برمنگھم: متنازعہ ڈرامے کی بندش | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برمنگھم کے’ریپرٹری تھیٹر‘ نے اس ڈرامے کی بندش کا فیصلہ کیا ہے جس کی وجہ سے شہر کی سکھ آبادی نے مشتعل ہو کر تھیٹر پر دھاوا بول دیا تھا۔ تھیٹر کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ڈرامے کے مواد کی کانٹ چھانٹ نہیں کی جاسکتی اور انہوں نے اس ڈرامے کو مفادِ عامہ میں بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ہفتے کو چار سو کے قریب سکھوں نے تھیٹر پر ہلہ بول دیا تھا۔ان افراد کا کہنا تھا کہ تھیٹر میں زیرِ نمائش ’بے عزتی‘ نامی اس کھیل میں ایک گردوارے میں قتل اور جنسی فعل کے مناظر دکھائے جانے سے سکھ مذہب کی بدنامی ہوئی ہے۔اس واقعے میں تین پولیس اہلکار بھی زخمی ہو گئے تھے۔ تھیٹر سے متعلقہ افراد کا کہنا ہے کہ ہفتے کو ہونے والے پر تشدد واقعات نے آزادیِ رائے کے عمل کو نقصان پہنچایا ہے۔ تھیٹر کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر سٹیورٹ روجرز نے ایک نیوز کانفرنس میں کہا ہے کہ ڈرامہ بند کرنے کا فیصلہ پیر کی صبح پولیس اور سکھ برادری کے نمائندہ افراد سے بات چیت کے بعد کیا گیا۔ سٹیورٹ روجرز نے کہا کہ ’تھیٹر بےعزتی اور اس جیسے ان دیگر اعلیٰ ڈراموں کی پیشکش کا حق محفوظ رکھتا ہے جن میں کثیر الاقومی معاشرے کو زیرِ بحث لایا گیا ہو‘۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’ ہمیں امید ہے کہ یہ کھیل دوبارہ پیش کیا جائے گا کیونکہ ایسے ڈراموں کو دکھایا جانا چاہیے‘۔ برمنگھم کی سکھ آبادی کے ایک ترجمان کونسلر چمن لال نے کہا ہے کہ اگر یہ ڈرامہ بند نہیں ہوتا تو مزید فساد کا خطرہ تھا۔ انہوں نے کہا کہ ’تھیٹر نے ایک دانشمندانہ فیصلہ کیا ہے، کسی کی جیت یا ہار نہیں ہوئی اور رائے عامہ فاتح رہی ہے‘۔ چمن لال نے اس بات کو مسترد کر دیا کہ تھیٹر نے یہ ڈرامہ کسی دھمکی کے نتیجے میں بند کیا ہے۔ان کہ کہنا تھا کہ ’ ہم آزادیِ رائے کے خلاف نہیں ہیں لیکن کسی کو کسی مذہب یا عقیدے کا مذاق اڑانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی‘۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||