BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 30 April, 2005, 04:07 GMT 09:07 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
برطانوی انتخابات اور جنگِ عراق

مائیکل ہاورڈ
مائیکل ہاورڈ نے برطانوی وزیرِ اعظم پر جھوٹ بولنے کا الزام لگایا ہے
برطانیہ کے عام انتخابات پانچ مئی کو ہونے والے ہیں اور انتخابی مہم اپنے شباب پر ہے۔ تینوں بڑی پارٹیاں نہ صرف مختلف قومی مسائل کے بارے میں اپنے منشور کی وضاحت میں مصروف ہیں بلکہ ایک دوسرے میں کیڑے نکالنے کا بھی کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دے رہی ہیں۔ یہاں تک کہ ایک دوسرے پر ذاتی حملوں کی شدت بھی بڑھتی جارہی ہے۔ جس کو ایک متمدن معاشرے میں عام طور پر برا سمجھا جاتا ہے۔

حزب اختلاف کی سب سے اہم جماعت کنزرویٹو پارٹی کا کہنا ہے کہ وزیراعظم جناب ٹونی بلیئرنے عراق پر حملے کے لئے دروغ گوئی سے کام لیا اس لئے وہ ناقابل اعتبار ہیں اور انہوں نے جو کچھ اپنے منشور میں کہا ہے اس پر بھی اعتبار نہیں کیا جاسکتا۔

ادھر عراق کی جنگ سے متعلق اٹارنی جنرل جناب گولڈ سمتھ نے وزیراعظم کو7 مارچ 2003 کو جو مشورہ دیا تھا اس کا متن بھی منظر عام پر آگیا ہے اور اس نے جلتی پر تیل کا کام کیا ہے۔

اٹارنی جنرل نے جنگ سے متعلق جو رائے دی تھی اس میں یہ بات بڑی حد تک دو ٹوک الفاظ میں کہی گئی تھی کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں دوسری قرارداد کی منظوری کے بغیر عراق پر حملہ کیا گیا تو اس کی قانونی حیثیت مشکوک ہوگی اور اگر اس کے خلاف عالمی عدالت میں مقدمہ قائم کردیا گیا تو اس کا دفاع کرنے میں مشکلات پیش آسکتی ہیں۔ لیکن محض دس دن بعد یعنی 17 مارچ 2003 کو اٹارنی جنرل سر گولڈ اسمتھ نے فوجی کارروائی کو جائز قرار دیدیا۔

حزب اختلاف کی جماعتیں یہ ثابت کرنے پر تلی ہوئی ہیں کہ اٹارنی جنرل نے جو رائے یا مشورہ دیا تھا، اسے نظر انداز کیا گیا یا پھر انہیں اپنی رائے بدلنے پر مجبور کیا گیا۔

جناب بلیئر نے اپنے دفاع میں صرف یہ کہا ہے کہ فیصلہ کرنے کا اختیار انہیں تھا اور انہوں نے اپنی عقل و فراست کے مطابق وہ فیصلہ کیا جو ان کے نز دیک ملک وقوم کے مفاد میں تھا اور انہوں نے کنزرویٹیو پارٹی پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ چونکہ تعلیم، صحت عامہ اور اس نوعیت کے دوسرے موضوعات پر اس کے پاس کہنے کے لئے کچھ نہیں ہے یا ان شعبوں میں وہ چونکہ لیبر پارٹی کی حکومت کی کارکردگی کا مقابلہ نہیں کرسکتی اس لئے وہ عراق کی جنگ کو لے کر بیٹھ گئی ہے ، جب کہ اس سلسلے میں جو فیصلہ کیا گیا تھا اس میں وہ خود بھی شامل تھی۔

جناب بلیئر کی یہ دلیل ممکن ہے کسی حد تک صحیح ہو لیکن عراق کی جنگ سے متعلق خود ان کی پارٹی کے بعض ممتاز اراکین اور لیبر پارٹی کے حامی ووٹر بھی ان کی اس دلیل سے کچھ بہت زیادہ مطمئن نظر نہیں آتے۔

ادھر ملک کی تیسری اہم جماعت یعنی لبرل ڈیموکریٹک پارٹی کا ریکارڈ کم از کم عراق کی جنگ کے مسئلے پر بہت صاف ہے۔

اس نے پہلے دن سے یہ موقف اختیار کر رکھا ہے کہ سلامتی کونسل کی دوسری قرارداد کی منظوری کے بغیر عراق کے خلاف فوجی کارروائی کرنا غلط تھا اور یہ کہ اسلحہ کے معائنہ کاروں کو کسی حتمی نتیجے پر پہنچنے کی مہلت دی جاتی تو شائد یہ غلطی سر زد نہیں ہوتی اور دونوں طرف کا اتنا جانی اور مالی نقصان بھی نہیں ہوتا۔

ٹونی بلیئر
جو مناسب سمجھا وہی کیا

اس میں کوئی شک نہیں کہ اگر انتخابات کا فیصلہ عراق کی جنگ پر ہی ہونا ہے تو لبرل ڈیمو کریٹک پارٹی کو جیتنا چاہئے۔ اس لئے کہ اس نے اس کی پہلے دن ہی کھلم کھلا مخالفت کی اور آج تک اپنے موقف پر قائم ہے۔ لیکن مشکل یہ ہے کہ اس طرح کے معاملات جن کا تعلق صریحاً خارجہ پالیسی سے ہے انتخابات کے نتائج پر بہت زیادہ اثر نہیں ڈالتے۔

عین ممکن ہے کہ انتخابی مہم میں جناب بلیئر کی ذات پر جس طرح کیچڑ اچھالا جارہا ہے اس کے نتیجے میں وہ ذاتی طورپر عوام کے دلوں میں اپنا وہ مقام بحال نہ رکھ سکیں جو عراق پر حملے سے پہلے تھا۔ ممکن ہے کہ جناب بلیئر اپنا حلقے سے ذاتی طور پر انتخاب بھی ہار جائیں، لیکن ووٹروں کو اپنی حمایت یا مخالفت کا فیصلہ کرنے سے پہلے جو بات نظر میں رکھنی ہوگی وہ یہ کہ موجودہ حالات میں کون سی جماعت ان کے روزمرہ کے مسائل کے حل میں زیادہ موثر ثابت ہوسکتی ہے۔

اس زاویئے سے دیکھا جائے تو کسی حد تک وثوق سے کہا جاسکتا ہے کہ لیبر پارٹی کی حمایت میں بہت زیادہ فرق نہیں پڑے گا اس لئے کہ جن لوگوں نے 2001 کے انتخابات میں لیبر پارٹی کے حق میں ووٹ دیا تھا، وہ اس سے ناراض تو ہیں لیکن اتنے نہیں کہ کنزرویٹیو پارٹی کی حمایت پرآمادہ ہو جائیں۔ وہ اپنی ناراضگی کا اظہار صرف اس شکل میں کر سکتے تھے کہ لیبر پارٹی کو ووٹ نہ دے کر لبرل ڈیموکریٹس کو ووٹ دیدیں لیکن ان کو یہ بھی معلوم ہے کہ لبرل ڈیموکریٹک پارٹی جتنی بھی کامیاب ہو جائے اتنی نہیں ہوسکتی کہ حکومت بنا لے۔ ہاں! اس کے نتیجے میں یہ ہوسکتا ہے کہ لیبر پارٹی پارلیمنٹ میں اپنی اکثریت سے محروم ہوجائے اور کنزرویٹیوز کو اقتدار میں آنے کا موقع مل جائے۔

میں سمجھتا ہوں کہ یہ صورت لیبر پارٹی کے ووٹروں کو کسی شکل میں بھی گوارہ نہیں ہوگی۔ نہ صرف لیبر پارٹی کے حامی بلکہ ان ووٹروں کو بھی شائد گوارہ نہ ہو جو جناب بلیئر کو ناقابل اعتبار تصور کرتے ہیں۔

لیبر پارٹی کی قیادت کو اپنے ووٹروں کی اس کمزوری کا اندازہ ہے چنانچہ اب اپنی انتخابی مہم میں وہ اس مسئلے کو زیادہ اچھالنے کی کوشش کر رہی ہے۔

اب اس نے اپنی تمام تر توجہ اس بات پر مبذول کردی ہے کہ اگر عراق کی جنگ سے ناراضگی کی بناء پر لیبر پارٹی ہارے گی تو اقتدار میں لبرل ڈیموکرٹیک پارٹی نہیں کنزرویٹیو پارٹی آئے گی اور عین ممکن ہے کہ وہ اپنی اس مہم میں کامیاب ہوجائے۔

اس لئے کہ لیبر پارٹی کے حامی جناب بلیئر سے ناراض ہوسکتے ہیں لیکن وہ ہر ایسی بات سے گریز کرنا چاہتے ہیں جس سےکنزرویٹیو کو اقتدار میں آنے کا موقع مل جائے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد