BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 24 April, 2005, 08:29 GMT 13:29 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
برمنگھم میں ذات برادری کی جنگ

News image
سوہو روڈ کو دیکھ کر لندن کے ساؤتھ ہال یا گرین سٹریٹ کا گماں ہوتا ہے
اگرچہ برطانیہ کے صنعتی شہر برمنگھم سے دس ارکارن پارلیمان منتخب کیے جاتے ہیں لیکن پانچ مئی کو ہونے والے انتخابات میں یہاں کی ایشیائی آبادی کی تمام تر دلچسپی ان میں سے دو نشستوں پر ہوگی۔ ان دو نشستوں پر انتخابات اس لیے بھی منفرد ہیں کہ یہاں روایتی پارٹی سیاست سے ساتھ ساتھ ذات برادری کی ووٹروں کی ترجیحات میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔

ان دو میں سے ایک نشست سپارک بروک اور سمال ہیتھ کی ہے جہاں ایشیائی آبادی کی شرح چون فیصد ہے اور ان میں زیادہ تعداد پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے شہر میرپور سے آنے والے تارکین وطن کی ہے اور اِسی وجہ سے یہاں سے الیکشن لڑنے والے سات میں سے چار امیدواروں کا تعلق میرپوری برادری سے ہے۔

مبصرین کے مطابق اس حلقے میں میرپوری برادری سے تعلق رکھنے والے ووٹرز اپنی ترجیحات مرتب کرتے ہوئے اس حد تک ذات برادری سے متاثر ہوتے ہیں کہ وہ نہ صرف اس بات کا خیال رکھتے کہ امیدوار جاٹ ہے یا راجپوت بلکہ اس بات کو بھی خاص طور پر مدِ نظر رکھتے ہیں کہ امیدوار کا تعلق میرپور کے علاقے ڈھڈیال سے ہے یا چک سواری سے۔

News image
برمنگھم کو برطانیہ کے صنعتی شہروں میں اہم مقام حاصل ہے
یہ نشست طویل عرصے سے لیبر پارٹی کا گڑھ سمجھی جاتی ہے اور اس کے سابق ڈپٹی لیڈر روئے ہیٹرسلی سن انیس سو سڑسٹھ سے لیکر سن انیس سو ستانوے تک مسلسل تیس سال تک یہاں سے الیکشن جیتتے چلے آ رہے ہیں۔اس حلقے سے موجود رکن پارلیمان راجر گوڈسِف نے پچھلے دو انتخابات میں یہ نشست بھاری اکثریت سے جیتی تھی۔

حالیہ بلدیاتی انتخابات میں لبرل ڈیموکریٹک پارٹی نے برمنگھم میں شاندار کامیابی حاصل کر کے سٹی کونسل سے لیبر پارٹی کے تسلط کو ختم کیا تھا اور اس حلقے میں میرپوری برادری سے تعلق رکھنے والے امیدواروں نے لِب ڈیم کے جھنڈے تلے کامیابی حاصل کی۔

اس کامیابی کو سامنے رکھتے ہوئے لبِ ڈیم نے اپنے ایک کونسلر طالب حسین کو پارلیمانی انتخابات میں بھی اپنا امیدوار نامزد کیا ہے۔ حلقے میں ایشیائی آبادی کے تناسب کو سامنے رکھتے ہوئے کنزرویٹو پارٹی نے سمیر مرزا کو اپنا امیدوار بنایا ہے جبکہ ایک نوجوان وکیل سلمیٰ یعقوب اس حلقے سے ریسپیکٹ یونٹی اتحاد کی امیدوار ہیں۔

یو کے انڈیپینڈینٹ پارٹی نے جینیفر بروکس جبکہ گرین پارٹی نے آئن جیمیسن کو امیدوار نامزد کیا ہے اور میرپوری برادری سے تعلق رکھنے والے عبدالقیوم چودھری آزاد حیثیت سے انتخاب میں حصہ لے رہے ہیں۔

مبصرین کے مطابق میرپوری ووٹ چار امیدواروں میں تقسیم ہونے کا فائدہ لیبر امیدوار راجر گوڈسِف کو ہوگا۔

News image
پوسٹل بیلٹ سکینڈل کی وجہ سے برمنگھم کا نام تواتر سے ذرائع ابلاغ میں آ رہا ہے
موجودہ برطانوی پارلیمان کے پاکستانی نژاد رکن خالد محمود کا تعلق بھی سپارک بروک اور سمال ہیتھ حلقے ہے۔ وہ پہلی مرتبہ یہیں سے کونسلر منتخب ہوئے تھے لیکن یہاں کی دو بڑی برادریوں (جاٹ اور راجپوت) سے تعلق نہ ہونے کی بنا پر انہوں نے پیری بار کے حلقے سے انتخاب لڑنے میں عافیت سمجھی اور پچھلےانتخابات میں یہیں سے آٹھ ہزار سے زائد ووٹوں سے کامیابی حاصل کی۔

چوالیس سالہ خالد محمود پیشے کے لحاظ سے مکینیکل انجنیئر ہیں اور سپارک بروک و سمال ہیتھ حلقے سے منتخب ہونے والے رکن پارلیمان روئے ہیٹرسلے کے دست راست سمجھے جاتے ہیں۔

سن دو ہزار ایک میں جب وہ انتخابی میدان میں اترے تھے تو اس وقت برمنگھم کی انتخابی سیاست میں ایک تنازعہ کھڑا ہو گیا تھا۔

سب سے پہلے پیری بار سے اس وقت کے رکن پارلیمان جیف رُوکر نے خالد محمود کی حمایت کرنے جبکہ مقامی لیبر پارٹی نے بھی ان کی انتخابی مہم چلانے سے انکار کر دیا تھا۔

خالد محمود کی سلیکشن کے لیے ہونے والے اجلاس کے سلسلے میں بھی بدعنوانی کا الزام لگایا گیا جسے بعد میں لیبر پارٹی کی تحقیقات میں مسترد کر دیا گیا۔

پیری بار حلقے میں خالد محمود کا مقابلہ کنزرویٹو امیدوار نوید خان، ریسپیکٹ یونٹی اتحاد کے محمد نسیم، لِب ڈیم کے جان ہنٹئ سوشلسٹ لیبر پارٹی کے راجندر کلیئر اور یو کے انڈیپنڈنٹ پارٹی کے بملا بالو سے ہے۔

پیری بار کا حلقہ واضح طور پر دو حصوں میں بٹا ہوا ہے۔ ایک طرف اوکوٹ جیسی سفید فام آبادیاں ہیں تو دوسری طرف ہینڈ ورتھ اور سینڈ ویل جیسے افریقی اور ایشیائی نژاد آبادی والے وہ وارڈ جہاں سن انیس سو پچاسی میں نسلی فسادات ہوئے تھے۔ حلقے میں افریقی اور ایشیائی نژاد آبادی کی شرح اڑتالیس فیصد ہے۔

پیری بار حلقے میں واقع سوہو روڈ کو دیکھ کر لندن کے ساؤتھ ہال یا گرین سٹریٹ کا گماں ہوتا ہے جہاں تقریباً تمام تر دوکانیں ایشیائیوں کی ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد