رویے میں لچک کی ضرورت ہے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے صدر پرویز مشرف اور ان کے وزیرِ خارجہ خارجہ تحسین کے مستحق ہیں کہ انہوں نے پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ اس کی خارجہ پالیسی میں تنوع پیدا کرنے کی کوشش کی ہے اور ان ملکوں کی جانب بھی دوستی کا ہاتھ بڑھایا ہے جن کو اب تک نظرانداز کیا جاتا رہا ہے۔ میری مراد لاطینی امریکہ کے ان ملکوں سے ہے جن کا پاکستان کے صدر مشرف نے حال ہی میں دورہ کیاہے۔ ورنہ بقول شخصے پاکستان کی خارجہ پالیسی اس سے پہلے ’نئی دہلی سے شروع ہوکر واشنگٹن میں ختم ہوجاتی تھی۔‘ یہ بھی ایک اچھی بات ہے کہ ان ملکوں سے تجارت کو فروغ دینے پر سنجیدگی سے غور کیا جارہا ہے اور اس مقصد کے لئے وزارت تجارت میں ایک علیحدہ شعبہ قا ئم کیا جارہا ہے جو لاطینی امریکہ کے ملکوں سے تجارت کو فروغ دینے کے لئے تجاویز اور سفارشات پیش کرےگا۔ ادھر صدر مشرف اور ان کی حکومت سارک کو ایک زیادہ فعال تنظیم بنانے کے لئے بھی جو کچھ کر رہی ہے، اس کی تعریف کئے بغیر بھی نہیں رہا جاسکتا۔ اس سلسلے میں ہندوستان اور پاکستان کے تعلقات ابتک ایک بڑی رکاوٹ بنے رہے ہیں۔ صدر مشرف اور مختلف حکومتوں نے اس کے بارے میں بھی بڑی بردباری اور تحمل کا مظاہرہ کیا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اگر ہندوستان سے تعلقات بہتر بنانے کے لئے پاکستان کو کسی مرحلے پر اپنی مونچھ نیچی کرنی پڑے تو اس سے گریز نہیں کرنا چاہئے۔ اس سے سارک کے دوسرے رکن ملکوں میں پاکستان کی مقبولیت اور وقار میں اضافہ ہوگا اور ہندوستان پر ایک زیادہ مصالحانہ رویے کے لئے دباؤ بڑھے گا۔ تاہم خارجہ پالیسی میں جہاں پرویز مشرف کی حکومت نے نئی جہتیں تلاش کرنے اور بعض معاملات میں جمود توڑنے کی کامیاب کوششیں کی ہیں وہا ں اس کی داخلی حکمت عملی وہی ہے جو پاکستان کی سابقہ حکومتوں کی رہی ہے۔ اور اگر میں یہ کہوں تو بیجا نہیں ہوگا کہ پاکستان میں شروع سے ابتک حکومتوں کایہی وطیرہ رہا ہے کہ وہ غیر ملکوں سے تو اپنے تعلقات بڑی حد تک ٹھیک رکھتی ہیں لیکن ملک کے اندر اپنے مخالفین سے مصالحت پر خاطر خواہ توجہ نہیں دیتیں۔ اس کا سلسلہ لیاقت علی خان سے آج تک جاری ہے۔اس کی ایک مثال مشرقی پاکستان ہے۔ جبتک مشرقی پاکستان ملک کا حصہ تھا اس کے ساتھ وہ سلوک کیا گیا جیسے ایک مقبوضہ علاقے کے ساتھ کیا جاتا ہے اور جیسے ہی علیحدگی اختیار کرکے ایک آزاد ملک ’بنگلہ دیش‘ بن گیا اس سے برابری کی بنیاد پر دوستی اور بھائی چارے کی کوششیں شروع ہوگئیں۔ مرحوم ذوالفقار علی بھٹو نے عالم اسلام کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے کی جو کوششیں کیں اس سے کون انکار کرسکتا ہے۔ لیکن بلوچستان میں مخالفین کی سرکوبی میں فوج کشی سے بھی دریغ نہیں کیا اور جب تک برسراقتدار رہے حیدر آباد سازش کا مقدمہ چلاتے رہے۔ اپنے ضیاء الحق محوم کا بھی یہی عالم تھا کہ افغان عوام کےحقوق کے تحفظ کے لئے تو جان کی بازی لگادی لیکن ملک کے اندر مخالفین کو کوڑے اور قیدو بند کی سزاؤں سے نوازتے رہے۔ یہاں تک کہ ایک منتخب وزیراعظم کی سزائے موت کو معاف کرنے کے لئے بھی تیار نہیں ہوئے۔ یہی حال اپنی محترمہ بینظیر اور نواز شریف کا رہا کہ ایک دوسرے کو زک پہنچانے اور نیچا دکھانے کے لئے کیا کیا جتن نہیں کئے اور باقی دنیا سے ہاتھ ملانے کے لئے سرگرداں رہے۔ مشرف صاحب اور ان کے وزیر خارجہ خورشید قصوری اس بات سے یقیناً اتفاق کریں گے کہ کسی بھی ملک کی خارجہ پالیسی اس ملک کی داخلہ پالیسی کی توسیع ہوتی ہے اور اسی وقت موثر ہوتی ہے جب ملک میں سیاسی استحکام ہو اور ملک میں سیاسی استحکام اس وقت پیدا ہوتا ہے جب وہاں آئین اور قانون کے تقدس کا احترام کیا جائے اور حزب مخالف کے مطالبات کو بھی اس کے صحیح تناظر میں دیکھا جائے۔ میں سمجھتا ہوں کہ صدر مشرف دوسرے ملکوں سے تعلقات بڑھانے کی جتنی کوشش کر رہے ہیں ، ملک میں حزب اختلاف سے مصالحت کرنے پراتنی توجہ نہیں دے رہے ہیں۔ اس سلسلے میں کچھ افواہیں اس طرح کی ضرور گشت کر رہی ہیں کہ صدر مشرف کی حکومت حزب اختلاف کی مختلف جماحتوں کے رہنماؤں سے رابطے میں ہے اور اس کے کچھ مثبت نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ تاہم حزب اختلاف کی جماعتوں کی جانب سے اس کی تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔ وہ غالباً اس کا بر سرعام اعتراف کرتے ہوئے گھبرا رہے ہیں یا ممکن ہے یہ رابطے اتنے ابتدائی مرحلے میں ہوں کہ ان کے بارے میں کچھ کہنا قبل ازوقت ہو۔ بہر حال اگر حزب اختلاف کے رہنماؤں سے یہ بات چیت ہورہی ہے تو صدر مشرف اور ان کے ساتھیوں کو ذرا فراخدلی کا مظاہرہ کرنا پڑے گا اور ان کے ایسے مطالبات تو بہرحال تسلیم کر لینے چاہئیں جن کو تسلیم کرائے بغیر اگر حزب اختلاف نے مصالحت کی تو ان کو سبکی محسوس ہوگی۔ اس میں سب سے بڑی رکاوٹ جنرل مشرف کی وردی ہے۔ اگرچہ اس سلسے میں پارلیمنٹ سے قانون کی منظوری بھی حاصل کرلی گئی ہے اور انہوں نے بھی یہ کہ دیا ہے کہ وہ 31 دسمبر کے بعد بھی وردی اتارنے کا ارادہ نہیں رکھتے لیکن اگر وہ حزب اختلاف سے واقعی مصالحت چاہتے ہیں تو انہیں اپنے رویے میں لچک پیدا کرنے پڑے گی۔ دوسرا مسئلہ سیاسی قیدیوں کی رہائی اور بعض جلاوطن سیاسی رہنماؤں کی واپسی کا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ان مسئلوں کے بارے میں بھی صدر مشرف اور ان کے ساتھی تھوڑی سی لچک کا مظاہرہ کریں تو بڑے کام نکل سکتے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||