’جو اچھا کھیلے گا وہی جیتے گا‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی کرکٹ ٹیم 28 فروری سے ہندوستان کا دورہ شروع کر رہی ہے۔ اس سلسلے میں بی بی سی کی ہندی اور اردو سروس نے پروگرام ٹاکنگ پوائنٹ میں بھارتی ٹیم کے کپتان سورو گنگولی کو مدعو کیا اور انہوں نےشائقینِ کرکٹ کے سوالات کے جواب دیے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان میچوں میں پریشر سے متعلق سوال کے جواب میں گنگولی کا کہنا تھا کہ میچ جہاں بھی ہو دونوں ٹیموں پر پریشر رہتا ہے۔ جب ہم پاکستان گئے تھے تو ایک جیسا دباؤ تھا اور اب جب وہ یہاں آئے ہیں تو بھی دونوں پر ایک جیسا دباؤ ہے۔ جب گنگولی سے پوچھا گیا کہ کیا پاکستان اور بھارت کے درمیان ’ایشز‘ کی طرز پر کوئی سیریز ہونی چاہیے تو انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے میچ اس سے بھی کہیں زیادہ دلچسپ ہوتے ہیں۔ اس دورے میں پاکستان اور بھارت کی ٹیموں کے درمیان فرق کے بارے میں بھارتی کپتان کا کہنا تھا کہ پاکستان خطرناک ٹیم ہے ان کی کارکردگی اوپر نیچے ہوتی رہتی ہے لیکن وہ کبھی بھی خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں جبکہ بھارتی ٹیم پاکستان کے مقابلے میں زیادہ تجربہ کار ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ موجودہ دورے میں سابقہ ریکارڈ سے فرق نہیں پڑے گا اور جو اچھا کھیلے گا وہی جیتے گا۔ اس سوال پر کہ موجودہ سیریز میں کون سا بھارتی کھلاڑی ترپ کا پتہ ثابت ہوسکتا ہے، سورو گنگولی نے کہا کہ ان کے خیال میں وی وی ایس لکشمن اس سیریز میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کریں گے۔ سچن تندولکر کی فٹنس اور فارم کے بارے میں گنگولی کا کہنا تھا کہ وہ اس سلسلے میں بالکل پریشان نہیں ہیں اور یہ کہ سچن جیسے کھلاڑی کی کارکردگی پر کسی کو بھی شبہ نہیں ہونا چاہیے۔ شعیب اختر کے ان فٹ ہونے پر گنگولی نہ کہا کہ یہ بھارت کے لیے ایک اچھی خبر ہے۔ حالیہ دورے کے لیے بھارتی حکمتِ عملی پرگنگولی کا کہنا تھا کہ 14 کھلاڑیوں کو سوچ سمجھ کر منتخب کیا گیا ہے۔ پاکستان کی گزشتہ سیریز فاسٹ بالروں نے جتوائی تھی سو اب وکٹ دیکھ کر حکمتِ عملی طے کی جائے گی۔ اپنی ذاتی کارکردگی کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں گنگولی نے کہا کہ کپتان بننے کے بعد پہلے برس ان کی کارکردگی متاثر ہوئی تھی تاہم اس کے بعد ان کی کارکردگی برقرار رہی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||