BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 28 August, 2004, 06:20 GMT 11:20 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
دودھ میں مینگنی

نئے قائدِ ایوان شوکت عزیز
کیا شوکت عزیز بھی ماضی کے سیاستدانوں کی طرح رہیں گے
جناب شوکت عزیز قائد ایوان بھی منتحب ہوگئے اور سنیچر کو انہوں نے وزیراعظم کے عہدے کا حلف بھی اٹھا لیے۔

جس طرح ان کا انتخاب ہوا اور قومی اسمبلی میں انہوں نے اپنی رکنیت کا حلف اٹھایا اور پھر قائد ایوان کے لئے کاغزات نامزدگی داخل کئے اور ان کی منظوری دی گئی، پھر سابق وزیر اعظم جناب جمالی اور اپنے چودھری شجاعت جس ’عزت آبرو‘ سے مستعفی ہوئے، اس کی مثال بھی پاکستان کی تاریخ میں مشکل سے ملے گی۔

یہ سب بڑی جمہوری اور خوش آئند باتیں ہورہی تھیں کہ اچانک’دودھ میں مینگنی‘ یہ ڈال دی گئی کہ جناب اسپیکر نے حزب اختلاف کے امیدوار مخدوم جاوید ہاشمی کو ایوان میں لانے کی اپیل مسترد کردی جس کی بناء پر حزب اختلاف کے اراکین نے احتجاج کرتے ہوئے انتخاب کا با ئیکاٹ کردیا اور ایوان سے واک آؤٹ کر گئے۔

اب یہ بات بڑی عجیب سی لگتی ہے کہ جب آپ نے مخدوم جاوید ہاشمی کے کاغزات نامزدگی کی منظوری دیدی تھی تو ان کو ایوان میں لانے کا حکم دینے میں کیا قباحت تھی۔

اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ کاغذات نامزدگی ہی غلط منظور کئے گئے تھے۔ اس لئے کہ اگر وہ کہیں وزیر اعظم منتخب ہوجاتے تو پھر کیا ہوتا، کیا پھر بھی انہیں ایوان میں لانے کی اجازت نہیں ہوتی، کیا انہیں جیل میں ہی سڑنے دیا جاتا یا پھر جیل سے ہی حکومت چلانے کی اجازت ہوتی۔

یہ بات کچھ سمجھ میں نہیں آئی کہ ایک شخص کو آپ ملک کا وزیراعظم منتخب ہونے کا موقع تو فراہم کر رہے ہیں اور اسے اس ایوان میں آنے کی اجازت نہیں دے رہے ہیں جس سے وہ اس عہدے کے لئے منتخب ہونا چاہتا ہے۔

جناب اسپیکر نے یہ فیصلہ اگر کسی قانون کی روشنی میں کیا ہے جب بھی میں سمجھتا ہوں کہ کچھ مناسب نہیں تھا اس لئے کہ قانون کی عبارت سے زیادہ اس کی روح کو اگر مد نظر رکھا جائے تو حق و انصاف کے تقاضوں کو زیادہ آسانی سے پورا کیا جاسکتا ہے۔

آزاد اسمبلی کے آزاد سپیکر کا فیصلہ
اب یہ بات بڑی عجیب سی لگتی ہے کہ جب آپ نے مخدوم جاوید ہاشمی کے کاغذات نامزدگی کی منظوری دیدی تھی تو ان کو ایوان میں لانے کا حکم دینے میں کیا قباحت تھی۔

اگر انہوں نے یہ فیصلہ کسی دباؤ میں کیا ہے تو یہ ایک ایسا موقع انہیں ہاتھ آیا تھا جب انہیں یہ ثابت کرنے کی ضرورت تھی کہ ان کے نزدیک ان کے منصب کا احترام ہر دباؤ پر مقدم ہے۔

اگرچہ مجھے یہ یقین کرنے میں کوئی قباحت نہیں کہ جناب اسپیکر ایک آزاد قومی اسمبلی کے ایک آزاد اسپیکر ہیں ، لیکن مجھے یہ کہنے میں بھی کوئی تامل نہیں ہے کہ جناب اسپیکر نے اپنی غیر جانبداری اور خود مختاری ثابت کرنے کا ایک نادر موقع گنوا دیا۔

پاکستانی سیاست کا یہ بڑا المیہ ہے کہ کوئی بھی اپنے آپ کو اپنے سے بڑا ثابت کرنے کی کوشش نہیں کرتا۔ اگر اسکا اسے موقع بھی ملتا ہے تو وہ فوری منفعت کے چکر میں یہ بھول جاتا ہے کہ لوگ اسے آئندہ کس نام سے یاد کریں گے۔

آپ ذرا غور کریں کہ ایوب خان اگر اسکندر مرزا مرحوم کا حکم ماننے سے انکار کردیتے اور کہتے کہ جناب میں آئین کےتحفظ کا پابند ہوں اس کو توڑنے کی جسارت نہیں کر سکتا تو آج انکا اس ملک کی تاریخ میں کیا مقام ہوتا۔
اگر یحی ٰ خان حسب وعدہ انتخابات کے بعد اپنے نافز کردہ لیگل فریم ورک آرڈر کے تحت قومی اسمبلی کا اجلاس بلا لیتے تو عین ممکن ہے ملک نہیں ٹوٹتا اور اگر ٹوٹ بھی جاتا تو وہ کم از کم اتنے بدنام نہیں ہوتے جتنے اب ہیں۔
بھٹو صاحب اگر عوام کے روٹی کپڑے اور مکان کی فراہمی پر ہی توجہ دیتے تو اس ملک کی قسمت بدل سکتے تھے لیکن وہ اقتدار میں آتے ہی اس فیصلے پر عمل پیرا ہوگئے کہ ’ آپ اگر میرے ساتھ ہیں تو واہ واہ ورنہ ہمارے دشمن ہیں‘۔
ضحاءالحق اگر بھٹو کی سزائے موت معاف کردیتے تو مجھے یقین ہے کہ ان کے مخالفین بھی غائبانا انہیں اتنا برا نہیں کہتے جتنا اب کہتے ہیں۔

ضیاء الحق کے بعد جو جمہوری دور آیا اس میں بھی تنگدلی اور چھوٹے پن کا وہی عالم دیکھنے میں آیا جس کا مظاہرہ ان کے پیش رؤ کرتے رہے تھے۔

بے نظیر اقتدار میں آئیں تو انہوں نے نواز شریف کا ناطقہ بند کردیا ، نواز شریف اقتدار میں آئے تو انہوں نے بے نظیر کی ایسی تیسی کردی۔

پرویز مشرف نے اقتدار سنبھالا تو امید بندھی کہ شائد وہ کچھ وسیع القلبی، شجاعت، صداقت اور عدالت وغیرہ کا مظاہرہ کریں گے لیکن پانچ سال ہونے کو آئے ابتک کوئی ایسے آثار دکھائی نہیں دیتے جس سے یہ اندازہ ہو کہ وہ دوسروں سے مختلف ثابت ہوں گے۔

اب شوکت عزیز صاحب کو موقع ملا ہے ۔ دیکھیے کیا گل کھلاتے ہیں ، کچھ سوجھ بوجھ کا مظاہرہ کرتے ہیں یا ’ہر کے کان نمک رفت نمک شد‘ یعنی جو نمک کی کان میں گیا نمک ہوگیا کے مصداق وہی کچھ شروع کردیتے ہیں جو ان کے پیش رو کرتے رہے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد