ٹیسٹ کےلیے پاکستانی تماشائی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت اور پاکستان کے درمیان موہالی میں ہونے والے پہلے کرکٹ ٹیسٹ کے لیے آج سے پاکستانی تماشائی بھارتی صوبے پنجاب اور ہریانہ پہنچ رہے ہیں جہاں کے لوگوں نے انہیں اپنے گھروں میں قیام کی پیشکش کی ہے۔ پاکستانی ٹیم بھارت پہنچ چکی اور ایک پریکٹس میچ کھیل بھی چکی لیکن پاکستانی تماشائی آج جا رہے ہیں۔ بھارت ہائی کمیشن نے اس ٹیسٹ کے لیے جو ٹکٹ جاری کیے تھے ان میں اٹاری سے موہالی تک کے مفت سفر کے کوپن بھی شامل ہیں۔ لاہور کے امیگریشن کے ا یک افسر نے بتایاکہ لاہور سے دوخصوصی ٹرینیں تین ہزار تماشائیوں میں سے زیادہ تر کو لیکر براہ راست چندی گڑھ پہنچ رہی ہیں اور کچھ تماشائی واہگہ کے راستے پیدل بھارت داخل ہو رہے ہیں۔جہاں سے خصوصی بسیں انہیں چندی گڑھ اور موہالی پہنچائیں گی۔ بھارت نے پاکستانی تماشائیوں کو ہریانہ اور پنجاب کے چھ شہروں موہالی، چندی گڑھ، روپڑ، انبالہ، پٹیالہ اور پنچ کلا کے ویزے اس لیے جاری کیے ہیں تاکہ انہیں قیام کی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے ۔ بھارتی ہائی کمشن کے اہلکار کاکہنا ہے کہ اس کے علاوہ ان شہروں کے مقامی لوگوں نے رضاکارانہ طور پرمیزبانی کرنے کی پیشکشں بھی کی ہیں اور جن تماشائیوں کا کہیں قیام کا بندوبست نہیں ہوسکے گا انہیں ہریانہ اور پنجاب کے لوگ مہمان بنا کر اپنے گھروں میں لے جائیں گے اور میزبانی کا کوئی معاوضہ وصول نہیں کریں گے۔ بھارتی وزیر خارجہ نٹور سنگھ نے اعلان کیا تھا کہ موہالی ٹسٹ میچ کے لیے آٹھ ہزار ویزے جاری کیے جائیں گے لیکن تقریباتین ہزار ویزے ہی جاری کیے جا سکے۔اس کی وجہ لوگوں کی عدم دلچسپی بتائی جاتی ہے بھارتی حکام نے پوری کرکٹ سیریز کی بجائے صرف ایک میچ کے ٹکٹ جاری کیے تھے جبکہ تماشائی کی بڑی تعداد بھارت کے شہروں آگرہ اور دہلی بھی جانا چاہتی تھی ۔ بھارتی ہائی کمیشن کے ایک اہلکار ایم کے مصطفی نے کہا کہ یہ کرکٹ ویزہ ہے اور اس میں دہلی اور آگرہ کا ویزہ کس طرح شامل کیا جاسکتا تھا اس لیے ٹکٹیں توقع سے کم فروخت ہوئیں اور جو ٹکٹیں بچ گئی تھیں وہ واپس بھجوادی گئی ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||