| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
خاتون گلوکارہ: افغان عدلیہ ناراض
خاتون گلوکارہ: افغان عدلیہ ناراض افغانستان کی عدالتِ عظمیٰ نے حکومت سے کہا ہے کہ آئندہ سرکاری ٹیلیویژن پر خاتون گلوکاراؤں کو نہ لایا جائے۔ ڈپٹی چیف جسٹس فضل احمد مناوی نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا ہے کہ ’اسے روکنا ہو گا۔‘ افغان ٹیلیویژن نے گزشتہ سوموار کو ایک ایسا پرانا پروگرام دوبارہ نشر کیا تھا جس میں مقبول افغان گلوکارہ سلمیٰ کو ایک دیہی گانا گاتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔ انیس سو بانوے میں، غیر اسلامی قرار دے کر عائد کی جانے والی پابندی کے بعد سے خاتون گلوکاراؤں کو افغان ٹیلیویژن پر نہیں دیکھا گیا۔ مجاہدین اور ان کے بعد طالبان کی حکومت نے افغان ٹیلی ویژن کو پابند کیا تھا کہ وہ ٹی وی پر خواتین کو بغیر برقعے کے نہ دکھائیں۔
سوموار کو نشر کیے جانے والے پروگرام کو موجودہ افغان صدر حامد کرزئی کی آزادانہ پالیسیوں کا حصہ تصور کیا گیا تھا۔ افغانستان کی سپریم کورٹ بالعموم ذرائع ابلاغ کے بارے میں یہ شکایت کرتی رہتی ہے کہ وہ اسلامی شعائر کی خلاف ورزی کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ اس کے علاوہ ماضی میں بھارتی فلموں اور کیبل ٹیلی ویژن کو بھی کڑی تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||