زبردست مارے بھی، رونے بھی نہ دے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق میں انتخابات کی تاریخ جوں جوں قریب آرہی ہے مختلف بین الاقوامی اداروں اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے امریکہ کی بگڑتی جارہی ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل جناب کوفی عنان سے تو تعلقات جس تیزی سے خراب ہورہے ہیں مجھے یوں لگتا ہے کہ انتخابات ہونے تک یہ معاملہ کچھ زیادہ ہی گمبھیر صورت اختیار کر جائے گا۔ اگرچہ امریکی حکومت نے جناب عنان کے سلسلے میں کوئی واضح حکمت عملی اختیار نہیں کی ہے لیکن امریکی سینیٹر کول مین نے تو ان کے استعفے کا مطالبہ کر دیا ہے ۔ ان کا تعلق امریکہ کی حکمراں ریپبلکن پارٹی سے ہے اور ان کا کہنا ہے کہ عراقی تیل برائے خوراک کے پروگرام میں مالی بدعنوانی کا سراغ ملا ہے۔ اس کی بھر پور اور جامع تحقیقات کے لئے ضروری ہے کہ جناب عنان سیکرٹری جنرل کے عہدے سے مستعفی ہو جائیں۔ واضح رہے کہ یہ پروگرام پہلی خلیجی جنگ کے خاتمے کے بعد شروع کیا گیا تھا جب کوفی عنان اس عہدے پر نہیں تھے۔ امریکی ابلاغ کے ذریعوں نے بھی ان پر اعتراضات کا سلسلہ شروع کردیا ہے اور جب اقوام متحدہ کے کسی سیکرٹری جنرل سے امریکہ کی بگڑتی ہے تو اس کے خلاف اس کا طریقہ واردات یہی ہوتا ہے۔ پہلے کہیں سے سیکرٹری جنرل کی کارکردگی پر اعتراض اٹھایا جاتا ہے پھر اخبارات اور ابلاغ کے دوسرے ذریعے اس کے لتے لینے لگتے ہیں اور پھر حکومت میدان سنبھا لیتی ہے۔ فی الحال نوبت یہاں تک تو نہیں پہنچی ہے تاہم صدر بش نے یہ کہہ دیا ہے کہ اس سلسلے میں تفصیلی تحقیقات ہونی چاہئیں۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ صدر بش کوفی عنان سے کچھ زیادہ خوش نہیں ہیں،جبکہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے لئے جہاں یہ ضروری ہے کہ اسے اقوام متحدہ کے اراکین کی اکثریت کی حمایت حاصل ہو وہاں یہ بھی ضروری ہے کہ اس سے امریکی صدر بھی خوش ہو بلکہ بہت زیادہ خوش ہو جیسے پانچویں سیکرٹری جنرل پیریز ڈی کوئلار سے تھا۔ لیکن جناب عنان کوگزشتہ کچھ دنوں سے پتہ نہیں کیا ہوگیا ہے کہ ہر دوسرے تیسرے دن کوئی ایسا بیان دا غ دیتے ہیں جو امریکہ کے ارباب اقتدار کے مزاج کو راس نہیں آتا۔ کچھ دنوں پہلے انہوں نے یہ کہہ دیا تھا کہ عراق پر حملہ غیر قانونی تھا ، اس کے بعد یہ کہا کہ عراق کے خلاف کارروائی سے دنیا پہلے سے زیادہ محفوظ نہیں قرار دی جاسکتی۔ انہوں نے فلوجہ پر حالیہ حملے پر بھی نکتہ چینی کرتے ہوئے یہ کہہ دیا ہے کہ اس سے آئندہ ماہ جو انتخابات ہونے والے ہیں ان کے لئے حالات سازگار نہیں ہوں گے۔اور اپنے ایک حالیہ بیان میں اپنے عہدے سے مستعفی ہونے سے بھی انکار کردیا ہے۔ ادھر یہ بھی ایک بڑی مشکل ہے کہ امریکہ کو صرف کوفی عنان سے ہی شکایت نہیں ہے بلکہ ماضی میں بھی وہ اقوام متحدہ کے سیکرٹریوں سے ناراض ہوتا رہا ہے۔ جناب عنان کے پیش رو بطرس غالی سے بھی ہو گیا تھا، بلکہ بہت ناراض ہوگیا تھا، یہاں تک کہ جب سیکرٹری جنرل کے عہدے کی دوسری مدت کے لئے بعض ملکوں کی جانب سے ان کا نام پیش کیا گیا تو امریکہ نے اس کے خلاف اپنا ویٹو استعمال کردیا۔ وہ پہلے اور واحد سیکرٹری جنرل ہیں جو امریکی مخالفت کی بناء پر دوسری مدت کے لئے کھڑے نہیں ہوسکے۔ امریکہ کو غالباً ان سے شکایت یہ تھی کہ مشرق وسطٰی کے سلسلے میں ان کا جھکاؤ فلسطینیوں اور عربوں کی جانب زیادہ تھا۔ چوتھے سیکرٹری جنرل جناب کرٹ والڈھائم سے بھی امریکہ کی نہیں بنی ۔ اور ان سے نارا ضگی کا سبب بھی شروع شروع میں تو یہ تھا کہ مشرق وسطیٰ کے سلسلے میں ان کا رویہ مناسب نہیں ہے ، پھر بعد میں یہ شکایت پیدا ہوگئی کہ وہ ایران سے امریکی یرغمالیوں کو رہا کرانے میں ناکام ہوگئے ۔ بس پھر کیا تھا، ان کا جو حشر ہونا تھا وہ ہوا۔امریکی ابلاغ کے ذریعوں نے ان کی خوب ایسی تیسی کی۔ یہاں تک کہ یہ الزام بھی لگ گیا کہ وہ جب نازی جرمنی کی فوج میں تھے تو یہودیوں کی نسل کشی میں پیش پیش تھے ، لیکن وہ آدمی تھے ذرا ڈھیٹ اس لئے اپنے عہدے پر جمے رہے اور دوسری مدت پوری کرکے ہی ہٹے۔ امریکہ کا اقوام متحدہ کے بارے میں رویہ کچھ یہ ہے کہ ’ہم یہ فیصلہ کریں گے کہ ہمیں کب عالمی برادری کا ساتھ دینا چاہئے اور کب اپنی مرضی کے مطابق چلنا چاہیے‘۔ اس سے پہلے دوسرے سیکرٹری جنرل آنجہانی ڈاگ ہیمرشولڈ سے بھی امریکہ کو شکایت تھی کہ وہ ’امن مشن‘ اور ’امن فوج‘ کے قیام میں اپنے اختیارات کا استعمال بہت آزادانہ کرتے ہیں۔ بحرحال جناب ہیمرشولڈ کانگو کے بحران کو حل کرنے کے دوران ایک ہوائی حادثے کا شکار ہوگئے ۔ عام خیال یہ تھا کہ ان کی ہلاکت میں سی آئی اے کا ہاتھ تھا۔۔ وللہ عالم باالصواب۔ اس زمانے میں اس طرح کے جتنے الزامات امریکہ کے خلاف لگائے جاتے تھے وہ ہم لوگ آنکھ بند کرکے قبول کر لیتے تھے۔اب اس طرح کے الزامات لگاتے ہوئے یا سنتے ہوئے بھی ڈر لگتا ہے۔ اگرچہ جناب کوفی عنان کو یہ اطمینان ہے کہ امریکہ کے سوا اسے دوسرے اراکین کی اکثریت کی حمایت حاصل ہے اس لئے ان کو اپنے اصولوں پر ڈٹے رہنا چاہیے۔ لیکن میرا ان کو مخلصانہ مشورہ ہے کہ امریکہ سے وہ بہت زیادہ نہ بگاڑیں ، کم از کم اس وقت تک تو نہ بگاڑیں جب تک وہ مضبوط ہے۔ اس لئے کہ زبردست فرد ہو یا ملک، مارتا بھی ہے اور رونے بھی نہیں دیتا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||