واپسی کا ہے جو 1999 کی ورلڈ سیریز میں نصف سنچری کے بعد سے پانچ سال کے طویل عرصے کے دوران کھیلی گئی 42 ون ڈے اننگز میں صرف 567 رنز بناسکے ہیں جبکہ 2000 ء میں آئی سی سی ناک آؤٹ ٹورنامنٹ میں نیوزی لینڈ کے خلاف میچ میں چار وکٹوں کی عمدہ کارکردگی کے بعد چار سال کے دوران 36 اننگز میں بولنگ کرتے ہوئے وہ 67 کی بھاری اوسط سے صرف 19 وکٹیں حاصل کرپائے ہیں۔ انہیں ٹیم میں شامل کرنے کی خواہش کپتان اور کوچ نے ظاہر کی تھی جو سلیکشن کمیٹی نے پوری کردی۔ کپتان اور کوچ معین خان کو بھی ٹیم میں شامل کرنے کی خواہش رکھتے تھے لیکن سلیکٹرز نے اسے نہیں مانا جس کا سبب حالیہ انٹرنیشنل مقابلوں میں معین خان کی مسلسل مایوس کن کارکردگی ہے۔ آخری دس ون ڈے اننگز میں معین خان دس کی اوسط سے صرف 95 رنز اسکور کرنے میں کامیاب ہوسکے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||