وردی: فیصلہ مشرف کریں گے یا فوج | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اکتیس دسمبر جوں جوں قریب آرہا ہے پاکستانی سیاست میں غیر یقینی بڑھتی جارہی ہے اور اس بے یقینی کو پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما جناب آصف زرداری کی رہائی اور ان خبروں سے اور تقویت ملی ہے کہ صدر مشرف کا سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف سے بھی رابطہ ہوا ہے۔ کبھی یہ سننے میں آتا ہے کہ آصف زرداری کی رہائی ایک سودے بازی کے تحت ہوئی ہے جس کا مقصد حزب اختلاف کے اتحاد اے ۔ آر۔ ڈی کو کمزور کرنا ہے۔ بعض کا کہنا ہے کہ پاکستان کے موجودہ چیف جسٹس جناب ناظم حسین صدیقی فرائض منصبی کی ادائیگی میں بڑے سخت واقع ہوئے ہیں اور کسی کی سنتے ونتے بھی نہیں ہیں اس لیے سپریم کورٹ سے جناب زرداری کی ضمانت پر رہائی متوقع تھی۔ لیکن ان کی رہائی سے کچھ دنوں پہلے مسلم لیگ کے بعض رہنماؤں کے جو بیانات آئے تھے ان کا جائزہ لیا جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ جناب زرداری کے بارے میں سپریم کورٹ کے فیصلے سے پہلے ہی سرکاری حلقوں میں کچھ نرمی کے آثار دکھائی دیے جانے لگے تھے۔ اب یہ بھی اندازہ لگانا بڑا مشکل کام ہے کہ اس نرمی کو حکمراں جماعت میں اختلافات کے آثار تصور کیا جائے یا بالغ النظری کی دلیل۔ کچھ لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ ہندوستان سے مذاکرات ، عالمی دہشت گردی کے لیکن بعض ایسے لوگ بھی ملے جن کا کہنا تھا کہ اب صدر اپنے آپ کو اتنا مضبوط تصور کرتے ہیں کہ آصف زرداری کی رہائی ہو یا نواز شریف کی واپسی ان کی ذات پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔
بعض لوگوں کا خیال یہ بھی ہے کہ یہ ساری کارروائی متحدہ مجلس عمل کو سیاسی اعتبار سے بے اثر کرنے کے لیے کی جارہی ہے ۔ یوں لگتا ہے کہ جنرل پرویز مشرف پر لوگوں نے نظریں گاڑی ہوئی ہیں اور ہر آدمی اپنی استطاعت کے مطابق ان کے ہر اقدام کو نت نئے معنی پہنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ افواہوں اور قیاس آرائیوں کے اس دھندلکے میں سے اور کوئی نتیجہ نکالنا تو اتنا آسان نہیں ہوگا لیکن ایک بات کسی حد تک وثوق سے کہی جاسکتی ہے کہ صدر پرویز مشرف نے، پارلیمنٹ سے یہ منطوری حاصل کرنے کے باوجود کہ وہ جتنے دن چاہیں وردی پہن سکتے ہیں، اس کے بارے میں اب تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا ہے۔ وہ اب بھی صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں بلکہ یہ کہیے کہ بساط بچھائے اپنی چالیں چل رہے ہیں اور یہ اندازہ لگا رہے ہیں کہ فریق مخالف کی جانب سے جوابی چال کیا ہوسکتی ہے۔ اس سلسلے میں غیر یقینی اس لیے اور بھی بڑھ گئی ہے کہ یہ نہیں معلوم کے وردی اتارنے کا فیصلہ وہ خود کریں گے یا کو ئی ایسا ادارہ یا تنظیم جو ان سے بھی بالاتر ہے اور ان سے کہہ سکتی ہے کہ جناب صدر اب وقت آگیا ہے کہ آپ اپنی وردی سے سبکدوش ہوجائیں۔ اگر یہ ذاتی فیصلہ ہی ہوگا تو یقیناً بڑا مشکل فیصلہ ہوگا، اس لیے کہ کسی بھی ایسے فیصلہ پر پہنچنا جس کا اطلاق پوری قوم پر ہونا ہو یا جس سے پوری قوم متاثر ہو سکتی ہے اتنا آسان نہیں ہوتا۔ اگر آپ کی نظر سے ایوب خان مرحوم کی خود نوشت گزری ہے اور آپ کو یہ یقین ہے کہ یہ انہی کی لکھی ہوئی ہے تو آپ کو اندازہ ہوگا کہ انہیں اقتدار پر قبضے کے لیے اپنے آپ کو آمادہ کرنے میں کتنی دقت پیش آئی تھی۔ پھر جب انہوں نے اقتدار سے علیحدگی کا فیصلہ کیا تو وہ بھی یقیناً ایک بڑا مشکل فیصلہ تھا اور بڑی رد و کد اور جانی و مالی نقصان کے بعد کیا گیا تھا۔ جہاں تک جنرل یحیٰ کا تعلق ہے تو میرا خیال ہے انہیں اقتدار تو وراثت میں مل گیا تھا۔ رہی اس سے دست بردار ہونے کی بات تو آپ نے دیکھ لیا کہ یہ فیصلہ انہوں نے کس مجبوری کے عالم میں کیا۔ اپنے جنرل ضیاء نے تو پتہ نہیں بھٹو مرحوم کو اقتدار سے ہٹانے کے بارے میں کیا سوچا تھا اور سوچا بھی تھا یا نہیں لیکن اقتدار سے دستبرداری کے بارے میں ناگہانی موت نے ان کی مشکل آسان کر دی۔ بہر حال جناب مشرف کے اقتدار میں آنے سے متعلق جو کہانیاں اب تک منظر عام پر آئی ہیں ان سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ ان کا ذاتی فیصلہ نہیں تھا بلکہ ان کے ساتھیوں کا تھا۔ اور میں سمجھتا ہوں کہ وردی اتارنے کا فیصلہ بھی وہ یقینی طور پر اپنے دوستوں اور ساتھیوں سے مشورے کے بغیر نہیں کریں گے اس لیے کہ اپنے ضیاءالحق مرحوم کہا کرتے تھے کہ ان کا حلقئہ انتخاب فوج تھی۔ میرا خیال ہے جناب مشرف، مرحوم کی اور باتوں سے اختلاف کریں یا نہ کریں لیکن ان کی اس بات کو تو یقینی تسلیم کرتے ہوں گے کہ پارلیمنٹ سے صدر منتخب ہونے کے باوجود ان کا حقیقی حلقۂ انتخاب فوج ہی ہے اور وہ آئندہ جو بھی کرنے والے ہیں وہ اپنے حلقئہ انتخاب کی مرضی کے بغیر نہیں کریں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||