BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 09 February, 2005, 16:13 GMT 21:13 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بھارتی کھلاڑی چیلنج کے لیے تیار

گنگولی اور انضمام
گنگولی کی ٹیم پاکستان کے خلاف پہلے ہی اچھی کارکردگی دکھا چکی ہے
ایک طرف اگر ہند پاک کرکٹ بورڈز احمد آباد گراؤنڈ کے تنازع میں الجھے ہوئے ہیں تو دوسری جانب ہندوستان کے بہترین کرکٹ کھلاڑی آنے والی سیریز کی زبردست تیاریوں میں مصروف ہیں۔

سٹار بیٹسمین سچن تندولکر اور سپنر ہربھجن سنگھ کو چھوڑ کر ملک کے اولین 36 کھلاڑی ممبئی میں تین ٹیموں کے چیلنجز ٹرافی میں ایک دوسرے کا مقابلہ کر رہے ہیں۔

ہند پاک سیریز کے ابتدائی میچ میں اگر شعیب اختر کی شمولیت کے بارے میں شبہ ہے تو ہندو ستان کی جانب سے سچن کے بارے میں شک ہے۔

تندولکر کے ہاتھ میں چوٹ لگ گئی ہے اور وہ ملکی مقابلوں میں حصہ نہیں لے رہے ہیں ۔ 31 سالہ سچن نے آخری میچ بنگلہ دیش میں کھیلا تھا اس کے بعد سے ڈاکٹروں نے انہیں آرام کا مشورہ دیا ہے۔

سچن کہتے ہیں ’میں عجلت میں گراؤنڈ پر نہیں اترنا چاہتا۔ میں پاکستان کے خلاف کھیلنے کے لیے بے قرار ہوں لیکن میں تب ہی کھیلوں گا جب میں پوری طرح صحتیاب ہو جاؤں اور پوری طرح کھیلنے کے قابل ہوں گا‘۔

لیکن ہندوستانی ٹیم کے بیشتر کھلاڑیوں نے بنگلہ دیش کے دورے کے بعد کسی مقابلے میں حصہ نہیں لیا ہے۔ پاک ہند سریز کے ممکنہ کھلاڑیوں کو چیلنجز ٹرافی کی تین ٹیموں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ کپتان سارو گنگولی سینیئر ٹیم کی قیادت کر رہے ہیں۔ وائس کیپٹن راہول ڈراوڈ انڈیا اے کے کپتان بنائے گئے ہیں اور وریندر سہواگ انڈیا بی کی کپتانی سنبھالے ہوئے ہیں۔

اس ٹورنامنٹ کے بعد یہ کھلاڑی دلیپ ٹرافی کے لیے اپنے اپنے خطوں کی طرف سے کھیلں گے۔

پاکستان کے خلاف سخت مقابلے کے امکان کے پیش نظر تیاری کے لیے دلیپ ٹرافی کو وقت سے پہلے منعقد کیا جا رہا ہے۔

ہندوستانی ٹیم کے کپتان سارو گنگولی کہتے ہیں ’پاکستان کے خلاف تیاری کے لیے یہی تین ہفتے ہیں اور جب تک پاک ٹیم یہا ں آتی ہے ہمیں پوری طرح فٹ ہونا چاہیئے‘۔

پاکستان کی ٹیم 25 فروری کو ہندوستان پہنچ رہی ہے۔ یہ گزشتہ چھ برسوں میں انکا پہلا دورہ ہے۔ اس دورے میں پاکستان تین ٹیسٹ میچ اور پانچ ون ڈے انٹر نیشنل کھیلے گا۔

ہندوستان کے وائس کپتان راہول ڈراوڈ نے پہلے ہی اپنے کھلاڑیوں کو وارننگ دے دی ہے کہ ’اگر پاکستان نے ایک سیریز میں خراب کارکردگی دکھائی اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ ہمیشہ ایسا ہی کھیلیں گے۔ سیریز میں جیسی کارکردگی ہوگی اسی کی بنیاد پر کھیل کے نتیجے کا فیصلہ ہوگا۔ پاکستانی ٹیم ایک اچھی ٹیم ہے اور وہ پچھلا حساب برابر کر سکتی ہے۔ یہ ایک سخت سیریز ہوگی‘۔

لیکن ہندوستانی کیمپ میں ایک دو مشکلات بھی ہیں۔ سلیکٹرز کے چیئرمین کرن مورے نے کہا ہے کہ وہ ٹیم کے لیے ایک آل راؤنڈر اور ایک وکٹ کیپر ڈھونڈ رہے ہیں جو بیٹ بھی کر سکے۔

موجودہ ٹرافی میں تین تین وکٹ کیپر دنیش کارتک ، پارتھیو پٹیل اور مہیندر ڈھونی اس مقام کو حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہندوستانی کھلاڑیوں کے زخمی ہونے سے بھی تشویش ہے۔ لیکن فاسٹ بولرز ظہیر خان ، اجیت اگرکر ، لکشمی پتی بالاجی اور آشیش نہرہ بھی فٹ ہیں۔

فاسٹ بولر عرفان پٹھان رگوں میں ہلکے سے درد کے سبب آرام کر رہے ہیں۔ آف سپینر ہربھجن سنگھ اپنی بولنگ کو صحیح کرنے کے لیے آسٹریلیا جانے کی تیاری کر رہے ہیں۔

لیکن فاسٹ بولر گنگادیپ سنگھ ، بٹسمین امباتی رایو دو اور ایس ایس ایس پال پر چیلنجز ٹرافی کے درمیان ممکنہ کھلاڑیوں کے انتخابات کے دوران گہری نظر رکھی جائے گی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد