BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 02 October, 2004, 10:39 GMT 15:39 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’امن کی بھیک دو‘

تشدد کے بعد سیالکوٹ میں سیکیورٹی کےسخت انتظامات
تشدد کے بعد سیالکوٹ میں سیکیورٹی کےسخت انتظامات
دنیا میں یوں لگتا ہے کہ اللہ میاں نے موت کے فرشتے کو اختیار دیدیا ہے کہ جس کو دل چاہے اور جیسے دل چاہے مارے اور اپنی مدد کے لئے کچھ فوجیوں کو، کچھ انتہا پسندوں کو، کچھ فرقہ پرستوں اور تنگ نظروں کو بھرتی کرلے اور وہ یہ کام، بخیر و خوبی انجام دے رہا ہے۔ ایک دن میں سمارہ سے سیالکوٹ تک اتنے سارے لوگوں کو یوں موت کے گھاٹ اتارنے کی اور کوئی وجہ سمجھ میں نہیں آتی۔

اگرچہ پاکستان کے وزیر اطلاعات جناب شیخ رشید صاحب نے خیال ظاہر کیا ہے کہ عین ممکن ہے کہ دہشت گردوں نے اپنے ایک حالیہ ساتھی کی ہلاکت پر ردعمل کے طور پر سیالکوٹ کی اس مسجد کو نشانہ بنایا ہو۔ ان کے خیال میں دوسری وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ صدر پرویز مشرف کے حالیہ غیرملکی دورے کی کامیابی کے تاثر کو زائل کرنے کے لئےدہشت گردوں نے یہ کارروائی کی ہو۔

اب شیخ صاحب کی یہ بات تسلیم کرلی جائے تو جب کوئی دہشت گرد مارا جائے تو یہ توقع کرنی چاہئے کہ اب کسی مسجد پر حملہ ہونے والا ہے یا پھر یہ کہ جناب صدر جب کسی غیر ملکی دورے پر جائیں تو لوگوں کو اپنے بچاؤ کی صورت کرلینی چاہئے اس لئے کہ صدر کا دورہ تو بہر حال کامیاب ہوگا۔ شیخ صاحب یوں تو مزیدار آدمی ہیں لیکن انہیں بزرگوں کی اس نصیحت پر بھی عمل کرنا چاہئے کہ ’پہلے تولو پھر بولو‘۔

ادھر صدر بش بھی عراق میں بڑھتے ہوئے تشدد کی کچھ ایسی ہی توجیہہ کرتے ہیں۔ مثلاً یہ کہ جوں جوں انتحاب کے دن قریب آتے جائیں گے تشدد بڑھتا جائے گا اس لئے کہ دہشت گرد انتحابات کے عمل کو ناکام بنانا چاہتے ہیں۔ یہ صورتحال امریکی حکومت کے لئے ممکن ہے بہت زیادہ پریشانی کا سبب نہ ہو اس لئے کہ وہ لڑنے مرنے کا تجربہ رکھتی ہے اور اسے اندازہ ہے کہ ایک ملک میں ’امن اور جمہوریت‘ قائم کرنے میں کتنے دن لگتے ہیں، لیکن اس صورتحال سے اس کے چاہنے والوں یا ان لوگوں کو یقینی مایوسی ہوتی ہوگی جو یہ سمجھتے ہیں کہ امریکہ دنیا کی سب سے بڑی طاقت ہے اور اس کی حکم عدولی کرنا بیوقوفی ہوگی۔

ادھر اس صورتحال سے یہ تاثر بھی پیدا ہوتا ہے کہ ایک طاقتور فوج ایک کمزور فوج کو تو بڑی آسانی سے زیر کرلیتی ہے لیکن عوام اگر مزاحمت پر اتر آئیں تو پھر کتنا ہی طاقتور ملک یا فوج ہو اس کے لئے ان کو زیر کرنا خاصہ مشکل ہوجاتا ہے۔

عراق میں تشدد میں اضافہ ہوتا جارہا ہے
عراق میں تشدد میں اضافہ ہوا ہے

میں یہ باتیں امریکیوں اور ان کے اتحادیوں کو ڈرانے کے لئے نہیں کہہ رہا ہوں۔ میرے کہنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ امریکی حکومت نے عراق میں امن اور جمہوریت کے قیام کا جو بیڑا اٹھایا ہے اس کے حق میں وہ عراقی عوام کو قائل کرنے میں اب تک ناکام رہی ہے، اور یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ جب تک عراقی عوام کی حمایت حاصل نہیں ہوگی امریکہ وہاں اپنے مقاصد حاصل نہیں کرسکتا۔ لوگ یوں ہی مرتے رہیں گے، عراقی بھی، امریکی بھی۔ بوڑھے بھی جوان بھی ، بچے بھی اور عورتیں بھی۔

اس میں کوئی شک نہیں کے مرنے والوں میں عراقیوں کی تعداد امریکیوں کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے لیکن اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو ایک دن تو ایسا آئے گا جب امریکیوں کی تعداد ’پچاس ہزار‘ سے زیادہ ہوجائے گی جیسے ویتنام میں ہوا تھا، پھر اس وقت عزت و آبرو سے واپسی کے امکانات بھی مسدود ہو جائیں گے، اور عین ممکن ہے وہ نوبت آجائے کہ پھر اپنے سفارتخانے کی چھت پر سے بے پناہی کے عالم میں ہیلی کاپٹروں کے پہیوں سے لپٹ لپٹ کر بھاگنا پڑے۔

میں سمجھتا ہوں کہ امریکی حکومت کو اس دن کا انتظار نہیں کرنا چاہئے۔ اسے یہ سمجھ لینا چاہئے کہ اب اسکا مقابلہ صدام حسین کی افواج سے نہیں بلکہ عراق کے عوام سے ہے اور اس کے مطابق صورتحال سے نمٹنے کی ترکیب کرنی چاہئے۔ پھر یہ بھی دیکھنا چاہئے کہ عراق سے متعلق اس کے دوستوں کی تعداد کم ہو رہی ہے اور جو اب تک اس کی دوستی کا دم بھر رہے ہیں وہ بھی اپنے اپنے ملکوں میں ایک مشکل صورتحال سے دو چار ہیں۔

بلیئر کو تاریخ کیسے یاد رکھے گی؟
بلیئر کو تاریخ کیسے یاد رکھے گی؟

اپنے ٹونی بلیئر صاحب کو ہی لے لیجئے، وہ اپنی پارٹی کے حامیوں سے کچھ اتنے پریشان ہیں کہ امریکی پالیسیوں کی حمایت میں بہت دنوں سے ان کا کوئی بیان نہیں آیا ہے اور عراقی اسلحہ سے متعلق اپنی انٹیلیجنس کی رپورٹوں پر معافی بھی مانگنے پر مجبور ہوچکے ہیں۔

آسٹریلیا کے وزیراعظم کو جن مشکلات کا سامنا ہے اس سے بھی بش صاحب واقف ہونگے۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل جناب کوفی عنان جو اب تک خاموش تھے وہ بھی گزشتہ دنوں اس امریکی کارروائی کوخلاف قانون قرار دے چکے ہیں۔

ایسی صورت میں بہتر ہوگا کہ صدر بش معاملات کو اقوام متحدہ کے حوالے کریں اور اپنی اور اپنے اتحادیوں کی فوجوں کو نہ صرف عراق بلکہ مشرق وسطیٰ سے واپس لے جائیں تاکہ دنیا میں ان لوگوں کو تو تھوڑا سا سکون ملے ’جنہیں حسن سے بھی لگاؤ ہے اور زندگی بھی عزیز ہے‘۔

آپ یقین مانیں کہ اخبارات میں شائع ہونے والی تصویروں اور ٹیلی ویژن کے پردوں پر سراسیمہ بچوں، بین کرتی ہوئی عورتوں اور خون میں لت پت لاشوں کو دیکھتے دیکھتے ہمارے جیسے لوگ، جنہوں نے اپنی جنت کی تعمیر کے لئے اللہ میاں سے مئے کے ایک قطرے، ایک زلف اور ایک ستارے سے زیادہ کچھ نہیں مانگا ، وہ بھی اب اس دنیا سے کچھ بیزارسے ہوتے جا رہے ہیں۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد