دعوت دیں گے یا نہیں، بھارت خاموش | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت نے ان اطلاعات پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے کہ وہ پاکستان کے صدر پرویز مشرف کو پاک بھارت کرکٹ سیریز دیکھنے کی دعوت دے گا۔ بھارتی دفترِخارجہ کے ترجمان نیوتیج سرنا نے کہا کہ’ میرے پاس اس سلسلے میں کوئی معلومات نہیں ہیں۔ جب بھارتی حکومت اس معاملے کا جائزہ لے گی تو سب کو مطلع کر دیا جائے گا۔‘ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ چونکہ یہ بات ابھی مبہم ہے کہ آیا کہ صدر مشرف کو دعوت دی جائے گی یا نہیں اس لیے وہ اس معاملے پر تبصرہ نہیں کرنا چاہتے۔ یاد رہے کہ جمعہ کو پاکستانی صدر جنرل پرویز مشرف نے کہا تھا کہ وہ بھارت جا کر کرکٹ میچ دیکھنا پسند کریں گے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا تھا کہ وہ بنا دعوت کے کہیں جانے پر یقین نہیں رکھتے اور اگر انہیں دعوت دی جاتی ہے تو وہ اس پر ضرور غور کریں گے۔ صدر مشرف کی اس خواہش نے 1987 میں جنرل ضیاءالحق کی ’ کرکٹ ڈپلومیسی‘ کی یاد تازہ کر دی ہے جب پاک بھارت کشیدہ تعلقات کے باوجود وہ جے پور میں ہونے والا کرکٹ میچ دیکھنے گئے تھے۔ پاکستانی ٹیم چھ برس بعد بھارت کا دورہ کر ہی ہے اور اس مرتبہ ہزاروں پاکستانی بھی اپنی ٹیم کا حوصلہ بڑھانے کے لیے بھارت گئے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||