برطانوی انتخابات اور گلاسگو کے مسلمان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانوی انتخابات میں اگرچہ عام ووٹر کوئی خاص دلچسپی کا مظاہرہ نہیں کر رہے ہیں تاہم بعض علاقوں میں مسلمان امیدوار پہلی بار نہ صرف اپنی موجودگی کا احساس دلا رہے ہیں بلکہ مسلمان ووٹر بھی اس بار اپنے ووٹ کے صحیح طور پر استعمال کرنے کے لیے آپس میں صلاح و مشورہ کرنے لگے ہیں۔ اس بات کا احساس مجھے سکاٹ لینڈ میں کئی ووٹروں سے بات چیت کے دوران ہوا۔ اسی بات کے پیش نظر کئی سیاسی جماعتوں نے کئی انتخابی حلقوں میں مسلمان امیدواروں کو کھڑا کیا ہے کیونکہ وہ بخوبی سمجھتے ہیں کہ ان حلقوں میں مسلم ووٹ خاصا اہم ثابت ہوگا۔ مبصرین کے مطابق لیبر پارٹی نےگلاسگو سنٹرل میں محمد سرور کو اس لیے برقرار رکھا ہے تاکہ مسلمان سمجھیں کہ لیبر مسلمان مخالف نہیں۔ محمد سرور نے بی بی سی اردو سروس سے ایک انٹرویو میں لیبر پارٹی کی پالیسیوں پر بات کرتے ہوئے اس امر کا اعتراف کیا کہ عراق کے معاملے میں انکی پارٹی نے کچھ غلطیاں کی ہیں۔ لیکن انہوں نے واضح کیا کہ لیبر پارٹی کو مسلمانوں کی مخالف نہیں کہا جاسکتا کیونکہ اس نے مسلمانوں کے نہ صرف نمائندگی دینے میں پہل کی بلکہ یہاں کے سیاسی اور معاشی اداروں میں انہیں شامل کرکے انہیں اپنے حقوق سے آگاہ کیا۔ سکاٹ لینڈ کے پچاس ہزار سے زائد مسلمان ووٹر اس وقت ایک عجیب مخمصے کا شکار ہیں۔ کیونکہ ایک طرف وہ چاہتے ہیں کہ مسلمان امیدواروں کو کامیاب بنایا جائے جبکہ دوسری طرف انہیں عراق کی جنگ کی وجہ سے لیبر پارٹی پر غصہ بھی ہے۔ انہیں یہ بھی احساس ہے کہ اگر انہوں نے الگ الگ پارٹیوں کو ووٹ دیا تو بٹ جانے کی وجہ سے ان کا ووٹ ضائع ہوجائے گا۔
شگفتہ کی پڑوسن شمیمہ ملک لیبر کی حمایت کرتی ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ لیبر میں گھس کر لیبر کو پالیسیوں کو تبدیل کیا جاسکتا ہے۔ ’اگر ہم سیاست سے دور رہیں گے جیسے کہ ہم نے آج تک کیا ہے تو ہم اپنا ہی نقصان کریں گے۔ ان کے ساتھ ساتھ چلنے سے ہی ان کی پالیسیاں بدلی جاسکتی ہیں۔‘ مسلمانوں کی نئی نسل لیبر کی پالیسیوں سے مطمئن نہیں ہے۔ بیس برس کے حسن کہتے ہیں کہ دونوں بڑی پارٹیاں ہماری مخالف ہیں۔ ’کبھی مسلمانوں پر بم گرانا کبھی دہشت گردی میں ملوث کرکے جیلوں میں ڈالنا کیا یہی برطانیہ کا سماجی انصاف ہے یہ جس پر دنیا ناز کرتی تھی۔ہم پر اب یہاں نہ تو قانون کی بالادستی ہے اور نہ جمہوریت کا وہ بول بالا‘۔ مگر الفرقان مسجد کے امام محمد مستقیم کہتے ہیں کہ برطانیہ کی جمہوریت اب بھی برقرار ہے اور چند سیاست دانوں کی غلطی کی وجہ سے اگر ہمیں دکھ پہنچا ہے تو اس کا الزام پورے نظام کو نہیں دیا جاسکتا۔ مسلمانوں کو بلاجھجک ووٹ ڈالنا چاہیے کیونکہ اسلام نے جہموریت کی پاسداری کی ہے اور اپنے حق کا استعمال سب سے بڑی عبادت تصور کی جاتی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||