اسامہ کا ویڈیو، پاکستان کا’ کردار‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جناب اسامہ بن لادن کا ایک اور ویڈیو آگیا ہے جو اگرچہ ایک خاصے طویل عرصے کے بعد آیا ہے لیکن اس اعتبار سے خاصہ اہم ہے کہ اس میں انہوں نے پہلی مرتبہ یہ اعتراف کیا ہے کہ گیارہ ستمبر ان ہی کی کارستانی تھی اور یہ کہ وہ اسطرح کے اور حملے کریں گے۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ اس سے اس بات کی تصدیق ہوجاتی ہے کہ جناب اسامہ ابھی تک زندہ ہیں اور اس بات کی بھی تصدیق ہوجاتی ہے کہ صدر بش ان سے نمٹنے میں ناکام رہے ہیں۔ اس سے ان کی انتخابی مہم پر مضر اثرات مرتب ہونگے۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ اس نئے ویڈیو میں جو یہ اعتراف کیا گیا ہے کہ گیارہ ستمبر کا حملہ اسامہ ہی کے ایما پر کیا گیا تھا اور وہ اسطرح کے حملے جاری رکھیں گے اس بات کا ثبوت ہے کہ دہشت گردی سے متعلق صدر بش کی پالیسی صحیح ہے اور اس سے ان کی انتخابی مہم کو تقویت پہنچے گی۔ میں اس تناظر میں جناب اسامہ کی دھمکی کو نہیں دیکھتا، میں تو صرف یہ جانتا ہوں کہ اگر یہ ویڈیو ان کا ہی ہے اور وہی گیارہ ستمبر کے حملے کے ذمہ دار ہیں تو انہوں نے ایسا کرکے بہت برا کیا اور اگر اس طرح کے مزید حملے کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں تو یہ اور بھی برا کریں گے۔ اس لیے امریکی اور دوسری مغربی حکومتوں سے ان کو جو شکایتیں ہیں وہ ممکن ہے صحیح ہوں لیکن ایسے حملوں میں جو معصوم لوگ مارے جاتے ہیں وہ میرے نزدیک ایک گناہ ہے اور ایسا گناہ جس کی سزا بھی گناہ کرنے والے کو نہیں ملتی بلکہ ان لوگوں کے پسماندگان کو ہی بھگتنی پڑتی ہے جو ان حملوں کا شکار ہوتے ہیں۔ ممکن ہے ان کو میری یہ بات بہت بچگانہ لگے لیکن مجھے بھی ان کی یہ بات بہت بچگانہ لگتی ہے کہ ناراض وہ امریکی حکومت سے ہیں سزا دے رہے ہیں عام لوگوں کو جو نہ تین میں ہیں نہ تیرہ میں۔ ادھر جناب اسامہ کے اس ویڈیو کے نشر ہونے سے اور کچھ ہو یا نہ ہو ، ان کو ڈھونڈنے کے لیے، ہمیشہ کی طرح ، پاکستان پر امریکی حکومت کا دباؤ اور بڑھ جائے گا اور کچھ اسطرح کا بیان آئے گا کہ پاکستان اس سلسلے میں ’نمایاں کردار‘ ادا کرسکتا ہے۔ میں یہ بات اس لیے کہ رہا ہوں کہ حال ہی میں اخباری اطلاعات کے مطابق افغانستان میں امریکی سفیر جناب زلمے خلیلزاد نے کہا ہے کہ پاکستان ، افغانستان میں اچھے طالبان تلاش کرنے اور انہیں جناب کرزئی کی حکومت کے ساتھ تعاون پر آمادہ کرنے میں ایک نمایاں کردار ادا کرسکتا ہے۔ آپ غور فرمائیں کہ پاکستان آج تک افغانستان سے ڈیورنڈ لائن کو دونوں ملکوں کے درمیان سرحد تو نہیں منوا سکا لیکن وہاں امریکہ کے ایما پر کتنی بار کتنے ’نمایاں کردار‘ ادا کرچکا ہے۔ جب سابق سوویت یونین نے افغانستان میں دراندازی کی تو پاکستان نے امریکہ کے کہنے پر ایک نمایاں کردار ادا کرتے ہوئے وہاں سویت قبضے کے خلاف مزاحمت کو ہوا دی اور اس کی دام درمے سخنے مدد بھی کی اور مزاحمت کاروں کی فوجی تربیت کا بیڑا بھی اٹھایا، اور اسی کی پوری دہائی یہ نمایاں کردار ادا کرتےگزرگئی۔ پھر جب سویت افواج واپس چلی گئیں اور افغانستان کے اس وقت کے صدر نجیب اللہ نے پاکستان کی حکومت کو پیغام بھجوایا کہ جناب اب سویت افواج چلی گئی ہیں خانہ جنگی ختم کرانے اور ایک قومی حکومت بنانے میں ہماری مدد کیجئے تو پاکستان کے لیے یہ زریں موقع تھا کہ وہ افغانستان سے ڈیورنڈ لائن کو سرحد تسلیم کراتا اور وہاں ایک دوست حکومت کے قیام کے ذریعے اپنی مغربی سرحد کو محفوظ کرتا۔ لیکن جناب پھر اسے امریکی حکومت کے ایما پر ’نمایاں کردار‘ ادا کرنا پڑا۔ یہاں تک کہ جناب نجیب اللہ کی تکہ بوٹی ہوگئی اور طالبان اقتدار میں آگئے۔اس چکر میں اسے ایران کی ناراضگی بھی مول لینی پڑی۔ ادھر زیادہ دن نہیں گزرے تھے کہ طالبان اور القاعدہ نے امریکہ کو ہی للکارنا شروع کردیا یہاں تک کہ معاملہ گیارہ ستمبر تک پہنچ گیا اب پھر پاکستان کو ایک نمایاں کردار ادا کرنے کی ہدایت کی گئی۔ اور پاکستان نے یہ نمایاں کردار بھی بخیر و خوبی انجام دیا بلکہ دے رہا ہے۔ یہاں تک کہ اس کے اپنے قبائلی علاقوں میں بھی میدان کارزار گرم ہوتا دکھائی دے رہا ہے اور روز ایک دو پاکستانی فوجیوں یا ’شرپسندوں‘ کی ہلاکتوں کی خبریں آجاتی ہی۔ اب پھر ایک بار اس سے ایک اہم کردار ادا کرنے کی درخوست کی جارہی ہے، اب کے جیسے کہ میں نے پہلے عرض کیا درخواست یہ ہے کہ اچھے، نیک اور صالح طالبان ڈھونڈو، ان سے ان کے کیے کی معافی منگواؤ اور انہیں جناب کرزئی کی حکومت سے تعاون پر آمادہ کرو۔ ظاہر ہے پاکستان کو طالبان کو دوست بنانے کا یہ ’اہم کردار‘ تو اسی طرح ادا کرنا پڑے گا جیسے اس نے طالبان کو دشمن بنانے کا کردار ادا کیا تھا۔ لیکن میری پاکستان کی حکومت سے یہ ایک درخواست ہے کہ وہ اس کردار کی ادائیگی کے دوران اپنے مفادات کا بھی تھوڑا بہت خیال رکھے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ یہ نمایاں کردار ادا کرتے کرتے ایسےحالات سے دوچار ہوجائے جو اسے، خدا نا خواستہ ،غیر نمایاں کرنے کا سبب بن جائیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||