’علامہ اقبال مفکر پاکستان نہیں تھے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
یہ جو ہفتہ گزرا ہے، میرے نزدیک اس اعتبار سے خصوصی اہمیت کا حامل تھا کہ اس میں ایک ساتھ ایسے بہت سے واقعات ہوگئے جن میں سے کسی ایک کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ۔ ایک تو یہ کہ اس ہفتے میں یوم علامہ اقبال منایا گیا اور اسی عقیدت اور احترام سےمنایا گیا جیسے ہر سال منایا جاتا ہے۔ اس موقع پر بہت سارے مذاکرے اور سیمینار ہوئے اور مختلف ٹی وی چینل پر خصوصی پروگرام پیش کیے گئے۔ ان میں سے ایک پروگرم دیکھنے سے اندازہ ہوا کہ علامہ مفکر پاکستان نہیں تھے اور جمہوریت سے بھی انکو کوئی علاقہ نہیں تھا۔ میں نے بھی ان پروگراموں سے متاثر ہو کر علامہ کے اردو کلام پر مبنی ایک کلیات خرید ڈالی جس میں مشکل الفاظ اور تراکیب کے معنی بھی دیئے گئے ہیں۔ اب میں ان کے کلام کو پڑھ کر یہ تو فیصلہ نہیں کرسکتا کہ وہ مفکر پاکستان تھے یا نہیں یا فلسفی بڑے تھے یا شاعر، لیکن ایک بات کسی حد تک وثوق سے کہ سکتا ہوں اور وہ یہ کہ علامہ مولوی کے بڑے کٹر مخالف تھے جن کی پاکستان میں آج کل بڑی ریل پیل ہے اور جناب پرویز مشرف اگر علامہ کی کلیات میں سے وہ اشعار نکلوا کر شائع کرادیں جو انہوں نے مولویوں کے بارے میں لکھے ہیں تو متحدہ مجلس عمل کا تو کام ہوجائے گا۔ اب یہ دوسری بات ہے کہ متحدہ والے بھی کچھ ایسے اشعار ڈھونڈ نکالیں جو جناب مشرف کو وردی اتارنے پر مجبور کردیں، اس لیے کہ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ علامہ کے یہاں تضاد بہت ہے، ہر ایک کو اپنے مطلب کا شعر مل جاتا ہے۔ واللہ عالم باالثواب ۔ ادھرفلسطینی رہنما یاسر عرفات کو جن کا گزشتہ دنوں پیرس کے ایک فوجی اسپتال میں انتقال ہو گیا تھا جمعہ کے روز رملہ میں سپرد خاک کردیا گیا اور اسی احاطے میں کیا گیا جس میں وہ تقریباً تین سال سے نظربند تھے۔ ان کو خراج عقیدت پیش کرنے کی سرکاری رسومات اور نماز جنازہ مصری دارالحکومت قاہرہ میں اعلیٰ ترین فوجی اعزاز کے ساتھ ادا کی گئیں۔ ان میں بیشتر ملکوں کے نمائندے شریک ہوئے۔ یہاں تک کے امریکہ نے بھی اپنے ایک اسسٹنٹ خارجہ سیکریٹری کو بھیجا تھا اور کویت اور سعودی عرب اور دیگر خلیجی ریاستوں نے بھی اس موقع پر اپنی نمائندگی ضروری سمجھی جب کہ پہلی خلیجی جنگ کے بعد سے وہ جناب عرفات سے ناراض چلی آرہی تھیں، جس میں انہوں نے صدام حسین کی کھلم کھلا حمایت کی تھی۔ صرف ایک اسرائیل ایسا ملک ہے جس کا کوئی نمائندہ اس موقع پر دکھائی نہیں دیا بلکہ ان کے ایک وزیر نے تو جناب عرفات کی موت کا خیرمقدم کرتے ہوئے یہ بھی فرمادیا ’اچھا ہوا دنیا کو ان سے نجات مل گئی‘۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ دنیا کو یاسر عرفات سے ’نجات‘ مل گئی بلکہ میں تو یہ کہوں گا کہ جناب عرفات کو اپنے آپ سے بھی نجات مل گئی اس لیے کہ اپنے وطن کو آزاد کرانے کے کرب میں وہ گزشتہ چالیس سال سے مبتلا تھے اور اگر زندہ رہتے تو پتہ نہیں اور کتنے دن اس کرب میں مبتلاء رہتے، لیکن اسرائیل کے حکمرانوں کو ، جن میں وزیر موصوف بھی شامل ہیں ان سےنجات ملی یا نہیں اس کے بارے میں بھی کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔ جن رہنماؤں نے ان آخری رسومات میں حصہ لیا ان میں بیشتر مرحوم کے ہم عصر تھے۔ اور ان کو جناب عرفات کی دوستی پر ناز بھی تھا اور یہ بڑی بات ہے۔ یہ دوسری بات ہے کہ انہوں نے کل جس یکجہتی کا مظاہرہ کیا اگر فلسطین کی آزادی کے لیے بھی اسی یکجہتی اور خلوص کا مظاہرہ کرتے تو ممکن ہے فلسطین ابتک آزاد ہو چکا ہوتا۔ بہر حال مصر کے جمال عبدالناصر اور اُم کلثوم کے انتقال پر عربوں نے جس دکھ کا مظاہرہ کیا تھا اس کے بعد شاید عرفات مرحوم پہلے شخص ہیں جن کے لیے عربوں نے آنسو بہائے ہیں اور یہ بڑی بات ہے۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ جناب عرفات کی وفات سے جو خلاء پیدا ہوا ہے اس کو پر کرنا بہت مشکل ہے۔ میں اس سے اتفاق نہیں کرتا میرے خیال میں ممکن ہے فلسطینیوں کو جناب عرفات کے قد و قامت کا کوئی رہنما نہ ملے لیکن جب تک اسرائیل میں ایریئل شیرون جیسے حکمران موجود ہیں فلسطینی تحریک کی شدت میں کمی آنے کا امکان کم ہی نظر آتا ہے۔ ادھر عراق میں امن و مان کی صورتحال امریکہ کے صدارتی انتخاب کے بعد اور بگڑ تی نظر آرہی ہے۔ میں سمجھتا تھا کے صدر بش کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد شورش پسندوں کے حوصلے پست ہو جائیں گے لیکن یوں محسوس ہوتا ہے جیسے انہیں یا تو صدارتی انتخاب کے نتائج کی پرواہ ہی نہیں ہے یا پھر انہوں نے اپنی کشتیاں جلا ڈالی ہیں۔ ادھر امریکی فوج کی کامیابیوں کا یہ عالم ہے کہ پہلے انہوں نے سمارا کو خالی کرایا اور اس پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے کا دعویٰ کیا تھا ، وہاں گزشتہ دنوں شورش پسندوں نے ایک ہی دن میں تابڑ توڑ حملے کرکے کوئی بیس افراد کو ہلاک کردیا۔ اب فلوجہ کو پاک صاف کرنے کی مہم شروع کی گئی ہے۔ اور کوئی 72 گھنٹے سے یہ دعویٰ کیا جارہا ہے کہ آئندہ چوبیس گھنٹے میں پورے شہر پر قبضہ ہوجائے گا دیکھیے یہ چوبیس گھنٹے کب پورے ہوتے ہیں۔ اس ہفتے ایک بات یقیناً بہت اچھی ہوئی ہے اور وہ یہ کہ ہندوستانی وزیراعظم جناب من موہن سنگھ نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس سال موسم سرما میں اپنے زیرانتظام کشمیر میں ہندوستانی فوجیوں کی تعداد کم کریں گے۔ ان کے اس بیان سےکشمیری رہنما تو کچھ زیادہ خوش نظر نہیں آتے لیکن پاکستانی حکومت نے اس کا خیرمقدم کیا ہے۔ پاکستان کے وزیراعظم جناب شوکت عزیز کے ہندوستان کے دورے سے قبل اس طرح کے اعلان سے دونوں ملکوں میں بات چیت کے لیے ماحول اور سازگار ہوگا اور مذاکرات کے عمل کو آگے بڑھانے میں یقینی مدد ملے گی۔ اب یہ نہ ہو کہ فوجیوں کی تعداد کم کرنے کے نام پر صرف افسروں کے ’بیٹ مینوں یعنی فوجی خدمتگاروں‘ کو چھٹی پر بھیج دیا جائے اور جو اصل لڑاکے فوجی ہیں ان کی تعداد جو کی توں رہے۔ مجھے امید ہے کہ جناب من موہن سنگھ کے بیان پر لغوی اور معنوی اعتبار سے عمل کیا جائے گا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||