پاکپتن کا بہشتی دروازہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکپتن میں ہر سال کی طرح اس بار بھی پانچ محرم کو فرید الدین مسعود شکر گنج عرف بابا فرید کا بہشتی دروازہ کھل گیا۔ لاکھوں لوگ اس دروازے سے گزریں گے اور ہر سال کی طرح بہت سے شوقِ بہشت کی بھگدڑ میں ڈھیر ہو جائیں گے۔ پتا نہیں کہ لوگ کون سا خواب لے کر اس بہشتی دروازے سے گزرتے ہیں لیکن بابا فرید دلی کی پُر رونق راحتوں کو چھوڑ کر اُس وقت کے اجودھن اور آج کے پاکپتن کو بہشت سمجھ کر ہی یہاں ڈیرہ نشین ہوئے تھے۔ ان کا دل بادشاہوں کی قربت سےگھبرایا تو ہانسی چلے گئے لیکن وہاں بھی شور و غوغا دیکھا تو اپنے وطن اور ہم زبان لوگوں میں لوٹ آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ: بابا فرید نے خاندان غلاماں کا آغاز اور جوبن دیکھا اور ان کی تہس کاریوں کے مناظر دیکھے۔ ہندوستان کے طول و عرض میں فارسی اشرافیہ اور شعراء کا بڑھتا ہوا اثر و رسوخ دیکھا لیکن ان کو تو علوم مروجہ پر قدرت حاصل کرنے کے بعد چشتیہ مکتب فکر کا انسان دوست عوامی رنگ پسند آیا۔ ان کو اپنے ہم وطن بہاؤ الدین زکریا کے سہروردیہ نظریات کی طرف رغبت نہیں ہوئی۔ بابا فرید کی زندگی مکمل طور پر عوامی تھی۔ وہ نہ صرف ہمیشہ عوام کے ساتھ زندہ رہے بلکہ وہ شمالی ہندوستان کے پہلے دانشور تھے جنہوں نے عوام کی زبان پنجابی کو اظہار خیال کا ذریعہ بنایا۔ انہوں نے پنجابی زبان میں بھگت کبیر، میرا بائی اور تلسی داس سے بھی تین سو سال پہلے عوام کی زبان میں لکھنے کی طرح ڈالی۔ ان کا کلام گرو گرنتھ صاحب کا بھی حصہ بنا جس کا سکھ ہر روز ورد کرتے ہیں۔ کہا جاتا ہے بابا فریدجہاں بھی جاتے ان کی کوشش ہوتی کہ پنجابی میں ہی گفتگو کریں اور ان کی اسی ادا کو دیکھ کر کسی بزرگ نے پیشگوئی کی تھی کہ وہ ایک دن بہت بڑے آدمی ہوں گے۔ اور یہ پیشگوئی ہر لحاظ سے درست ثابت ہوئی کہ بابا فرید ہی ہندوستان کی زبانوں اور فنون کے احیاء کے جدِ امجد بنے۔ ان کے مقرر کئے چشتیہ کے چوتھے رہنما نظام الدین اولیاء کا (امیر خسرو کے حوالے سے) برِصغیر کے علم و فن پر اثر کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔ بابا فرید 1173 میں ملتان کے ایک قصبے کھوتووال میں پیدا ہوئے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ ان کے آباء کابل کے فرخ شاہ کی اولاد میں سے تھے۔ سیرالعارفین (تصنیف 1311 ھ مطبوعہ رضوی دہلی) کے مصنف حامد بن فضل اللہ جمالی کہتے ہیں کہ بابا فرید کے والد شیخ شعیب سلطان محمود غزنوی کے بھانجے تھے جو شہاب الدین غوری کے زمانے میں ملتان کے قصبہ کھوتووال میں آ کر آباد ہوئے۔ بعض روایات کے مطابق ان کے دادا ہجرت کر کے لاہور آئے اور اس کے بعد کچھ وقت قصور میں گزار کر کھوتوال چلے گئے۔ بابا فرید ملتان میں منہاج الدین کی مسجد میں زیر تعلیم تھے جہاں ان کی ملاقات جناب بختیار کاکی اوشی سے ہوئی اور وہ ان کی ارادت میں چلے گئے۔ اپنے مرشد کے حکم پر بین الاقوامی اور سماجی تعلیم کے لیے قندھار اور دوسرے شہروں میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد دلی پہنچ گئے۔ مرشد کی وفات پر ان کو چشتیہ سنگت کا سربراہ بنایا گیا۔ وہ معین الدین چشتی اور بختیار کاکی کے بعد اس کے تیسرے سربراہ تھے۔ ویسے تو یہ کہا جاتا ہے کہ ان کو دلی کی شان و شوکت ہرگز پسند نہ تھی جس کی وجہ سے وہ پہلے ہانسی اور پھر اجودھن یا پاک پتن میں ڈیرہ نشیں ہو گئے۔ لیکن کچھ روایات کے مطابق دلی اور اس کے گرد و نواح کی چشتیہ اشرافیہ ملتان کے ایک قصباتی نوجوان کو سربراہ ماننے کو تیار نہ تھی اور ان کے خلاف سازشیں ہو رہی تھیں جس کی وجہ سے وہ پاکپتن تشریف لے آئے۔ شاید دونوں باتیں ہی درست ہوں کہ ان کے خلاف سازشیں بھی ہو رہی ہوں اور ان کو اپنے دیس کی عوامی زندگی بھی پسند ہو۔ وہ کہتے ہیں: پاکپتن اس زمانے میں تجارتی شاہراہ پر ایک اہم مقام تھا۔ دریائے ستلج کو یہیں سے پار کیا جاتا تھا۔ یہ بات حادثاتی نہیں ہے کہ پنجابی کے دوسرے کلاسیکی دانشوروں نے تجارتی مقامات پر زندگی گزاری جہاں ان کو دنیا کے بارے میں اطلاعات ملتی رہتی تھیں۔ بہت سی تاریخی دستاویزات سے پتا چلتا ہے کہ بہت سے عالم دور دراز سے گرائمر اور زبان دانی کے مسائل حل کرانے کے لیے بابا فرید کے پاس پاکپتن آتے تھے۔ حامد بن فـضل جمالی کا کہنا ہے کہ بابا فرید نے پاکپتن میں ہی شادی کی حالانکہ بعض تاریخی حوالوں کے مطابق وہ دلی میں بادشاہ ناصرالدین محمود کے دربار میں گئے جہاں بادشاہ نے اپنی بیٹی ہزابارہ کی شادی ان سے کر دی۔ لیکن بعد میں ہونے والے واقعات سے پتا چلتا ہے کہ انہوں نے عوامی رنگ میں رہتے ہوئے اپنے طبقے میں ہی شادی کی تھی۔ پاکپتن کی عوامی زندگی بھی کوئی آسان نہ تھی کیونکہ وہاں بھی مذہب کا ٹھیکیدار ’قاضی‘ موجود تھا جو ہر طرح سے ان کو تکالیف پہنچانے پر تیار رہتا تھا۔ اس کے اکسانے پر لوگ آپ کی اولاد کو آزار پہنچاتے تھے لیکن بابا فرید کچھ زیادہ توجہ نہ دیتے تھے۔ قاضی کو اس پر بھی چین نہ آیا اور اس نے ملتان کے علماء کو اطلاع دی اور سوال کیا کہ کیا یہ جائز ہے کہ ایک شخص جو اہلِ علم ہے خود کو درویش کہلوائے، ہمیشہ مسجد میں رہے اور وہاں گانا سنے اور رقص کرے۔ جب ان علماء نے بھی کچھ نہ کیا تو قاضی نے کسی کو دے دلا کر تیار کیا کہ وہ بابا فرید کو دوران عبادت ختم کر دے لیکن اس کا یہ منصوبہ بھی ناکام ہوگیا۔ اس مشکلات کے باوجود بابا فرید نے زندگی کو ذاتیات سے بالاتر ہو کر عوام کے دکھوں کے حوالے سے دیکھا۔ بابا فرید کی عوام کے ساتھ ذاتی اور نظریاتی دونوں ہی اعتبار سے محبت اور پیار تھا۔ وہ کہتے ہیں بابا فرید 93 سال کی عمر پا کر 1266 میں رخصت ہوئے۔ انہوں نے خود ہی کہا تھا: |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||