BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 26 February, 2004, 09:13 GMT 14:13 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پنجابیوں کے برطانیہ جانےمیں آسانیاں
پنجابیوں کی برطانیہ جانے میں آسانی
اہلیانِ پنجاب اور خصوصاً نوجوان اپنی منزل برطانیہ میں ڈھونڈیں گے
بھارتی پنجاب سے کام کی تلاش میں مغربی ممالک آنے والوں کے لئے برطانیہ ایک مرتبہ پھر بہت پسندیدہ مقام بن گیا ہے۔

اس کی تازہ ترین مثال ایک برطانوی خاتون پر لگنے والا یہ الزام ہے کہ اس نے کئی پنجابی مردوں کو برطانیہ میں داخلے کی اجازت دلوانے کے لئے دھوکہ دیا ہے۔ لیکن کئی لوگوں کا خیال یہ ہے کہ غیر ملکیوں کے لئے برطانیہ میں آنے کے لئے واقعی آسانیاں پیدا ہو گئیں ہیں۔

ویزے کی آسانیوں کی وجہ سے ان سکھ نوجوانوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے جو برطانیہ آ نا چاہتے ہیں۔ انیس سو ساٹھ اور ستر کی دہائی کے بعد اس طرح کے مناظر پہلی مرتبہ دیکھنے کو ملے ہیں۔

گزشتہ اگست میں برطانیہ نے چھٹیوں کے دوران کام کرنے والوں اور ہنریافتہ افراد کے ویزوں کے زمرے میں نرمی کی تھی۔ پہلی قسم کی سکیم کے تحت برطانیہ اور کئی دیگر ممالک میں یہ طے ہو چکا ہے کہ سترہ سے تیس سال کی عمر کے لوگ نسبتاً طویل المعیاد چھٹی پر برطانیہ آ کر پارٹ ٹائم کام کر سکتے ہیں۔

News image
بھارتی پنجاب کے مختلف اضلاع میں اس طرح کے اشتہار عام ہو رہے ہیں

جبکہ دوسرے زمرے میں داخل افراد کا پروگرام ان لوگوں کے لئے ہے جو انتہائی ہنر مند ہیں اور انہیں برطانیہ آ کر کام کرنے کی اجازت مل جاتی ہے۔

سنیدیپ اوہری جو اوہری گلوبل امیگریشن کنسیلٹینسی کے ڈائریکٹر ہیں کہتے ہیں ’بھارتی پنجاب سے لوگ یہاں آنے کے لئے بیتاب ہیں۔‘

ان کا کہنا ہے کہ نیوزی لینڈ کے امیگریشن کی شرائط سخت ہونے کے بعد برطانیہ غیر ملکیوں کے لئے ایک پسندیدہ مقام بن گیا ہے۔

سکھوں کے لئے ویزے کی آسانیاں بہت خوشی کی خبر ہے کیونکہ ان میں سے بیشتر کے اقرباء پہلے سے ہی یہاں موجود ہیں اور انہیں ویزہ حاصل کرنے کے لئے سپانسر بھی مل جاتا ہے۔

News image
سکھ نوجوان اپنے دیس کو چھوڑ کر بہتر مستقبل کے لئے باہر جانا چاہتے ہیں

اب پنجاب میں، خاص طور سے ہوشیار پور، جالندھر، نواں شہر اور کپور تھلہ کے اضلاع میں کئی جگہوں پر بینرز لگے ملیں گے جن پر’برطانیہ میں کام حاصل کیجئے‘ یا ’برطانیہ کے ویزے کھل گئے‘ جیسی تحریریں درج ہیں۔

اوہری کہتے ہیں کہ پنجابی بہت زیادہ تعداد میں یہاں سے ہجرت کر رہے ہیں۔

وہ ہر ماہ برطانوی ہائی کمیشن میں پچاس کے قریب درخواستیں جمع کراتے ہیں جن میں سے آدھی منظور ہو جاتی ہیں۔

سرابجیب سنگھ جن کا تعلق ہوشیارپور سے ہے کیڑے مار دوائیں تیار کرنے والی ایک فرم میں کام کرتے ہیں اور برطانیہ جانے کے خواہشمند ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ وہ اپنے سات دوستوں کے ہمراہ برطانیہ جانے کی تیاری کر رہے ہیں۔ یہ سب افراد بیک وقت ہائی کمیشن میں درخواستیں بھیجیں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس وقت برطانوی کرنسی پاؤنڈ بہت مضبوط ہے اور اس کے بدلے بہت سے روپے ملتے ہیں۔

ایک چوبیس سالہ پنجابی لڑکی نے جو اپنا نام ظاہر نہیں کرنا چاہتی کہتی ہے کہ وہ اس تصور سے ہی بڑی خوش ہے کہ وہ برطانیہ جائے گی۔ وہ دیکھ بھال کرنے کے زمرے میں برطانیہ جا رہی ہے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد