سلمان رشدی ’بےعزتی‘ پر خفا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانوی مصنف سلمان رشدی نے برمنگھم میں سکھوں کے پُرتشدد احتجاج کے خدشے کے پیش نظر سٹیج ڈرامے ’بےعزتی‘ کی منسوخی پر برطانوی حکومت کے ردِ عمل کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ سلمان رشدی مسلمانوں کے بعض طبقات کی جانب سے ملنے والی موت کی دھمکیوں کے سبب کئی برس روپوش بھی رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ برطانوی وزراء نے آزادیِ اظہار کے فروغ اور تشدد کی مذمت کے لیے خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے تھے۔ سلمان رشدی نے ان خیالات کا اظہار برطانوی وزیر داخلہ فیونا مکٹاگرٹ کے اس بیان کے بعد کیا جس میں کہا گیا تھا کہ سکھوں کی جانب سے کیا گیا احتجاج آزادیِ اظہار کی برطانوی روایت کا حصہ ہے۔ وزیرِ فنونِ لطیفہ ایسٹیل مورِس نے تھیٹر کی عمارت کو پہنچن والے نقصان کے سبب انتظامیہ کی طرف سے ڈرامے کی پیشکش روکنے کے فیصلے پر دکھ کا اظہار کیا تھا۔ اس ڈرامے میں سکھ گردوارے میں ہونے والی جنسی زیادتی کی عکاسی کی گئی جس کے بارے میں مظاہرین کا کہنا تھا کہ اس ڈرامے سے ان کے مذہبی جذبات مجروح ہوئے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||