برمنگھم میں ذات برادری کی جنگ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اگرچہ برطانیہ کے صنعتی شہر برمنگھم سے دس ارکارن پارلیمان منتخب کیے جاتے ہیں لیکن پانچ مئی کو ہونے والے انتخابات میں یہاں کی ایشیائی آبادی کی تمام تر دلچسپی ان میں سے دو نشستوں پر ہوگی۔ ان دو نشستوں پر انتخابات اس لیے بھی منفرد ہیں کہ یہاں روایتی پارٹی سیاست سے ساتھ ساتھ ذات برادری کی ووٹروں کی ترجیحات میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ ان دو میں سے ایک نشست سپارک بروک اور سمال ہیتھ کی ہے جہاں ایشیائی آبادی کی شرح چون فیصد ہے اور ان میں زیادہ تعداد پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے شہر میرپور سے آنے والے تارکین وطن کی ہے اور اِسی وجہ سے یہاں سے الیکشن لڑنے والے سات میں سے چار امیدواروں کا تعلق میرپوری برادری سے ہے۔ مبصرین کے مطابق اس حلقے میں میرپوری برادری سے تعلق رکھنے والے ووٹرز اپنی ترجیحات مرتب کرتے ہوئے اس حد تک ذات برادری سے متاثر ہوتے ہیں کہ وہ نہ صرف اس بات کا خیال رکھتے کہ امیدوار جاٹ ہے یا راجپوت بلکہ اس بات کو بھی خاص طور پر مدِ نظر رکھتے ہیں کہ امیدوار کا تعلق میرپور کے علاقے ڈھڈیال سے ہے یا چک سواری سے۔
حالیہ بلدیاتی انتخابات میں لبرل ڈیموکریٹک پارٹی نے برمنگھم میں شاندار کامیابی حاصل کر کے سٹی کونسل سے لیبر پارٹی کے تسلط کو ختم کیا تھا اور اس حلقے میں میرپوری برادری سے تعلق رکھنے والے امیدواروں نے لِب ڈیم کے جھنڈے تلے کامیابی حاصل کی۔ اس کامیابی کو سامنے رکھتے ہوئے لبِ ڈیم نے اپنے ایک کونسلر طالب حسین کو پارلیمانی انتخابات میں بھی اپنا امیدوار نامزد کیا ہے۔ حلقے میں ایشیائی آبادی کے تناسب کو سامنے رکھتے ہوئے کنزرویٹو پارٹی نے سمیر مرزا کو اپنا امیدوار بنایا ہے جبکہ ایک نوجوان وکیل سلمیٰ یعقوب اس حلقے سے ریسپیکٹ یونٹی اتحاد کی امیدوار ہیں۔ یو کے انڈیپینڈینٹ پارٹی نے جینیفر بروکس جبکہ گرین پارٹی نے آئن جیمیسن کو امیدوار نامزد کیا ہے اور میرپوری برادری سے تعلق رکھنے والے عبدالقیوم چودھری آزاد حیثیت سے انتخاب میں حصہ لے رہے ہیں۔ مبصرین کے مطابق میرپوری ووٹ چار امیدواروں میں تقسیم ہونے کا فائدہ لیبر امیدوار راجر گوڈسِف کو ہوگا۔
چوالیس سالہ خالد محمود پیشے کے لحاظ سے مکینیکل انجنیئر ہیں اور سپارک بروک و سمال ہیتھ حلقے سے منتخب ہونے والے رکن پارلیمان روئے ہیٹرسلے کے دست راست سمجھے جاتے ہیں۔ سن دو ہزار ایک میں جب وہ انتخابی میدان میں اترے تھے تو اس وقت برمنگھم کی انتخابی سیاست میں ایک تنازعہ کھڑا ہو گیا تھا۔ سب سے پہلے پیری بار سے اس وقت کے رکن پارلیمان جیف رُوکر نے خالد محمود کی حمایت کرنے جبکہ مقامی لیبر پارٹی نے بھی ان کی انتخابی مہم چلانے سے انکار کر دیا تھا۔ خالد محمود کی سلیکشن کے لیے ہونے والے اجلاس کے سلسلے میں بھی بدعنوانی کا الزام لگایا گیا جسے بعد میں لیبر پارٹی کی تحقیقات میں مسترد کر دیا گیا۔ پیری بار حلقے میں خالد محمود کا مقابلہ کنزرویٹو امیدوار نوید خان، ریسپیکٹ یونٹی اتحاد کے محمد نسیم، لِب ڈیم کے جان ہنٹئ سوشلسٹ لیبر پارٹی کے راجندر کلیئر اور یو کے انڈیپنڈنٹ پارٹی کے بملا بالو سے ہے۔ پیری بار کا حلقہ واضح طور پر دو حصوں میں بٹا ہوا ہے۔ ایک طرف اوکوٹ جیسی سفید فام آبادیاں ہیں تو دوسری طرف ہینڈ ورتھ اور سینڈ ویل جیسے افریقی اور ایشیائی نژاد آبادی والے وہ وارڈ جہاں سن انیس سو پچاسی میں نسلی فسادات ہوئے تھے۔ حلقے میں افریقی اور ایشیائی نژاد آبادی کی شرح اڑتالیس فیصد ہے۔ پیری بار حلقے میں واقع سوہو روڈ کو دیکھ کر لندن کے ساؤتھ ہال یا گرین سٹریٹ کا گماں ہوتا ہے جہاں تقریباً تمام تر دوکانیں ایشیائیوں کی ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||