BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 09 October, 2004, 11:33 GMT 16:33 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جمہوریت براستہ پینٹاگون

صدر جارج بش
صدر بش کو عراق پالیسی کا دفاع کرنے میں مشکل
امریکہ کے صدارتی امیدواروں کے درمیان دوسرا مباحثہ دیکھنے اور سننے کا اتفاق ہوا، کون جیتا کون ہارا، یہ فیصلہ تو بہرحال امریکی عوام کریں گے لیکن اس مباحثے اور اس سے پہلے والے مباحثے کو دیکھنے سے یہ اندازہ ضرور ہوتا ہے کہ عراق سے متعلق صدر بش کو اپنی پالیسی کا دفاع کرنے میں مشکل پیش آ رہی ہے، جبکہ سینیٹر جان کیری کی تمام تر کوشش یہ ہوتی ہے کہ وہ پوری بحث کو اس مسئلے پر ہی مرکوز رکھیں اور کسی طرح امریکی ووٹروں کو یہ باور کرا دیں کہ صدر بش پر امریکی عوام کی قیادت کے لئے اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔

سینیٹر کیری یہ باور کرانے میں کامیاب ہوگئے تو صدر بش کے لئے مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں اس لئے کہ دنیا کے تمام مہذب ملکوں میں سربراہ حکومت کے خلاف عوام کو گمراہ کرنے یا ان سے وعدہ خلافی کرنے کے الزامات ان کی سیاسی موت کے مترادف ہوتے ہیں۔

میرے خیال میں سینیٹر کیری کی اس کوشش کو ناکارہ بنانے کی واحد ترکیب یہ ہے کہ صدر بش اس معاملے میں جی کڑا کر کے ایک بار اپنی غلطی کا اعتراف کر ہی لیں تو یہ روز روز کی سبکی سے نجات مل جائے گی۔ لیکن ان بڑے لوگوں کا یہ بھی مسئلہ ہوتا ہے کہ یہ چاہتے ہوئے بھی برسرعام اپنی غلطی کا اعتراف نہیں کر سکتے۔

بہرحال یہ بڑے ملکوں اور بڑی قوموں کی بات ہے جو اپنے مسائل سے نمٹنا جانتے ہیں۔ مجھے افغانستان کے صدارتی انتخاب سے زیادہ دلچسپی ہے جو سنیچر کو ہو رہے ہیں۔

ان انتخابات میں میری دلچسپی کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ غالباً دوسری جنگ عظیم کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ امریکہ کسی ملک میں جمہوریت لانے کی کوشش کر رہا ہے ورنہ اس سے پہلے تک تو اس نے صرف اپنے ملک میں جمہوریت کی حفاظت کی ہے باقی ملکوں، بالخصوص نوآزاد ملکوں میں تو اس نے دانستہ یا نادانستہ طور پر، آمریت، شہنشاہیت اور مطلق العنانیت کو ہی فروغ دیا ہے۔

بعض لوگوں کا خیال ہے کہ امریکہ ان دونوں ملکوں (افغانستان اور عراق) میں جمہوریت نہیں، جمہوریت کے نام پر اپنا تسلط قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے، میں ان لوگوں سے اختلاف تو نہیں کرتا لیکن اب اگر ان ملکوں کی قسمت میں یہی لکھا ہے کہ وہاں امریکی تسلط والی حکومت کے ذریعے ہی امن اور جمہوریت قائم ہو تو خیر مقدم کرنا ہی پڑے گا۔

بالخصوص پاکستانیوں کو دعا کرنی چاہئے کہ وہاں کسی شکل میں بھی امن قائم ہوجائے، اس لئے کہ جب سے یہ قضیہ شروع ہوا ہے، اس کا وہاں کیا اثر ہوا یہ تو افغانی بتائیں گے لیکن پاکستان میں وہ ساری لعنتیں آ گئیں جو ایک معاشرے کو گھن کی طرح چاٹ جاتی ہیں، فرقہ بندی، تنگ نظری، دہشت گردی، مذہبی کٹر پن اور ناجائز اسلحہ کی ریل پیل جس کے نتیجے میں پاکستان کے وہ شہر بھی جو امن کا گہوارہ تصور کئے جاتے تھے گزشتہ پچیس سال سے مار دھاڑ اور قتل و غارتگری کے مرکز بنے ہوئے ہیں۔

اب دیکھئے سیالکوٹ کی راجہ روڈ پر امام بارگاہ مستری عبداللہ کے سامنے گزشتہ جمعہ کو بم دھماکے سے ہلاک اور زخمی ہونے والوں کے خون کے دھبے ابھی مندمل نہیں ہوئے تھے کہ ملتان کی رشیدیہ کالونی میں جامع مسجد رشیدیہ کے قریب جمعرات کو ایک اور دھماکہ ہو گیا اور تقریباً چالیس افراد ہلاک ہو
گئے، زخمیوں کی تعداد بھی سو کے لگ بھگ ہے۔

مجھے خطرہ صرف یہ ہے کہ جمہوریت کے قیام کی اس کوشش کا بھی وہی حشر نہ ہو جو سوویت افواج کی واپسی کے بعد مجاہدین کی حکومت کے قیام کا ہوا تھا، یعنی وہ تمام تنظیمیں جو اسلام کے نام پر سوویت افواج سے نبردآزما تھیں وہ ان سے نجات حاصل کرتے ہی آپس میں کتے خصی ہوگئیں اور پھر جو مناظر دیکھنے میں آئے ان کی مثال ماضی قریب میں تو مشکل سے ہی ملے گی۔

سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ امریکی اور اس کی اتحادی افواج نے افغانستان پر قبضہ تو کر لیا اور وہاں کا آئین بھی بنوا دیا اور اب انتخابات بھی کرا رہے ہیں لیکن وہاں جو قبیلہ واری سماج ہے اس سے نجات دلانے میں ناکام رہے ہیں بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ اس سے سمجھوتا کرنے پر مجبور ہیں تو یہ غلط نہیں ہوگا۔

ایسی صورت میں اگر وہاں انتخاب کے نتیجے میں کوئی صدر منتخب ہو بھی جائے تو کیا یہ ممکن ہو گا کہ وہ رشید دوستم، محمد عطا اور اسمعٰیل خان جیسے سرداروں کو راضی کئے بغیر ملک کا نظم و نسق چلا سکے۔ اور اگر ان سرداروں پر کوئی حکومت مسلط کرنے کی کوشش کی گئی تو عین ممکن ہے کہ ملک ایک بار پھرنسلی اور لسانی بنیاد پرخانہ جنگی کا شکار ہوجائے اس لئے کہ کابل میں بننے والی کوئی بھی حکومت اتنی طاقتور شائد ہی ہو جو از خود اپنے احکامات تمام صوبوں میں نافذ کرا سکے۔

اسے ان قبائیلی اور علاقائی سرداروں کا تعاون بہر حال حاصل کرنا پڑے گا اور اس کے لئے انہیں ہر طرح کی رشوت بھی دینی ہوگی، پوست کاشت کرنے کی رشوت، اپنی نجی ملیشیا رکھنے کی رشوت اور اپنے علاقے پر اپنی مرضی کی انتظامیہ بھی قائم کرنے کی رشوت۔ اس لئے کہ فوجی طاقت سے لوگوں کو زیر تو کیا جا سکتا ہے ان کی ثقافت اور مزاج کو اتنی آسانی سے نہیں بدلا جا سکتا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد