پاکستانی لوک فنکارہ اللہ وسائی انتقال کر گئیں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
گائیکی دنیا میں منفرد پہچان رکھنے والی سندھ کی لوک فنکارہ مائی اللہ وسائی جمعرات کی شب انتقال کر گئیں۔ مائی اللہ وسائی نے زندگی کے پچہتر برس میں سے پچاس برس لوک موسیقی کو دیئے لیکن عمر کے آخری ایام انہوں نے کسمپرسی میں گزارے- وہ گذشتہ کچھ عرصے سے چھاتی کے کینسر میں مبتلا تھیں- لیکن غربت کی وجہ سے صحیح طور پر علاج نہ کرواسکیں - اور ٹھٹہ ضلع میں واقع اپنے شہر میرپور بٹھورو میں ایک کمرے کے گھر میں انتقال کرگئیں- مائی اللہ وسائی گائیکی کے کلاسیکی مکتبہ فکر سے تعلق رکھتیں تھیں- انہوں نے قیام پاکستان سے قبل گانا شروع کیا- وہ سندھ کی مشہور گائیکہ جیونی بائی کی سہیلی اور ہم پلہ تھیں- تب گانے کی ریکارڈنگ گرامافون کے ریکارڈوں پر کی جاتی تھی- اور مائی الہہ وسائی - جیونی بائی - سونا خان بلوچ اور ماسٹر چندر موسیقی اور گائیکی کی دنیا کے چند بڑے نام تھے- الہہ وسائی کے ایک درجن سے زائد گانے گرامافون کے لئے ریکارڈ کئے گئے- بعد میں انہوں نے ریڈیو اور ٹی وی کے لئے بھی گایا اور ان کے گانوں کے آدھی درجن کے قریب آڈیو کیسٹ بھی جاری ہوئے-
ان کے گائے ہوئے کئی ایک گانے اور کافیاں لواگوں کمی بہت مقبول ہیں- خاص طور پر یہ : سجن میری وفاؤں کو مر جاؤں گی کو یاد کروگے یا یہ کہ پیار دریا ہے مگر دریا بھی مٹی سے بھر جاتا ہے- |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||